ایران جوہری معاہدہ بچانے کے لیے یورپ کی سرتوڑ کوششیں،امریکاسے رابطے

جرمن چانسلرکاروسی صدرکوفون،برطانوی وزیراعظم کا ٹرمپ سے رابطہ، یورپ معاہدے کے ساتھ پختہ مخلص ہے،تھریسامے

ہفتہ مئی 11:50

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہری معاہدے سے نکلنے کے فیصلے اور ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کے بعد اس معاہدے کو بچانے کی سرتوڑ سفارتی کوششیں کی جا رہی ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمن چانسلر میرکل نے روسی صدر ولادی میر پوتن سے رابطہ کیا جبکہ برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بات کی۔

روس کا کہنا تھا کہ صدر ولادی میر پوتن کی جرمن چانسلر میرکل اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان سے اس معاہدے کے حوالے سے بات ہوئی ہے۔میرکل نے کہا ہے کہ اسے جاری رکھنے کے بارے میں ہمیں ایران کے ساتھ بات کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ یک طرفہ طور پر معاہدے کو ختم کرنے سے عالمی سطح پر بھروسے کو نقصان پہنچے گا۔

(جاری ہے)

ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کے مطابق برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے امریکی صدر سے فون پر بات کرتے ہوئے انھیں بتایا کہ یورپ اس معاہدے کے ساتھ پختہ اور مخلص ہے۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں پر پابندیاں کیسے اثرانداز ہوتی ہیں اس پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ان تمام ممالک میں سب سے زیادہ شکایت فرانسیسی وزرا نے کی ہیں جن کا کہنا تھا کہ ایران پر دوبارہ پابندیاں لگنے کے نتیجے میں سب سے زیادہ اثر یورپی کاروباروں پر پڑے گا۔جن چیزوں پر انھیں تشویش لاحق ہے ان میں ایک یہ بھی ہے کہ یہ معینہ مدتی معاہدہ ہے اور اس کا ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام یا خطے میں ایرانی اثر و رسوخ سے تعلق نہیں ہے۔

یورپی ممالک کو یہ بھی معلوم ہے کہ اگر امریکی پابندیاں لگ جاتی ہیں تو انھیں اربوں ڈالرز کے کاروبار کا نقصان ہوگا۔۔ایران اور یورپی طیارہ ساز کمپنی ایئر بس کے درمیان تقریباً سو طیاروں کی فروخت کا معاہدہ بھی اس وقت خطرے میں ہے۔ ان طیاروں میں استعمال ہونے والے بعض آلات امریکہ میں بنتے ہیں۔بڑی فرانسیسی کمپنیاں جیسے کہ ٹوٹل اور گاڑیاں بنانے والی کمپنی پوڑو اور رینالٹ نے بھی ایران میں سرمایہ کاری کی ہے۔

ایران پر سے 2016 میں پابندیاں اٹھانے کے بعد سے جرمنی اور فرانس کی ایران میں درآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔۔فرانس نے دوبارہ پابندیاں لگانے کو ناقابل قبول قرار دے کر ان کی مذمت کی ہے۔ معیشت کے وزیر نے کہاکہ یورپ کو اپنی معاشی سالمیت کا دفاع کرنا ہوگا۔انھوں نے یورپی کمیشن سے کہا ہے کہ وہ ممکنہ جوابی اقدامات دیکھیں۔تاہم جرمنی اور فرانس کے وزرا امریکی محکمہ خزانہ سے بھی بات کر رہے ہیں تاکہ یورپی کمپنیوں کو چھوٹ مل سکے۔دوسری جانب پیر کو ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف چین،، روس اور برسلز کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔جبکہ آئندہ منگل کو جرمنی،، برطانیہ اور فرانس وزرا خارجہ آپس میں ملاقات کریں گے۔