پہلی ٹیسٹ اننگز کے بعد کرکٹ چھوڑنے کا سوچنے لگا تھا:سچن ٹنڈولکر

ساتھی کھلاڑیوں نے مشورہ دیا کہ میں خود کو تھوڑا وقت دوں:عظیم بلے باز

ہفتہ مئی 15:02

پہلی ٹیسٹ اننگز کے بعد کرکٹ چھوڑنے کا سوچنے لگا تھا:سچن ٹنڈولکر
ممبئی(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔12مئی 2018ء) عالمی شہرت یافتہ سابق بھارتی بلے باز سچن ٹنڈولکر نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے بعد انہوں نے کرکٹ چھوڑنے کے بارے میں سوچنا شروع کردیا تھا۔ایک انٹرویو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے عظیم بلے باز نے کہا کہ کراچی میں پاکستان کے خلاف اپنی پہلی اننگز کے بعد انہیں لگا کہ یہ ان کے کیریئر کی آخری اننگز ہے کیونکہ وہ بالکل بھی ایڈجسٹ نہیں کر پا رہے تھے۔

ٹنڈولکر کاکہنا تھا کہ ان کی زندگی کی پہلی اننگز کراچی میں تھی اور انہیں لگا کہ یہ ان کی پہلی اور آخری اننگز ہو گی، پہلے میچ میں انہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیوں کہ ایک اینڈ سے وقار یونس باﺅلنگ کر رہے تھے اور دوسرے اینڈ سے وسیم اکرم بھرپور فارم میں تھے جب کہ گیند ریورس ہونا شروع ہو چکی تھی، وہاں کھیلنے کے دوران وہ بالکل ایڈجسٹ نہیں کر پا رہے تھے ۔

(جاری ہے)

ٹنڈولکر کا مزید کہنا تھا کہ جب انہوں نے اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں کو بتایا کہ وہ کرکٹ چھوڑنے کا سوچ رہے تھے تو ان کا مشورہ تھا کہ میں خود کو کچھ وقت دوں کیونکہ یہ انٹرنیشنل کرکٹ ہے اور میں دنیا کے بہترین باﺅلنگ اٹیک کا سامنا کر رہا تھا ،اگلے ہی ٹیسٹ میں میں نے 59 رنز سکور کیے جس کے بعد میں نے خود کو شاباش دی۔انٹرویومیں سچن ٹنڈولکر نے ایک اور انکشاف کیا کہ مہندرا سنگھ دھونی سے گفتگو کے دوران انہیں اندازہ ہوا کہ دھونی کے اندر قائدانہ صلاحیت موجود ہے۔

سچن نے بتایا کہ میں جب بھی سلپ میں فیلڈنگ کرتا تھا تو میں مستقل دھونی سے فیلڈنگ پوزیشنز کے حوالے سے گفتگو کیا کرتا تھا، میں ہمیشہ اپنی رائے کا اظہار کرتا اور ان کے خیالات بھی دریافت کرتا اور اسی گفتگو کے دوران مجھے اندازہ ہوا کہ ان میں قائدانہ صلاحیتیں موجود ہیں۔یاد رہے کہ 2007 ورلڈ کپ کے پہلے راو¿نڈ میں بھارتی ٹیم کے اخراج کے بعد مہندرا سنگھ دھونی کو سینئرز کی موجودگی میں بھارتی ٹیم کی قیادت سونپی گئی تھی اور دھونی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں ان کو قائدانہ منصب تک پہنچانے کا سہرا ٹنڈولکر کو جاتا ہے۔