پاکستان میں متبادل ذرائع سے 1568 میگا واٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے،امجد علی اعوان

ہفتہ مئی 20:38

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) پاکستان میں پہلی بار متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار 1568 میگا واٹ ہوگئی جس میں ہائیڈرو الیکٹرک اور بلوچستان میں ہوا سے بجلی کے منصوبے شامل نہیں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین آلٹرنیٹو انرجی ڈیولپمنٹ بورڈ امجد علی اعوان نے انرجی اپ ڈیٹ کے تحت منعقدہ دسویں سالانہ پاور جنریشن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔

اس موقع پر پاکستان میں جرمن سفیر ڈاکٹرجینس کوکش، ایم ڈی پی پی آئی بی شاہ جہاں مرزا، سیکریٹری پلاننگ کمیشن شعیب احمد صدیقی، سندھ اینگرو کول مائننگ کے بریگیڈیئر طارق لاکھیر، ایم ڈی سیمنز پاکستان ہیلمیٹ وان سٹوویر، پروفیسر فیض چوھدری، سی ای او اسٹار ہائیڈرو وقار احمد خان، چیئرمین ایل این جی پاکستان منظور احمد ، چیئرمین آرگنائزنگ کمیٹی محمد نعیم قریشی، جی ای کے کنٹری ہیڈ صارم شیخ، سعد احمد قاضی، این اے زبیری اور دیگر نے خطاب کیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر امجد علی اعوان نے کہا کہ ملک میں سال کے آخر تک متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار 1870 میگا واٹ ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں ونڈ کوریڈور سے 938 میگاواٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے جونکہ بڑھ کر 1240 ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پانی سے بجلی کی پیداوار میں 7فیصد اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بجلی کی تمام ضروریات کو پورا کرنے کیلئے متبادل ذرائع کے استعمال کرنے کا وقت آگیا ہے کیونکہ اس میں اتنی گنجائش ہے کہ وہ پورے ملک کی بجلی کی قلت پورا کر سکتا ہے۔

اس موقع پر جرمن سفیر ڈاکٹرجینس کوکش نے کہا کہ جرمن اور پاکستان متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار میں خود کفیل ملک ہیں اور نہیں اس سلسلے میں مل کر کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جرمن انرجی ماڈل پاکستان کیلئے بہترین ہے اس کے ذریعے پاکستان میں بجلی کے بحران میں کمی آئے گی اور ملک میں صاف بجلی بھی پید اکی جاسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ موسم اچھا ہونے پر جرمنی میں 90فیصد بجلی متبادل ذرائع سے پید اکی جاتی ہے اور پاکستان میں سندھ اور بلوچستان کا موسم اس کیلئے بہت فائدے مند ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جرمنی 2022تک اپنے تمام نیوکلیئر پاور پلانٹ بند کر دے گا تانکہ ملک میں صاف بجلی پیدا کی جا سکے۔ پاکستان کو بھی چاہئے کہ وہ ہوا اور شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی طرف زور دے تانکہ ملک میں صاف بجلی پیدا کی جا سکے۔ منیجنگ ڈائریکٹر پی پی آئی بی شاہ جہاں مرزا نے کہا کہ ہمیں ملک میں بجلی کی پیداوار میں اضافے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کی بجلی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

انہوں نے اس وقت ملک میں مختلف طریقوں سے بجلی کی پیداوار میں اضافے کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے جس میں کوئلہ، شمی توانائی اور دیگر متبادل ذرائع شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی پی آئی بی نے نجی اداروں کے ذریعے بجلی کے کئی منصوبے شروع کئے ہیں جو کہ سال 2021تک 15000میگا واٹ بجلی پیدا کر سکیں گے۔ اس موقع پر سیکریٹری پلاننگ شعیب احمد صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بجلی کی طلب آبادی کے اضافے کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے تو اس سلسلے میں پلاننگ کے ساتھ بجلی کے نئے منصوبے بھی لگانے چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ باہر سے بھی کافی سرمایہ کار ملک میں انرجی سیکٹر میں سرمایہ لگانے کیلئے آرہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صاف بجلی کے منصوبوں کیلئے مل کر کام کرنے پر زور دیا۔ سندھ اینگروکے طارق لاکھیر نے کہا کہ تھر میں 5000میگا واٹ بجلی کوئلے سے پیدا کرنے کے منصوبے پر کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں 50فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور اس کے پہلے یونٹ سے پیداوار2018 کے آخر میں شروع ہو جائے گی۔ اسٹار ہائیڈرو کے وقار احمد خان نے کہا کہ پانی سے سستی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے تو اس حوالے سے ملک میں مزید ہائیڈرو پروجیکٹ لگائے جانے چاہئیں۔ اس موقع پر چیئرمین آرگنائزنگ کمیٹی محمد نعیم قریشی نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔