افغانستان پر طالبان کو قابض نہیں ہونے دیں گے،امریکہ

طالبان کو کبھی بھی افغانستان پر قبضہ اورامریکہ پر حملہ کرنے کے قابل نہیں ہونے دیں گے،جان بولٹن کا انٹرویو

ہفتہ مئی 15:47

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا ہے کہ امریکہ طالبان کوافغانستان پر دوبارہ قبضہ کرنے اور امریکہ پر حملہ کرنے کے قابل نہیں ہونے دے گا۔ہفتہ کو ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا کہ افغانستان کی قوت میں اضافے کے حوالے سے ابھی بہت کچھ کیے جانے کی ضرورت ہے تاکہ دہشتگردوں وہاں دوبارہ قابض ہونے اور امریکہ پر دہشتگرد حملوں سے روکا کرنے سے روکا جا سکے ،یہ چیز ہمارے ذہنوں میں سب سے نمایاں ہے کہ اس عزم کو یقینی بنایا جائے کہ دہشتگردوں کو حملوں سے روکنے کے لیے ہمارے پاس تمام ضروری وسائل موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ طالبان سے مذاکرات کرے گا،ہم یہ چاہتے ہیں کہ افغان حکومت کو اس میں پہل کرنی چاہیے۔

(جاری ہے)

پھر ہم یہ دیکھیں گے کہ آیا طالبان اور تمام دوسرے مختلف دھڑے جو افغان حکومت کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں، واقعی ایسے مذاکرات میں دلچسپی رکھتے ہیں جس سے امن کا راستہ ہموار ہو سکے۔جان بولٹن نے کہا کہ اگر ایران اپنا میزائل پروگرام دوبارہ شروع کر دیتا ہے تو پھر خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو جائیگی۔

میرے خیال میں ایران کیساتھ جوہری معاہدے کے اثرات نے مشرق وسطی میں ہتھیاروں کی دوڑ کی راہ ہموار کی۔صرف یہ بات نہیں ہے کہ اسرائیل یہ نہیں چاہتا کہ ایران یا دوسرے ملک ترکی،،،مصر،،،سعودی عرب،،اور گلف کی ریاستیں جوہری ہتھیار بنانے کے قابل ہو جائیں۔ بلکہ میرا خیال ہے کہ ہمارے نزدیک ایک خطرہ یہ ہے کہ اگر ایران جوہری ہتھیار بنا لیتا ہے تو دوسرے ملک بھی جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

اگر آپ یہ معاہدہ ختم نہیں کرتے تو آپ دنیا کے سب سے زیادہ بھڑکتے ہوئے خطے میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کے لیے میدان ہموار کردیں گے۔قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا کہ ایران جوہری معاہدے پر دوبارہ بات چیت کرنے پر تیار ہو جائیگا جس سے وہ انکار کر چکا ہے،،میرا خیال ہے کہ امریکی پابندیوں کایورپ پر بھی اثر ہو گا۔۔ایران کیساتھ ان کی تجارت میں کمی آئے گی اور پھر ایران کے لیے یہ ایک مشکل انتخاب ہو گا۔

اس صورتحال کو ایران کے لیے حالات کو برداشت کرنا بہت مشکل ہو گا۔جان بولٹن نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی صدارتی مہم کے دوران یہ کہا تھا کہ وہ امریکہ کے قومی مفاد کو اولیت دیں گے۔اپنے عہدے کے پہلے سال کے دوران انہوں نے اس سلسلے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ایران،شمالی کوریا اور مشرق وسطی کے معاملات ہمارے سامنے ہیں۔ انہیں اس سے پہلے درست طور پر حل نہیں کیا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ کو جب اقتدار ملا تو ان کے سامنے بہت سے مسائل تھے اور وہ انہیں حل کرنے کے لیے منظم کام کر رہے ہیں۔