بھارت نے کشمیریوں کے تمام حقوق سلب کر رکھے ہیں، تحریک حریت جموں و کشمیر

اشرف صحرائی اور دیگر کی نظر بندی قابل مذمت ہے‘ بھارتی فوج کو ناکامی کے سوا کچھ نہیں ملے گا، بشیر قریشی و دیگر کا مشترکہ بیان

ہفتہ مئی 20:01

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں تحریک حریت جموں کشمیر نے تنظیم کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی، محمد اشرف لایہ، محمد رفیق اویسی، سید امتیاز حیدر اورغلوم رسول کلو کوگھروں اور تھانوں میں نظربند رکھنے اور انہیں جمعہ کی نماز پڑھنے سے روکنے کی شدید مذمت کی ہے۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق تحریک حریت جموں وکشمیر کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ خود کو دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک کہلوانے والے بھارت نے کشمیریوں کے سیاسی ، معاشرتی اور مذہبی حقوق سلب کر رکھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حریت رہنمائوں کو نظر بند کر کے نماز جمعہ پڑھنے سے روک دیا جاتاہے جو دینی معاملات میں مداخلت ہے۔بیان میں کولگام، شوپیان، پلوامہ، اسلام آباد،، سرینگر،،، بارہ مولہ اور بانڈی پورہ کے اضلاع میں نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ اورلولاب کے علاقے ٹکی پورہ میں قائم بھارتی فوجی کیمپ کے اہلکاروں کی طرف سے یہاں کے لوگوں پر مظالم کی شدید مذمت کی گئی۔

(جاری ہے)

بیان میں کہا گیا کہ ٹکی پورہ میں قائم فوجی کیمپ نے علاقے کے لوگوں کا جینا حرام کر رکھا ہے ، فوجی اہلکارڈاڑھی اور لمبے بال رکھنے والے جوانوں کو ظلم وتشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔دریں اثنا تحریک حریت جموں کشمیر کے رہنمائوںبشیر احمد قریشی ، محمد یوسف مکرو ، معراج الدین ربانی ، عمر عادل ڈار اور غلام محمد ہرہ نے مقبوضہ علاقے کے مختلف مقامات پر عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فورسز لاکھ کوشش کر لیں لیکن وہ جذبہ آزادی سے سرشار کشمیریوں کو کسی صورت زیر نہیں کر سکتیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کے سربراہ نے نہتے کشمیری نوجوانوں کے خلاف اعلان جنگ کر لیا ہے لیکن انہیں ناکامی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔انہوںنے کہا کہ جموں کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جس پربھارت نے جبری قبضہ کر رکھا ہے جسے ختم کرانے کے لیے کشمیر ی بیش بہا قربانیاں دے رہے ہیں۔