سابق وزیر اعظم نے قریبی ساتھیوں کو پی ٹی آئی میں جانے کا مشورہ دے دیا

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ملتان کے حالات سے سخت پریشان ہیں

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ مئی 12:43

سابق وزیر اعظم نے قریبی ساتھیوں کو پی ٹی آئی میں جانے کا مشورہ دے دیا
ملتان (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12 مئی 2018ء) : سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے قریبی ساتھیوں کو پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے کا مشورہ دے دیا۔ کالم نگار منصور آفاق نے اپنے کالم میں اس حوالے سے لکھا کہ سرائیکی علاقہ میں رحیم یار خان سے لیہ تک توپی ٹی آئی کی پوزیشن بالکل واضح ہے شاید ہی ن لیگ یا پاکستان پیپلز پارٹی یہاں سے کوئی سیٹ نکال سکے۔

حتٰی کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھی ملتان کے حالات سے سخت پریشان ہیں اور اپنے قریبی لوگوں کو تحریک انصاف میں شمولیت کا مشورہ دے چکے ہیں ۔ انہوں نے لکھا کہ مجھے یاد ہے لندن میں جب میری اُن کے ساتھ ایک ملاقات ہوئی تھی جس میں اُن کا بیٹاعلی حیدر گیلانی بھی اُن کے ساتھ تھا اوروہ میری اِس بات پر متفق تھا کہ آصف علی زرداری کی موجودگی میں پاکستان پیپلز پارٹی کو پنجاب میں زندہ نہیں کیا جاسکتا ۔

(جاری ہے)

یوسف رضا گیلانی کو عملی سیاست میں لانے والا حامد رضا گیلانی تھا۔ ملتان کے لوگ جانتے ہیں کہ حامد رضا نے یوسف رضا کو ضلع کونسل کا ممبر بنوایا تھا اُس حامد رضا گیلانی کا صاحبزادہ محمدر ضا گیلانی بھی تحریک انصاف میں شامل ہو چکا ہے۔۔یوسف رضا گیلانی کے ماموں زاد بھائی احمد محمود بھی پریشان ہیں کہ اُن کےلئے رحیم یار خان میں الیکشن جیتنا مشکل ہوچکا ہے۔

لیہ سے پی ٹی آئی کا صرف ایک ایم پی اے مجید خان تھا مگرچند روز پہلے پی پی پی کا ایم پی اے سردار شہاب الدین سیہڑ پی ٹی آئی میں شامل ہوا ہے۔ نون لیگ کے سابق ایم این اے ملک غلام حیدر ر بھی چند روز پہلے پی ٹی آئی میں آگئے ہیں۔ نون لیگ کے سردار قیصر عباس خان مگسی نے بھی صوبے محاذ کے ساتھ پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی۔ اگر چہ پچھلے دو دن سے یوسف رضا گیلانی بھی لیہ میں ہیں ۔

بلاول بھٹو بھی آج لیہ پہنچ چکے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ وہاں سے کوئی سیٹ نکالیں مگر لیہ میں پی ٹی آئی کی مقبولیت اور نئے شامل ہونے والے مضبوط امیدوار وں کو دیکھ کر لگتا نہیں کہ اس مرتبہ پی پی پی کو وہاں کوئی کامیابی ملے۔ اپنے کالم میں منصور آفاق نے لکھا کہ عمران خان کا اقتدار کےپہلے سو دن میں صوبہ بنانے کا اعلان سرائیکی علاقوں میں اُن کی مقبولیت میں فوری طور پر بے پناہ اضافہ کرگیا ہے میانوالی سے رحیم یار خان تک لوگ کیفیتِ جشن میں ہیں۔

یہ صرف صوبہ محاذ کے بیس ارکان اسمبلی کی تقریب ِشمولیت نہیں تھی سرائیکی تحریک سےوابستہ لاکھوں لوگوں کاپی ٹی آئی میں شرکت کا اعلان تھا۔ یقیناً انہیں بے پناہ خوش ہونا چاہئے ۔وہ جو برسوں سے اپنی آنکھوں میں سرائیکی صوبے کا خواب لئے جی رہے تھے انہیں تعبیر دکھائی دینے لگی ہے۔سرائیکی بہت خوش ہیں کہ صوبہ بننے کی کوئی پہلی سنجیدہ کوشش سامنے آئی ہے۔

لوگ البتہ یہ ضرور کہہ رہے ہیں کہ اِسے ’’صوبہ جنوبی پنجاب‘‘ کیوں کہاجارہا ہے۔ سرائیکی صوبہ کیوں نہیں کہا جارہا۔ ان کے لئے عرض ہے نام سے کوئی فرق نہیں پڑتا صوبہ بن لینے دیجئے۔ نام تو کسی وقت بھی بدلا جاسکتا ہے اگر ’’صوبہ سرحد‘‘ کانام بدل کر صوبہ پختونخوا رکھا جاسکتا ہے تو صوبہ جنوبی پنجاب کا نام کسی بھی وقت سرائیکی صوبہ رکھا جاسکتا ہے۔