سعودی عرب میں 85ہزار سال پرانے انسان کے قدموں کے نشانات دریافت

سعودی بین الاقوامی ٹیم کو کئی بالغ افراد کے قدموں کے نشانات ملے ہیں،دریافت کا جائزہ لیا جارہاہے،رپورٹ

ہفتہ مئی 15:06

ٹوکیو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) محکمہ سیاحت و قومی آثار کے سربراہ شہزادہ سلطان بن سلمان نے اعلان کیا ہے کہ تبوک کے اطراف صحراء النفود میں قدیم جھیل کے کنارے 85ہزار برس پرانے ایک انسان کے قدموں کے نشانات دریافت ہوئے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق یہ انکشاف نادر روزگار اور حیرت ناک ہیں۔ شہزادہ سلطان بن سلمان نے اسکا اعلان ٹوکیو میں جاپان کے قومی عجائب گھر میں سعودی محکمہ سیاحت کے زیر انتظام ہونے والی نمائش ’’مملکت کے شاندار نوادر‘‘ کے موقع پر کیا ۔

شہزادہ سلطان بن سلمان نے اسکی تفصیلات دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایک سعودی بین الاقوامی ٹیم کو کئی بالغ افراد کے قدموں کے نشانات ملے ہیں۔ یہ قدیم جھیل کی گدلی زمین پر جگہ جگہ نظر آرہے تھے۔ ان میں سے ہر ایک مختلف سمت میں چلتا ہوا نظر آرہا تھا۔

(جاری ہے)

اسکا امکان ہے کہ یہ لوگ ماہی گیر ہوں اور کھانے کی تلاش میں جھیل کے اطراف چکر لگا رہے ہوں۔اس دریافت کا مزید گہرائی اور گیرائی سے جائزہ لیا جارہا ہے۔

شہزادہ سلطان بن سلمان نے توجہ دلائی کہ اس سے قبل تیمہ کمشنری میں ایک انسان کی انگلی کے نشان دریافت ہوئے تھے۔ اسکی عمر کا تخمینہ 85ہزار برس لگایا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ سیاحت و آثار قدیمہ جرمن انسٹی ٹیوٹ میکس بلینک کے ماہرین کے تعاون سے کئی برس سے مذکورہ علاقے میں آثار قدیمہ کی تلاش کا سلسلہ شروع کئے ہوئے ہے۔ یہ سارے کام ’’سرسبز و شاداب جزیرہ عرب منصوبہ ‘‘ کے تحت انجام دیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی، مملکت کے متعدد ادارے خصوصاً سعودی جیولوجیکل بورڈ ، آرامکو ، کنگ عبدالعزیز سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سٹی، کنگ سعود یونیورسٹی اورحائل یونیورسٹی ایک دوسرے سے تعاون کررہی ہیں۔