مہمان پرندوں کی آماجگاہوں کاتحفظ یقینی بنانے کیلئے پروٹیکشن فورس اور فیلڈ سٹاف ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے، ڈی جی وائلڈ لائف

ہفتہ مئی 20:36

لاہور۔12 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) ڈائریکٹر جنرل وائلڈ لائف اینڈ پارکس پنجاب خالد عیاض خان نے کہا ہے کہ مہمان پرندوں کی نسلوں کو معدومی سے بچانے اور ان کی آماجگاہوں کاتحفظ یقینی بنانے کے لئے صوبہ بھرمیں موجود ویٹ لینڈزپرتعینات پروٹیکشن فورس اور فیلڈ سٹاف ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے تاہم حکومت کے ساتھ ساتھ ان علاقوںکے لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ مہمان پرندوںکے تحفظ کیلئے حکومت اوردیگرکنزرویشن ایجنسیوں کا ہاتھ بٹانے میں اپنا قومی کردارادا کریں۔

انہوں نے یہ بات یہاں لاہورچڑیاگھر میں گرین پاکستان پروگرام کے تحت انٹرنیشنل مائیگریٹری برڈز ڈے کے حوالے سے منعقدہ واک، تصویری مقابلے اور عوام آگہی سیمینار میں حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔

(جاری ہے)

اس موقع پرڈپٹی ڈائریکٹر وائلڈلائف ہیڈ کوارٹرز محمد نعیم بھٹی، ڈپٹی ڈائریکٹر وائلڈلائف لاہور ریجن سید ظفرالحسن، ڈپٹی ڈائریکٹر وائلڈلائف سفاری زو چوہدری شفقت علی، ڈپٹی ڈائریکٹر وائلڈلائف پبلسٹی عامر مسعود اور ڈائریکٹر لاہور چڑیا گھر حسن علی سکھیرا، پراجیکٹ ڈائریکٹر گرین پاکستان پروگرام میاں حفیظ احمد کے علاوہ ریجنل افسران ، یونیورسٹیوں کے ذوالوجی کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ اور طلباء و طالبات کی بڑی تعداد موجود تھی۔

ڈی جی وائلڈ لائف نے کہا کہ دنیا بھر میں مہمان پرندوں کا دن منانے کابنیادی مقصدلوگوں میںان کے مساکن اوران کی کنزرویشن کے متعلق آگاہی پیداکرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شکارسے مکمل اجتناب اور ویٹ لینڈز پر انہیں آلودگی سے پاک ماحول فراہم کر کے ہی مہمان پرندوں کا تحفظ ممکن ہے تاکہ وہ یہاں آزادانہ ماحول میں فیڈنگ اور بریڈنگ گراوئنڈز میں بحفاظت اپنی افزائش نسل کرسکیں۔

خالد عیاض خان نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں ہرسال موسم سرماکے آغازپرلاکھوں کی تعداد میں پرندے سرد علاقوں روس ، سائبیریااور شمال وسط ایشیائی ریاستوں سے ہجرت کرکے انڈس فلائی وے کے ذریعے پاکستان اور بھارت کا رخ کرتے ہیں۔۔پاکستان کو خوبصورت ویٹ لینڈز کا حامل ملک ہونے کی بدولت خصوصی اہمیت حاصل ہے اورانٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے ایک سروے کے مطابق یہاں ہرسال ایک ملین کے لگ بھگ مہمان پرندے 4500کلومیٹرکی طویل مسافت کے بعد پاکستانی علاقوں واٹربیسن ، نوشہرہ ، ٹانڈہ ڈیم ، کوہاٹ ، سوات ، چترال،تربیلااورمنگلا ڈیم ، صوبہ پنجاب کے مختلف مقامات چشمہ بیراج ، تونسہ بیراج ، اچھالی کمپلیکس، ہیڈمرالہ، قادرآباد رسول،راجباہوں اورچھوٹی بڑ ی جھیلوں پر بسیرا کرتے ہیں۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر میاں حفیظ احمد نے گرین پاکستان پروگرام کے تحت جنگلی حیات کی بہتری کے لئے کیئے جانے والی اقدامات اور عوام آگہی کے منصوبوں پر تفصیلی روشنی ڈالی جبکہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی ہیڈ آف باٹنی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر غزالہ نے مہمان پرندوں کی آمد اور روانگی اورا ن کی عادات اور ہجرت کے دوران اختیار کردہ راستوں بارے ورکشاپ کے شرکاء کو آگاہی فراہم کی۔مزید برآں تقریب سے ایڈیشنل سیکرٹری جنگلات ، جنگلی حیات و ماہی پروری شاہد رشید اعوان، ڈبلیو ڈبلیو ایف سے ڈاکٹر عظمی خان نے بھی خطاب کیا۔ کریسنٹ سکول کے بچوں نے مائیگریٹری برڈز ڈے پر تقاریر کیں جبکہ نقش سکول آف آرٹ کے بچوں نے تصویری مقابلے اور دی ٹرسٹ سکول کے بچوں نے ٹیبلو پیش کئے۔