پاکستان میں بھارتی مواد نشر کرنے کا معاملہ

سب سے زیادہ بُرائی ٹی وی دکھا رہا ہے۔ ٹی وی ایوارڈ تقریبات میں خواتین کے کپڑے ناقابل قبول ہیں۔چیف جسٹس کے ریمارکس

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ مئی 12:08

پاکستان میں بھارتی مواد نشر کرنے کا معاملہ
کراچی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12 مئی 2018ء) ::پاکستان میں بھارتی مواد نشر کرنے کے معاملے پر پاکستانی فنکار اور پروڈیوسرز عدالت میں پیش ہوئے۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں اس کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ سب سے زیادہ بُرائی ٹی وی دکھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی وی ایوارڈ تقریبات میں خواتین کے کپڑے ناقابل قبول ہیں۔

ثمینہ آپا نے کہا کہ بھارتی مواد دکھایا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آپ نے میرے منہ کی بات چھین لی۔ایسے ایوارڈ شوز دکھائے جا رہے ہیں جو معاشرے کے لیے ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے ریمارکس دئے کہ ہم لبرل ضرور ہیں لیکن اس قدر بے حیائی برداشت نہیں کرسکتے، ہم غیر مناسب لباس پر ماڈلنگ کی اجازت نہیں دے سکتے،۔۔چیف جسٹس نے کہاکہ ہم اخلاق باختہ لباس کی اجازت نہیں دے سکتے۔

(جاری ہے)

کیا ہماری بہن بیٹیاں یہ لباس پہن سکتی ہیں؟کیا آپ کے ملک کا کلچر ختم ہو گیا ہے؟سندھی ، بلوچی اور دیگر کلچرز کو فروغ کیوں نہیںدیتے ؟ عدالت نے عدنان صدیقی سے استفسار کیا کہ آپ کون ہیں؟ سندھی؟عدنان صدیقی نے کہا کہ میںاُردو اسپیکنگ ہوں۔ عدالت نے کہا کہ اُردو ہو پر ہو تو سندھ کے نا ، سندھی ہو۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ تو خود مارننگ شو کرتے ہیں۔

آپ مارننگ شوز میں خواتین کو کون سا لباس پہنواتے ہیں؟یہ کون سے مارننگ شوز ہیں، یہ کون سا کلچر دینا چاہ رہے ہیں؟ چیف جسٹس نے فنکارعدنان صدیقی سے سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہیں کہہ رہا کہ برقعہ پہن کر آجائیںلیکن ہم بے حیائی برداشت نہیں کریں گے۔۔عدالت میں موجود عدنان صدیقی نے کہا کہ یہ سب بھارت کی مہربانی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں طے کرنا ہوگا کہ کتنا غیر ملکی مواد نشر کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ عدالت نے اس معاملے پر پیمرا اور تمام ٹی وی چینلز کو نوٹس جاری کر دیے ۔۔عدالت کی جانب سے غیر ملکی مواد ٹی وی چینلز پر نشر ہونے سے متعلق قانون اور اس پر عملدرآمدکی رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے۔