سی پیک منصوبہ کے بعد عالمی قوتوں نے بلوچستان پر نظریں جمار رکھی ہیں ہمیں ہوشمندی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر قسم کی پراکسی کی بیخ کنی کیلئے توجہ مرکوز کرنی ہوگی بلوچستان میں کبھی بھی فرقہ واریت نہیں رہی ہے بلکہ فرقہ واریت کی آڑ میں فرقہ واریت کا تاثر دیکر ہزارہ قوم کی بدترین نسل کشی کی گئی، چیئرمین ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کا جلسے سے خطاب

جمعہ مئی 23:48

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین عبدالخالق ہزارہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں رونما ہونیوالے تبدیلیوں کے منفی ا ثرات سے بچنے کیلئے ملکی پالیسی سازش اداروں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔عالمی سطح پر عدم برداشت ،جنگ اور طاقت کے استعمال سے نمٹنے کیلئے ملک کی خارجہ و داخلہ پالیسیوں کی جائزہ گیری ناگریز ہے۔

سی پیک منصوبہ کے بعد عالمی قوتوں نے بلوچستان پر نظریں جمار رکھی ہیں ہمیں ہوشمندی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر قسم کی پراکسی کی بیخ کنی کیلئے توجہ مرکوز کرنی ہوگی بلوچستان میں کبھی بھی فرقہ واریت نہیں رہی ہے بلکہ فرقہ واریت کی آڑ میں فرقہ واریت کا تاثر دیکر ہزارہ قوم کی بدترین نسل کشی کی گئی۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے علمدار روڈ کے مقام پر پارٹی کے زیر اہتمام منعقدہ ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

جلسہ عام سے پارٹی کے سیکریٹری جنرل احمد علی کوہزاد،محمد زمان دہقانزادہ،،ڈاکٹر اصغر علی چنگیزی اور ساحل ہزارہ نے بھی خطاب کیا۔رہنماؤں نے کہاکہ عراق اور لیبیا کے بعد شام اور یمن میں جاری خونریزی،،ایران ،،امریکہ تعلقات کی سنگینی،،سعودی عرب اور ایران کی جاری مخاصمت اگر چہ بین الاقوامی ایشوز ہیں لیکن مستقبل قریب میں پاکستان پر اس تمام صورتحال کے منفی اثرات مرتب ہونے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا اس لئے ملک کے سیاسی،سماجی،معاشی استحکام کیلئے ابھی سے پیش بندی کرنی ہوگی۔

انہوں نے کہاکہ ماضی میں برادر اور ہمسایہ ممالک کے مفادات کی جنگ کا حصہ پاکستان کے عوام کو بنایا گیا جس کے نتیجے میں مسلک اور فرقوں کے مابین تناؤ اور اختلافات کو متشدد انداز میں ابھارا گیا۔مذہب کی آڑ لیکر فرقہ وارانہ مائنڈ سیٹ کی آبیاری کی گئی جس نے ملک کو شدید عدم استحکام سے دوچار کئے رکھا بیرونی ممالک کے مفادات کے دفاع کے کھیل نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور اب جب کہ پاک چائنا اقتصادی راہداری،،ون روٹ ون بیلٹ جیسے انقلابی اقتصادی منصوبے کا پاکستان حصہ بن چکاہے ایسے میں دشمن قوتوں کی مداخلت بڑھنے سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ نئی صورتحال میں بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر یہاں پر مختلف بین الاقوامی قوتوں نے نظر یں جمائی رکھی ہیں اور یہ قوتیں اپنے مختلف النوع مقاصد کی تکمیل کی خاطر ،پراکسی وار کی پالیسی کے تحت پاکستان اور بطور خاص بلوچستان میں منظم ہوسکتی ہیں جسکے تدارک اور سدباب کیلئے ملک کے پالیسی سازوں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔نئی صورتحال میں از کار رفتہ پالیسیاں ترک کرنی ہونگی۔مصلحت اندیشی اور ناعاقابت اندیشی کی بجائے صورتحال کا ہوشمندی سے جائزہ لینا ملک میں سیاسی،سماجی،اقتصادی استحکام کیلئے ناگزیرہے