حکومت فاٹا کو خیبر پختونخوا میں فوری طور پر ضم کرنے کا اعلان کرے، مشتاق احمد خان

فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام اور صوبائی اسمبلی میں نمائندگی کے لئے دستور میں ترمیم قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کرے جماعت اسلامی ساتھ دے گی، اس عمل میں مزید تاخیر نقصان دہ ہے، بیان

جمعہ مئی 23:37

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) امیر جماعت اسلامی سینیٹر مشتاق احمد خان نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت سینیٹ اور قومی اسمبلی کے جاری سیشن میں فاٹا کو خیبر پختونخوا میں فوری طور پر ضم کرنے اور صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دینے کا اعلان کرے۔ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام اور صوبائی اسمبلی میں نمائندگی کے لئے دستور میں ترمیم قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کرے۔

جماعت اسلامی ساتھ دے گی۔ اس عمل میں مزید تاخیر نقصان دہ ہے۔ المرکزالاسلامی پشاور سے جاری کئے گئے بیان میں صوبائی امیر جماعت اسلامی سینیٹر مشتاق احمد خان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت اس ماہ کے آخر تک اپنی آئینی مدت پوری کررہی ہے جبکہ موجودہ قومی اسمبلی کا یہ آخری اجلاس ہے لیکن فاٹا انضمام کا معاملہ ابھی تک التوا کا شکار ہے، حکومت نے پہلے ہی بغیر کسی وجہ کے فاٹا انضمام کے حوالے سے دستوری عمل کو مؤخر کیا ہے،وفاقی حکومت اپنی نااہلی اور نالائقی کی سزا فاٹا کے عوام کو دے رہی ہے۔

(جاری ہے)

قبائلی عوام خیبر پختونخوا میں انضمام چاہتے ہیں ، ان کا مطالبہ جائز ہے، حکومت اس معاملے میں مزید لیت و لعل سے کام نہ لے اور اصلاحات کے نفاذ اور خیبر پختونخوا میں فاٹا کے انضمام کا اعلان کرے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام کو بھی ملک کے باقی شہریوں کی طرح اپنے مسائل کے حل کے لئے اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق حاصل ہونا چاہئے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں فاٹا کے ممبران تو موجود ہیں لیکن علاقے کی ترقی میں انکا کردار نہ ہونے کے برابر ہے،،فاٹا کے سینیٹرز اور ایم این ایز موجودہ نظام ایف سی آر کی وجہ سے اپنے ہی علاقوں کے لئے قانون سازی نہیں کرسکتے۔

اسی لئے فاٹا کے عوام خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں اپنی نمائندگی چاہتے ہیں تاکہ ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہوں۔ صوبائی اسمبلی میں نمائندگی سے فاٹا کی محرومیوں کے ازالے کی راہ ہموار ہوگی اور اس سے فاٹا کی ہمہ پہلو ترقی کے لئے مضبوط بنیاد بھی فراہم ہوگی۔ حکومت کے پاس آخری موقع ہے کہ وہ فاٹا کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دینے کے لئے اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت فاٹا انضمام اور صوبائی اسمبلی میں فاٹا کی نمائندگی کے لئے آئین میں ترمیم کرسکتی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ایوان بالا اور ایوان زیریں کے جاری سیشن کے دوران ہی آئین میں ترمیم کرے اور فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ کرکے قبائلی عوام کوحق دے۔