کشمیر بارے بپن راوت کا بیان بھارتی حکمرانوں کی متکبرانہ سوچ کا عکاس ہے، سید علی گیلانی

ہفتہ مئی 13:20

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے بھارتی فوج کے سربراہ بپن راوت کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ کشمیری یہ بات سمجھ لیں کہ وہ بھارت سے آزادی حاصل نہیں کر سکتے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ اس بیان سے بھارتی حکمرانوں کی متکبرانہ اور مغرور سوچ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ طاقت اور جدید اسلحہ کے نشے میں چور بھارتی سیاسی اور فوجی قیادت تاریخ کا یہ سبق بھول رہی ہے کہ کسی قوم کے فطری رحجان کو بندوق کے سنگینوں سے تادیر زیر نہیں رکھا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکمرانوں کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرنی چاہیے کہ کشمیر ی مراعات کے حصول کیلئے نہیں بلکہ اپنا پیدائشی حق ، حق خود ارادیت پانے کے لیے تحریک چلا رہے ہیں اور اس تحریک کو یہاں کے لوگ خاص کر نوجوان اپنے لہو سے سینچ رہے ہیں ۔

(جاری ہے)

سید علی گیلانی نے کہا کہ جدید اسلحہ سے لیس دس لاکھ کے قریب بھارتی فورسز اہلکاروں کو نہتے کشمیری نوجوانوں کو زیر کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے اور وہ اپنی ناکامی کا بدلہ بے گناہ بچوں پر گولیاں اور پیلٹ برسا کر لے رہے ہیں۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ نہتے کشمیری گزشتہ ستر برس سے بھارتی سامراج اور اس کی خونخوار فوج کا مقابلہ کر رہے ہیں اور تاریخ بھی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ جب کسی قوم کو بزور طاقت دبانے کی بزدلانہ کوشش کی جاتی ہے تو اس کے خلاف اس قوم کا ہر فرد چٹان بن کر کھڑا ہوجاتا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی ایک بیان میں بھارتی فوج کے سربراہ کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری صرف اپنا پیدائشی حق، حق خود ارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کے لیے اقوام متحدہ نے کئی قراردادیں پاس کر رکھی ہیںجبکہ بھارتی رہنمائوں موہن داس کرم چند گاندھی اورجواہر لال نہرونے کشمیریوں سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں یہ حق دیا جائے گا۔

دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس نے سرینگر میںجاری ایک بیان میں اپنے چیئر مین سید علی گیلانی ، محمد اشرف صحرائی، آغا سید حسن الموسوی الصفوی، غلام احمد گلزار، بلال احمد صدیقی، محمد یاسین عطائی، محمد اشرف لایہ، سید امتیاز حیدر اور دیکر کو گھروں اور تھانوں میں نظر بندرکھنے، لوگوں کوسرینگر کی تاریخی جامع مسجد اور دیگر مساجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے سے روکنے ، پابندیوں اور جبر و استبداد کے دیگر ہتھکنڈوں کی شدید مذمت کی ہے۔