سانحہ 12 مئی کی یاد میں کراچی بار کی جانب سے جنرل باڈی اجلاس کا انعقاد

کراچی بار اور دیگر بارز نے قربانیاں ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عدلیہ کی آزادی کے لیے دیں،حیدرامام رضوی کا خطاب

ہفتہ مئی 17:41

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) سانحہ 12 مئی کی یاد میں کراچی بار کی جانب سے جنرل باڈی کا اجلاس منعقد کیا گیا ۔ اجلاس سے کراچی اور سندھ بار اور ہائیکورٹ بار کے صدور سمیت دیگر وکلاء رہنماؤں نے خطاب کیا ۔ اجلاس کے آخر میں سانحہ 12 مئی کے حوالے سے مذمتی قرار داد بھی منظور کی گئی ۔ سانحہ 12 مئی کے حوالے سے کراچی بار کی جانب سے جنرل باڈی کا اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس سیکراچی اور سندھ بار اور ہائیکورٹ بار کے صدور سمیت دیگر وکلاء رہنماؤں نے خطاب کیا۔

جنرل باڈی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر کراچی بار حیدر امام رضوی کا کہنا تھا کہ کراچی بار اور دیگر بارز نے قربانیاں ذاتی مفاد کے لیے نہیں دیں بلکہ عدلیہ کی آزادی کے لیے دیں ۔ 12 مئی کے دن ملیر بار کی عمارت بھی جلائی گئی ۔

(جاری ہے)

اس دن کئی لوگوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا ۔ اس وقت 12 مئی کی تحقیقات کے لیے 7 ججز پر مشتمل بینچ بھی بنائی گئی ۔ جس کے حلف ناموں میں ہم نے سانحہ میں ملوث ذمہ داران کے نام سامنے رکھے ۔

لیکن اس کے باوجود کوئی پیش رفت نہ ہو سکی ۔ جنرل باڈی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چیئرمن سندھ بار کونسل صلاح الدین گنڈا پور کا کنا تھا کہ یہاں کا ہر وکیل اس واقعہ کاچشم دید گواہ ہے ۔ پولیس کہتی ہے کہ ہمارے پاس کوئی گواہ نہیں سیاسی پارٹیاں جلسے کرکے اپنے شہداء گنواتی ہیں ۔ سیاسی پارٹیوں نے سانحہ کی ایف آئی آر بھی کٹوائی تو وہ بھی نامعلوم افرا دکے خلاف کٹوائی لیکن کراچی بار نے اصل قاتلوں کیخلاف مقدمہ درج کرایا ۔

وائس چیئرمین سندھ بار کونسل کا کہنا تھا کہ سندھ بار کونسل نے طے کیا ہے کہ جہاں آئین سے کھلواڑ یا عوام کے حقوق غضب کیے جائیں گے تو وہاں ہم کھڑے ہوں گے ۔ تقریب کے آخر میں صدر کراچی بار ایسوسی ایشن حیدر امام رضوی کی جانب سے قرار داد پیش کی گئی ، جس میں 12 مئی کے سانحہ کی دوبارہ جوڈیشل انکوائری سپریم کورٹ کے ججز کی زیر نگرانی کرانے کا مطالبہ کیا گیا ۔ دوسری جانب ہائیکورٹ بار کے صدر نے 14 مئی کو سندھ ہائیکورٹ میں جنرل باڈی کا اجلاس منعقد کرکے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کا بھی اعلان کیا ۔