تزویراتی اہمیت کا حامل العمری عسکری کیمپ یمنی فوج کے ہاتھوں میں آگیا

حوثی ملیشیا تعز صوبے کے مغرب میں العمری کیمپ میں اپنا سامان اور لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئی،عسکری ذرائع

ہفتہ مئی 16:13

صنعائ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) یمن میں آئینی حکومت کی فورسز نے مغربی ساحل پر تزویراتی اہمیت کے حامل "العمری" عسکری کیمپ کا کنٹرول حاصل کر لیا ۔غیرملکی خبررساں ادارئے کے مطابق یمنی فورسز نے عرب اتحاد کی معاونت سے کیمپ کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ باغی حوثی ملیشیا کے ارکان بین الاقوامی سمندری جہاز رانی کو خطرے کا نشانہ بنانا کے لیے یہاں مورچہ بند تھے۔

عسکری ذریعے کے مطابق حوثی ملیشیا تعز صوبے کے مغرب میں واقع العمری کیمپ میں اپنا ساز و سامان اور ارکان کی لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئی۔العمری کیمپ باب المندب ضلعے میں ذوباب شہر سے 10 کلو میٹر مشرق میں واقع ہے۔ اس کیمپت کا یمنی فوج کے ہاتھوں میں آ جانا باغی ملیشیا کے لیے ایک کاری ضرب ہے۔

(جاری ہے)

اس کے نتیجے میں حوثیوں کے ہاتھوں سے الحدیدہ بندرگاہ واپس لینے اور مغربی ساحل کو مکمل طور پر آزاد کرانے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

العمری عکسری کیمپ آبنائے باب المندب کی حفاظت کی ذمّے دار فورس کا مرکز شمار کیا جاتا ہے۔ یہ کیمپ ایسے علاقے میں واقع ہے جو تعز صوبے کے 4 ضلعوں کو جوڑتا ہے۔ یہ ضلعے باب المندب، ذوباب، الوازعیہ اور المخا ہیں۔ ان ضلعوں کے اطراف واقع تمام ٹیلے سے تمام سمتوں سے خشکی اور سمندری امدادی راستوں کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔یہ کیمپ شمال، جنوب اور مشرق کی جانب سے پہاڑی بلندیوں کے احاطے میں ہے۔ یمنی مسلح افواج کے میڈیا سینٹر کے مطابق العمری کیمپ میں 6 عسکری بریگیڈز شامل ہیں۔العمری کیمپ جنوری 2015ء میں حوثیوں کے قبضے میں چلا گیا تھا۔ اب اس کے آزاد کرائے جانے سے حوثی ملیشیا کے لیے ہتھیاروں اور عسکری ساز و سامان کی اسمگلنگ کی اہم سپلائی لائن کٹ گئی ہے۔

متعلقہ عنوان :