سعد علی کو فواد عالم پر کیوں ترجیح دی، انضمام الحق کا بڑاانکشاف

ہفتہ مئی 11:44

سعد علی کو فواد عالم پر کیوں ترجیح دی، انضمام الحق کا بڑاانکشاف
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔12مئی 2018ء) قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر انضمام الحق کا کہنا ہے کہ امام الحق کو سلیکشن کرنے کے حوالے سے بہت تنقید ہوتی ہے لیکن میں اب زیاد ہ پریشان نہیں ہوتا۔ایک انٹرویو میں انضمام الحق نے کہا کہ میں بھتیجے کے حوالے سے دباﺅ پر زیادہ پریشان نہیں ہوتا، تنقید کا عادی ہوچکا،کوئی بھی ٹیم بنا نے کے بعد ٹی وی دیکھوں تو لگتا ہے غلط بنائی ہے،کیریئر کے آغاز میں امام الحق کو میری وجہ سے اضافی دباﺅ کا سامناکرنا پڑرہا ہے۔

چیف سلیکٹر نے کہاکہ عمران خان بار بار کہا کرتے تھے کہ ناکامی کا سوچتے رہے تو ہار جاﺅگے،ٹیم کی سلیکشن مشکل کام ہے لیکن میں گھبراتا نہیں ،صرف ایک سیریز میں ناکامی کے ڈر سے فیصلے کرنے کی بجائے سوچتا ہوں کہ مستقبل کیلئے بہتر کھیپ تیار ہوجائے، میں ہمیشہ یہاں بیٹھا نہیں رہوں گا لیکن آنے والے وقت کیلئے قومی ٹیم کو کچھ دے کر جانا چاہتا ہوں۔

(جاری ہے)

انضمام الحق کا مزید کہنا تھا کہ نوجوان کھلاڑیوں نے ون ڈے اور ٹی ٹونٹی فارمیٹ میں اچھے نتائج دیے ہیں،اب ٹیسٹ کرکٹ میں بھی نیا ٹیلنٹ لانے کی کوشش کررہے ہیں کیوں کہ طویل فارمیٹ کی کرکٹ کا مزاج تبدیل ہوگیا ہے اور اب یہاں بھی جارحیت کی ضرورت ہے،ہم نے شرجیل خان کو آسٹریلیا بھجوایا تھا اور اب دورئہ انگلینڈ کے لیے فخرزمان کا انتخاب کیا ہے۔

انضمام الحق نے کہا کہ فواد عالم پر سعد علی کو ترجیح دینے کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے گرین ٹاپ وکٹوں پر سب سے زیادہ رنز بنائے، وہاب ریاض پاکستان کے سب سے تیز باﺅلر ہیں لیکن انگلینڈ میں اس وقت سیم اور سوئنگ کرنے والے باﺅلرز کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ،میں نے فواد اور وہاب سے بات کرکے انہیں ڈراپ کرنے کی وجوہات سے بھی آگاہ کیا ہے، ہم نے آگے بھی سیریز کھیلنی ہے اور وہاں زیادہ تیزپیسرز کی ضرورت ہوگی تب دیکھیں گے۔

ایک سوال پرانضمام الحق کا کہنا تھا کہ امام الحق کی سلیکشن کے معاملے میں خود پیچھے ہٹ کر بیٹھ جاتا ہوں،بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور اور ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے امام کے ساتھ کام کیا، بھتیجے کو ون ڈے ٹیم میں شامل کرنے پر بھی تنقید ہوئی تھی مگر انھوں نے ڈیبیو پر سنچری بنادی،ٹیسٹ کرکٹ میں پرفارم نہ کیا تو باہر ہوجائے گا ۔