بجٹ میں ایک دو دن کی تاخیر سے قیامت نہیں آئے گی ، میر عبدالقدوس بزنجو

چاہتے ہیں ایسا بجٹ بنائیں ، آنے والی حکومت کو کوئی مشکل درپیش نہ ہو،جسے اپوزیشن بجٹ کہتی ہے وہ ہر سال عدالت میں رل رہا ہوتا تھا ،وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک کی باتیں سن کر حیرانی ہوئی ،انکے اور اتحادیوں کے دور میں انتظامی افسران کام کی بجائے 365میں سے 100دن ہائی کورٹ میں گزارتے تھے ، پریس کانفرنس

ہفتہ مئی 20:53

بجٹ میں ایک دو دن کی تاخیر سے قیامت نہیں آئے گی ، میر عبدالقدوس بزنجو
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) وزیراعلی بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے بجٹ میں ایک دو دن کی تاخیر سے قیامت نہیں آئے گی ،ہم چاہتے ہیں ایسا بجٹ بنائیں کہ آنے والی حکومت کو کوئی مشکل درپیش نہ ہو،اپوزیشن جماعتیں جسے بجٹ کہتی ہیں وہ گزشتہ پانچ سال سے عدالتوں میں رل رہا ہے ،اپوزیشن جماعتوں کی تنقید پر تعجب ہوا کیونکہ انکے دور میں انتظامی افسران 365میں سے 100دن عدالت کے چکر لگاتے تھے ، ہمارا مقصد تعلیمی نظام میں بہتری ہے ، صوبے کے 2ہزار اسکول بغیر چھت کے ہیں بجٹ میں تعلیم کو خصوصی تر جیح دی گئی ہے ، انہوں نے یہ بات ہفتے کو ہنہ اوڑک میں وزیراعلی ہاؤس میںحکومت بلوچستان اور زندگی ٹرسٹ کے درمیان بچوں کو تحفظ فراہم کرنے لئے نصاب میں مواد شامل کرنے کے حوالے سے مفاہمتی یاداشت پر دستخط کرنے کے بعد سماجی کارکن شہزادرائے کے ہمراہ پریس کانفر نس کر تے ہوئے کہی،اس موقع پر صوبائی وزر اء میر عامر رند ،طاہر محمود خان سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے، وزیراعلی میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ جب سے حکومت میں آئے تعلیم ہی ہماری اولین ترجیح رہی، بجٹ میں خطیر رقم تعلیم کے لئے مختص کی ہے، بلوچستان میں 2 ہزار اسکول بغیر چھت کے ہیں، جہاں بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں میں حیران ہوں پانچ سال تک حکومت نے کیا اقدامات اٹھائے جب ہمارے بچوں کے اسکولوں پر چھت نہیں ہے تو وہ کیسے تعلیم حاصل کریں گے ،وزیراعلی نے مزید کہا کہ 3 ہزار اسکولوں میں صاف پانی اور واش روم کی سہولت فراہم کرنے پر کام کررہے ہیں نہیں معلوم کہ سابقہ حکومتوں نے پانچ سالوں میں کیا کیا،انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد ہے کہ تعلیم کی بہتری کیلئے اقدامات کریں اور بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنائیں جدید تعلیم کے ذریعے بچوں کو معاشرے کا کار آمد اور اچھا شہری بنائیں گے ہم بچوں کو تعلیم دیتے ہیں مگر انہیں اچھے اور برے کی آگاہی دینا بھی ضرور ہے،زندگی ٹرسٹ کے ساتھ ایم او یو کا مقصد یہی ہے کہ بچوں کو اچھا شہری بنائیں ، انہوں نے کہا کہ کوالٹی ایجوکیشن کے تحت حکومت ملک بھر میں طالب علموں کی فیس کے اخرجات اٹھائے گی ،میرے پاس ایسے بچے بھی آئے جنہوں نے کہا کہ ہم امتحانات کی فیس نہیں دے سکتے اس سلسلے میں بھی اقدامات کئے جائیں گے ،وزیراعلی بلوچستان نے کہا کہ تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پانچ سال صوبے کا بجٹ ہائی کورٹ میں رلتا رہے پچھلے بجٹ میں 100قسم کی غلطیاں تھیں ہم نے بہت مشکل سے ہائی کورٹ سے اپنا کیس نمٹایا ،انہوں نے کہا کہ جسے اپوزیشن بجٹ کہتی ہے وہ ہر سال عدالت میں رل رہا ہوتا تھا مجھے ڈاکٹر عبدالمالک کی باتیں سن کر حیرانی ہوئی کیونکہ انکے اور انکے اتحادیوں کے دور میں انتظامی افسران کام کی بجائے 365میں سے 100دن ہائی کورٹ میں گزارتے تھے ، انہوں نے کہا کہ ہم ایسا بجٹ پیش کریں گے جو اگلی حکومت کے لئے بھی آسانی پیدا کرے ، ایک دو دن تاخیر سے قیامت نہیں آئے گی چیزیں بہتر ہونی چائیں سوشل میڈیا پر اختلافات کے حوالے سے چلنے والی خبریں بے بنیاد ہیں بجٹ میں تکنیکی غلطیاں تھیں جنہیں دور کر کے بہتر بجٹ پیش کیا جائے گا ،انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے بھی موجودہ حکومت کی کارکردگی کو سراہا ہماری توجہ تعلیم،، صحت اور پانی کی فراہمی پر ہے، سنڈیمن ہسپتال کا ماسٹر پلان بنا رہے ہیں،شوکت خانم ہسپتال کے ساتھ ملکر بلوچستان کینسر ہسپتال بنانے کیلئے بجٹ میں فنڈ رکھا ہے، حکومت پنجاب نے عارضہ قلب کے ہسپتال بنانے کا وعدہ کیا جو آج تک پورا نہ ہوسکا،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سماجی کارکن شہزاد رائے نے کہا کہ 2010میں آہنگ منصوبہ شروع کیا یہ بچوں کو صحت، حقوق، جسمانی اور زبانی حوالوں سے آگاہی فراہم کرتا ہے ،انہوں نے کہا کہ آج زندگی ٹرسٹ کیلئے ایک تاریخی دن ہے، شہزاد رائے بچے باہر سے زیادہ گھروں کے اندر جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں، شہزاد رائے ہمیشہ سے بلوچستان کے لئے کچھ کرنے کی خواہش تھی،خواہش ہے کہ ملک بھر اس بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے حساس معاملے پر کام کیا جائے،یہ بہت مثبت بات ہے کہ بلوچستان میں بھی تمام اسکولوں میں یہ نصاب پڑھا یا جائے گا۔