موجودہ پرفتن دور میں مسلمانوں کو اصلاح احوال کی ضرورت ہے ‘مسلمانو !جہاں حضور ؐ کے دین کی بات آجائے تو حضور ؐ کے بن جائو ‘ جو مسجد میں آتا ہے وہ نہ کسی اور جماعت کا ہوتا ہے نہ کسی اور پارٹی کا وہ صرف اللہ اور اس کے رسول ؐ کا ہوتا ہے

عالمی شہرت یافتہ مبلغ اسلام علامہ پروفیسر ڈاکٹر عمر فیض قادری کا محفل نعت و اصلاح احوال کانفرنس سے خطاب

ہفتہ مئی 20:01

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) عالمی شہرت یافتہ مبلغ اسلام علامہ پروفیسر ڈاکٹر عمر فیض قادری نے کہا ہے کہ موجودہ پرفتن دور میں مسلمانوں کو اصلاح احوال کی ضرورت ہے ‘مسلمانو !جہاں حضور ؐ کے دین کی بات آجائے تو حضور ؐ کے بن جائو ‘ جو مسجد میں آتا ہے وہ نہ کسی اور جماعت کا ہوتا ہے نہ کسی اور پارٹی کا وہ صرف اللہ اور اس کے رسول ؐ کا ہوتا ہے‘ ‘ امام الانبیا ء کے غلامو ! ساری پارٹیاں چھوڑ دو صرف اپنے نبی ؐ کی پارٹی میں شامل ہو جائو ‘نبی ؐ کے عاشقوں کی پہچان یہ ہے کہ نور ان کی آنکھوں میں ہو گا‘ جو حضورکو خاتم الانبیاء نہیں مانتے وہ حضور ؐ کو رسول بھی نہیں مانتے ‘ کوئی قبر میں ساتھ نہیں ہو گا وہاں مدینے سے حضور ؐ تشریف لائیں گے جو قبر میں نہیں چھوڑتے ان کے ساتھ جڑ جائیں ‘ اپنے علماء پر یقین رکھیں مسلمان کو ایک دوسرے پر اعتماد ہونا چاہئے ‘ جب مہر علی شاہ جیسے جید بزرگ میلاد منا رہے ہیں تو تم بھی آنکھیں بند کر میلاد منائو ‘ دوستوں کی اصلاح کرو اور اپنے مسلک اور عقیدے پر یقین کامل رکھو‘امام الانبیا ء کا دین لٹ رہا ہے ‘ حکمران امریکہ کے ہاتھوں بک چکے ہیں ان کے منہ میں ٹکڑے ہیں باطل کے ان کی گردن میں غلامی رسول کے پٹے نہیں رہے‘ہمارے سکولوں اور کالجوں کے اندر دین اسلام کو نافذ کرنا ہوگا ‘ان خیالات کا اظہار انہوںنے مرکزی انجمن محبان مصطفی ؐ کے زیراہتمام 15ویں سالا نہ عظیم و الشان محفل نعت و اصلاح احوال کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ‘کانفرنس کی سرپرستی پیر طریقت رہبر شریعت الحاج میاں محمد شفیع صاحب جھاگوی نے کی جبکہ مہمان نعت خواں محمود الحسن اشرفی نے بارگاہ رسالت مآ ب ؐ میں گل ہائے عقیدت نچھاور کئے ‘ کانفرنس میںسرپرست اعلیٰ انجمن محبان مصطفی ؐ میاں محمد رفیق جھاگوی، پیپلز پارٹی کے رہنما سردار مبارک حیدر نے خصوصی شرکت کی جبکہ مرکزی صدر انجمن محبان مصطفی میاں محمد شفیق جھاگوی ، سینئر نائب صدر ملک اعجاز، نائب صدر سلیم نذیر، جنرل سیکرٹری راجہ محمد تنویر مجید ، جائنٹ سیکرٹری وصی احمد شیخ ، چیف آرگنائزر فیصل رشید ، کوارڈینیٹر نوید لون، سیکرٹری مالیات شاکر ترک ، ڈپٹی سیکرٹری مالیات فائز اعوان ،سیکرٹری نشرو اشاعت اقبال پیرزادہ، ڈپٹی سیکرٹری نشرواشاعت محمد شبیر کشمیری ، سیکرٹری امور نوجوانان عاصم اعوان ، سیکرٹری تنظیمی امور زبیر چغتائی کانفرنس کے جملہ امور کی نگرانی کرتے رہے ‘کانفرنس میں مختلف یونٹس کے زمہ داران اپنے علاقوں کے قافلوں کے ہمراہ بڑی تعدا د میں شریک ہوئے اور بہترین کارکردگی دکھانے والی یونٹس کو کانفرنس کے دوران شیلڈز سے بھی نواز ا گیا ‘ پروفیسر ڈاکٹر عمر فیض قادری نے کہا کہ اس دور پر فتن میں ایک مسلمانوں کا جو کردار ہونا چاہئے تھا وہ آج نہیں نیٹ اور کیبل اور الیکٹرانک میڈیا اور فلمی میگزینوں نے پورے معاشرے کو ایک ایسا رنگ چڑھا یا ہے کہ ہماری شناخت ختم ہو چکی ہے ‘ اقبال نے کہا کہ تیرے چہرے کو دیکھ کر انگریز نظر آتا ہے مسلمان نظر نہیں آتا کیوں کہ اس میں اسلام نظر نہیں آتا 57اسلامی ممالک میں دین اسلام پردیسی ہو چکا ہے کوئی اسے سینے لگانے کے لیے تیار نہیں ‘ وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے ‘ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ یہ نعرہ اس وقت کا ہے جب قائد اعظم تحریک پاکستان کو لیڈ کررہے تھے ‘ ہماری تاریخ سے ہمیں دو ر کیا جارہا ہے ‘ یہ ملک اس لیے نہیں بنا کہ یہاں فلمی ماحول ہو اور باطل کا کلچر پروان چڑھایا جائے ‘ اگر اس وقت ہم نے یہ غفلت دکھا دی تو پھر یہ ایسی مجرمانہ غلطی ہو گی کہ تاریخ بھی معاف نہیں کرے گی اور اللہ اور اس کا رسول ؐ بھی معاف نہیں کریں گے ‘ مدینہ کے بعد اسلامی نظریے پرکوئی اسلامی ریاست بنی ہے وہ پاکستان ہے ‘ میرا یہ پیغام ہے کہ اگر دین کے غلبے کے لیے کوشش نہ کی تو سرکار بھی کہیں گے کے پکڑ لو اس بد بخت کو ‘ اس دین کی خاطر ہمارے نبی ؐ نے پتھر کھائے ‘ہجرت کی اور ہمیں اس کا احساس نہیں‘ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ملاں کی دوڑ مسجد ہے تو اللہ کی بارگاہ میں بھی اعلان کرنا کہ کہنا کہ ہماری دوڑ مسجد تھی تو ہماری بخشش ہو جائے گی ‘ ہماری دوڑ یا مسجد تک ہے یا مصطفی کے مدینے تک ہے ‘ بی اے کرنے والے اکثر طلباء سنی ہوتے ہیں مگر ماسٹر زلیول میں جاتے ہیں تو بد مذہبوں کی محفل میں رہنے کے بعد دین سے فارغ ہو جاتے ہیں ‘ ہم اکثر یہ کہتے ہیں کہ جو پڑھتا ہے وہ بگڑ کیوں جاتا ہے اس کی بنیادی وجہ وہ تعلیم ہے جس کا تعلیمی اداروں میں نفاذ کیا گیا ہے میں سنی اس لیے ہوں اصل عقیدہ یہی ہے میں نے چھلنی سے چھان کر دیکھا ہے 14ہزار کتب میرے کتب خانے میں ہیں ‘ہمارا عقیدہ وہی ہے جو صحابہ کا تھا ‘اللہ رب العزت انجمن محبان مصطفی کو حضورؐ کی چاکر ی کی توفیق عطاء فرمائے ‘ اور جو نوجوان کارکن نہیں بنانے و ہ اس قافلے میں شامل ہو جائیں ‘محفل نعت و کانفرنس کے اختتام پر شرکاء محفل میں لنگر تقسیم کیا گیا اور ایک خوش نصیب کو بذریعے قر عہ اندازی عمرے کا ٹکٹ بھی دیا گیا ۔