جنرل اسلم بیگ کا ملاقات کی خواہش کا پیغام بانی متحدہ تک پہنچایا

ملاقات میں وزیراعظم بےنظیربھٹو کیخلاف تحریک عدم اعتمادلانےکا فیصلہ کیا گیا،نوازشریف بھی ملاقات میں موجود تھے،یونس حبیب کو متحدہ کےبانی کوفنڈز دینےکو بھی کہا گیا،بانی متحدہ کو20گاڑیاں بھی فراہم کی گئیں، بعد میں بانی متحدہ کولندن بھیج دیا گیا۔ متحدہ بانی کے قریبی ساتھی یوسف میمن کا بیان

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ مئی 14:59

جنرل اسلم بیگ کا ملاقات کی خواہش کا پیغام بانی متحدہ تک پہنچایا
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12مئی 2018ء) : اصغر خان کیس میں ایف آئی اے نے متحدہ بانی کے قریبی ساتھی یوسف میمن نے کہا ہے کہ جنرل اسلم بیگ کاملاقات کی خواہش کا پیغام بانی متحدہ تک پہنچایا،ملاقات میں وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کیخلاف تحریک عدم اعتمادلانے کا فیصلہ کیا گیا،،نوازشریف بھی ملاقات میں موجود تھے،یونس حبیب کو متحدہ کے بانی کوفنڈز دینے کو بھی کہا گیا،بانی متحدہ کو20گاڑیاں بھی فراہم کی گئیں، بعد میں بانی متحدہ کولندن بھیج دیا گیا۔

قومی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق اصغر خان کیس میں ایف آئی اے نے متحدہ بانی کے قریبی ساتھی یوسف میمن کا بیان پہلی بار 2013ء میں ریکارڈ کیا گیا۔تاہم یہ بیان پہلی بار سامنے آیا ہے۔ بیان میں یوسف میمن نے دعویٰ کیا ہے کہ کہ وہ 1988ء میں یونس حبیب کے قریب آئے۔

(جاری ہے)

اُن دنوں وہ ایم کیوایم میں کافی متحرک تھے۔اور فاروق ستار ان کے بھتیجے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یونس حبیب نے ایک دن مجھے جنرل اسلم بیگ کا پیغام بانی متحدہ تک پہنچانے کا کہا ،پیغام یہ تھا کہ جنرل اسلم بیگ بانی متحدہ سے ملنا چاہتے ہیں۔

پھر جنرل (ر)اسلم بیگ کی بانی متحدہ سے ملاقات ہوئی۔ جس میں طے پایا کہ اس وقت کی وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی۔یونس حبیب کو متحدہ کے بانی کوفنڈز دینے کو بھی کہا گیا۔ملاقات میں متحدہ کے بانی نے گاڑیاں فراہم کرنے کی خواہش بھی کی۔جس پرانہیں 20سے زائد گاڑیاں فراہم کی گئیں۔یوسف میمن نے مزید دعویٰ کیا کہ بینظیر بھٹو کیخلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے ایک میٹنگ ہوئی۔

جس میں نواز شریف بھی موجود تھے۔اسی میٹنگ میں صدر اسحاق خان سے رابطہ ہوا اور وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا گیا۔مگر محترمہ بے نظیر کیخلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگئی۔کیونکہ نوازشریف کو احساس ہوگیا تھا کہ اگر بے نظیر کی حکومت کا خاتمہ ہوا توانہیں وزیراعظم نہیں بنایا جائے گا۔تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد بانی متحدہ بھی پریشان ہوگئے۔

جس پرجنرل اسلم بیگ نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ پاکستان چھوڑ کربرطانیہ چلے جائیں۔ان کی لندن روانگی اوروہاں رہائش کا بندوبست کیاگیا ہے۔لندن میں ہائی کمیشن کی گاڑی انہیں لینے کیلئے آئی۔بانی متحدہ کوکہا گیا کہ تحریک چلاتے رہیں اور عالمی اداروں سے رابطے کریں۔یوسف میمن نے ایک اور دعویٰ کیا کہ متحدہ کی قیادت بھارت سے رابطے میں تھی اس لیے وہ برطانیہ چھوڑ کرپاکستان واپس آگئے۔انہوں نے مزید بتایا کہ 1988ء اور 89ء میں انہیں سیاسی جماعتوں کوفنڈز تقسیم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ۔انہیں معلوم ہوگیا تھا کہ یہ فنڈز سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیے جائیں گے۔تاہم بعد میں یوسف میمن پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے تھے۔