بریگزٹ کے بعد برطانیہ میں نفرت اور تعصب پر مبنی جرائم ، اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے

اقوام متحدہ کی خصوصی مندوب ای ٹینڈائی ایکی اومی کا برطانیہ کے چار روزہ دورے کے اختتام پر بیان خصوصی مندوب اپنی رپورٹ اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل کے اجلاس میں پیش کریں گی

ہفتہ مئی 15:06

اقوام متحدہ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) اقوام متحدہ نے خبر دار کیا ہے کہ بریگزٹ کے بعد برطانیہ میں نفرت اور تعصب پر مبنی جرائم اور اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔۔اقوام متحدہ کی خصوصی مندوب برائے نسل پرستی، غیر ملکیوں سے نفرت اور عدم برداشت ای ٹینڈائی ایکی اومی نے برطانیہ کے چار روزہ دورے کے اختتام پر جاری بیان میں کہا ہے کہ برطانیہ میں اس وقت بھی جیلوں میں موجود اقلیتی قیدیوں کا تناسب عام آبادی کے تناسب سے مطابقت نہیں رکھتا جس سے اقلیتوں سے امتیازی سلوک کا اظہار ہوتا ہے۔

انہوں نے برطانوی حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ ملک سے نسل پرستی اور تعصب کے خاتمے کے لئے جامع اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں برطانیہ میں اقلیتی نوجوانوں کو جرائم میں ملوث کرنے کے رجحان پر شدید صدمہ پہنچا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے برطانوی حکومت سے کہا کہ وہ اس سلسلے میں جامع پالیسیوں کی تشکیل اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے موثر اقدامات کرے۔

ان اقدامات میں اقلیتی نمائندوں کو اس حوالے سے فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنا بھی اہم ہے۔۔اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب نے کہا کہ انہیں اندیشہ ہے کہ برطانیہ میں اس وقت جاری غیر ملکیوں سے نفرت کی مہم میں نہ صرف تیزی آسکتی ہے بلکہ بعض نمایاں شخصیات اس میں شامل ہو سکتی ہیں۔انہوں نے برطانیہ کی بعض موجودہ امیگریشن پالیسیوں کو بھی امتیازی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ان پالیسیوں کے نتیجہ میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں میں عدم تحفظ اور دیگر کمیونٹیز بارے بد اعتمادی پیدا ہوئی ہے۔۔برطانیہ میں بعض اقلیتوں سے تعلق رکھنے والوں کو دشمن تصور کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں نسلی امتیاز کے خاتمے کے قوانین بھی موجود ہیں جو قابل تعریف ہیں اور ان پر عملدرآمد کرکے نسلی امتیاز کے حوالہ سے صورتحال کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

برطانوی حکومت کی دعوت پر اس دورے کے دوران اقوام متحدہ کی خصوصی مندوب نے ارکان پارلیمنٹ،، سول سوسائٹی کے نمائندوں، مختلف حکام اور اقلیتی نمائندوں کے ساتھ ملاقاتیں اور مختلف جیلوں کے دورے بھی کئے۔وہ اس حوالے سے اپنی رپورٹ جنیوا میں اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل کے جنیوا میں ہونے والے اجلاس میں پیش کریں گی۔