پاکستان امن پسند ملک ،پاکستانی زبردست اورمحنتی قوم ،عوامی خدمت کے جذبے سے سرشاراورپرعزم قیادت کی ضرورت ہے‘شہباز شریف

سیاسی قیادت کا معاشی روڈ میپ پر متفق ہونا وقت کی ضرورت ہے ،حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیںلیکن قوموں کا معاشی ایجنڈا نہیں بدلتا،معاشی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو ملکرکام کرنا ہے ، سیاسی قیادت متفق ہو توہم تاریخ کا دھارا موڑ سکتے ہیں ہمسایہ ممالک سے تعلقات کا فروغ ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہوگا، معیشت کی مضبوطی کے ایجنڈے کو ملکر آگے بڑھائینگے ہم ماضی کی طرف دیکھنے کی بجائے بہتر مستقبل کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں، افغانستان میں امن عمل کی بحالی اشد ضروری ہے، پاکستان میں امن و استحکام افغانستان میں امن سے منسلک ہے ،ہم دہائیوں سے 40لاکھ افغان مہاجروں کی میزبانی کررہے ہیں امن خطے کی ترقی کا ضامن ہیں اورہمیں ملکر خطے کے امن کو مضبوط بنانا ہے،پاکستان اوربھارت جوہری طاقتیں ہیں،دونوں ممالک کو اپنے وسائل غربت،جہالت اوربے روزگار ی کے خاتمے کیلئے صرف کرنے چاہئیں شمیر میں خون کی ہولی کھیلی جارہی ہیں ،پاکستان اور بھارت کو اپنے تمام تنازعات مل بیٹھ کر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے چاہئیں مسلم لیگ(ن) کے صدر اوروزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کا اسلام آباد میں60 سے زائدسفارتکاروں سے کلیدی خطاب

ہفتہ مئی 20:36

پاکستان امن پسند ملک ،پاکستانی زبردست اورمحنتی قوم ،عوامی خدمت کے ..
اسلام آباد /لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر اوروزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان امن پسند ملک ہے اورپاکستانی زبردست، محنتی اورپرامن قوم ہے،اسے مناسب ،عوامی خدمت کے جذبے سے سرشاراورپرعزم قیادت کی ضرورت ہے ،ملک کی سیاسی قیادت کا معاشی روڈ میپ پر متفق ہونا وقت کی ضرورت ہے،پارٹیاں اورحکومتیں آتی جاتی رہتی ہیںلیکن قوموں کا معاشی ایجنڈا نہیں بدلتا،معاشی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو ملکرکام کرنا ہے ،معاشی روڈ میپ قوموں کی زندگی میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے ، سیاسی قیادت متفق ہوکر معاشی روڈ میپ کو آگے بڑھائے توہم تاریخ کا دھارا موڑ سکتے ہیں،،پاکستان مسلم لیگ(ن) کو عام انتخابات میں کامیابی ملی اورعوام کی خدمت کا موقع ملاتو ہم ملکرملک کی تعمیرو ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھائیںگے،ہمسایہ ممالک سے تعلقات کا فروغ ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہوگااور معیشت کی مضبوطی کے ایجنڈے کو ملکر آگے بڑھائیںگے۔

(جاری ہے)

محمد شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میںپنجاب کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں دنیا کی60 ممالک سے زائد سفیروں،ہائی کمشنرز، سفارتکاروںاوردیگر مالیاتی اداروں کے اعلی حکام نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے سفارتکاروں سے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ میرے لئے دنیا بھر سے آئے ہوئے سفارتکاروں سے خطاب باعث اعزاز ہے ۔۔پاکستان مسلم لیگ(ن) کا صدر منتخب ہونے کے بعد اس رابطے کا مقصد آپ کو ماضی کی کارکردگی اورمستقبل کے بارے میں آگاہ کرنا ہے ۔

انہوںنے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒاور شاعر مشرق علامہ اقبالؒکے ویژن پر یقین رکھتی ہے اوران کے افکارپرعمل پیرا ہوکرآگے بڑھ رہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ 1979ء میں پاکستان مشکل حالات کی زد میں آیا اورایک بڑی جنگ میں فرنٹ لائن ملک بنا۔2002ء میںایک بار پھر پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن ملک بنا ہے اوراس جنگ میں پاکستان نے 70ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دی ہیں جن میں افواج پاکستان ،سکیورٹی اداروں کے افسران اوربچے اورعام پاکستانی شامل ہیں۔

پاکستان کو سرد جنگ کے زمانے میں فرنٹ لائن سٹیٹ کا درجہ حاصل ہوا۔انہوںنے کہاکہ 21 ویں صدی میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کیخلاف جنگ میں پاکستان ایک بار پھر فرنٹ لائن سٹیٹ ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کے عوام نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بلند حوصلے اور غیرمتزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔انہوںنے کہاکہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں کامیابی سیاسی اور عسکری قیادت کے اتحاد و اتفاق کے باعث ممکن ہوئی۔

پاک فوج کے 2009 میں سوات آپریشن ، 2014 کے ضرب عضب اور موجودہ ردالفساد آپریشن میں پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت ایک پیج پر ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کی بہادر افواج نے پوسٹ نائن الیون شروع ہونیوالی دہشت گردی کیخلاف جنگ میں گرانقدر قربانیاں پیش کیں۔ پاکستان نے عالمی تاریخ میں سب سے زیادہ مہاجرین کی میزبانی کا حق بھی ادا کیا۔ہم نے دہشت گردی کیخلاف کامیاب جنگ لڑی ہے ۔

جس میں ہماری مسلح افواج اورسکیورٹی اداروں نے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ اس جنگ میں ہمیں کامیابی ملی ہیں اوراس کامیابی کی بڑی وجہ سیاسی و عسکری قیادت کا ایک بیج پر ہونا ہے ۔انہوںنے کہاکہ پاکستان بین الاقوامی برادری میں ایک ذمہ داررکن کی حیثیت سے طویل تاریخ رکھتا ہے ۔ہم نے ہمیشہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اوربین الاقوامی کنونشنز کی پاسداری کی ہے ۔

امن کا حصول اورخطے میں ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات ہماری اولین ترجیح ہے ۔۔پاکستان کی اسلامی ممالک سے تعلقات کی طویل تاریخ ہے اورپاکستان مغربی دنیا کیساتھ بھی ایک مضبوط اورپائیدار رفاقت رکھتا ہے ۔ہم دوست ممالک کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں اوران ممالک کے معاشی تعاون پر شکرگزار بھی ہیں ۔انہوںنے کہاکہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے گزشتہ ساڑھے چار سال کے دوران ملک کی ترقی اورمعیشت کی بہتری کیلئے ٹھوس اقدامات کیے جن کی بدولت قومی معیشت مضبوط ہوئی اورجی ڈی پی کی شرح5.8فیصد تک پہنچی جو گزشتہ 13سال کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے ۔

اسی طرح زراعت کی ترقی کی شرح بھی 3.8فیصد تک رہی ہے ۔ہمیں خسارے کے مسائل درپیش رہے ہیں اسے قرضے لیکر نہیں بلکہ معیشت کو فروغ دیکرحل کرنا ہے۔ ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھانا اوراضافی وسائل پیدا کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔ہمیںقدرتی وسائل کو بروئے کار لاکرعوام کی فلاح وبہبود کیلئے اقدامات کرنا ہے۔ پاکستان کی 60فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے،اسے جدید علوم سے آراستہ کر کے ملک وقوم کی تقدیر بدلی جاسکتی ہے ۔

60فیصدنوجوانوں پر مشتمل آبادی ایک بڑا چیلنج ہے جسے موقع میں بدلنا ہے ۔۔تعلیم ہی ترقی کا واحد راستہ ہے ،ترقی یافتہ قوموں نے تعلیم کو فروغ دے کر ہی بے مثال ترقی کی ہے ۔ہنر مند افرادی قوت کسی بھی قوم اورمعاشرے کی ترقی میں اہم کرداراد ا کرتی ہے اورپاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے ۔

تعلیم ،صحت اورفنی تعلیم کے فروغ میںعالمی بینک،ڈیفڈ اوردیگر ڈونر اداروں اور دوست ممالک کے تعاون پر شکرگزارہیں۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے گزشتہ ساڑھے نو سال میں ترقیاتی منصوبوں میں اربوں روپے کی بچت کی ہے اور ترقیاتی منصوبوں میں بچائی گئی یہ رقم عوام کوتعلیم اورصحت عامہ کی سہولتوں کی فراہمی پر صرف کی جارہی ہیں۔

انہوںنے کہا کہ پنجاب حکومت نے تعلیم اورصحت کی سہولتوں کی فراہمی پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے ۔سکولوں میں عدم دستیاب سہولتیں فراہم کی گئی ہیں جبکہ پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کے تحت غریب ترین گھرانوں کے بچوں کو تعلیم کیلئے وظائف دیئے جارہے ہیں ۔اب تک 17ارب روپے کے وظائف تقسیم کیے جاچکے ہیں اوران وظائف سے ہزاروں بچے اوربچیاں تعلیم حاصل کر کے ملک کی تعمیر وترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں ۔

تعلیمی فنڈز سے تعلیم حاصل کر کے ہزاروں ڈاکٹرز اورانجینئرز بن کر ملک و قوم کی خدمت کررہے ہیں اوراپنے خاندانوں اورمعاشرے کا بوجھ بانٹ رہے ہیں اوریہ ایک بڑی پیراڈائم شفٹ ہے ۔ انہوںنے کہاکہ صوبے میں میرٹ کو فروغ دیاگیا ہے ۔تمام محکموں میں بھرتیاں صرف اورصرف میرٹ کی بنیاد پر کی گئی ہیں۔2لاکھ سے زائد اساتذہ سو فیصد میرٹ پر بھرتی کیے گئے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ انرولمنٹ 95فیصد ہے جس کا تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی کرایا گیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ تعلیم کی طرح صحت کے شعبہ میں بھی انقلاب برپا کیاہے۔ سرکاری ہسپتالوں کے کلچر کو بدل دیا ہے ۔تمام ضلعی ہسپتالوں میں بیرون ممالک سے منگوائی گئی سی ٹی سکین مشینیں لگائی جارہی ہیں ،بہت سے ہسپتالوں میں یہ مشینیں لگ چکی ہیں۔پبلک پرائیویٹ پا رٹنر شپ کے تحت لگنے والی یہ مشینیں 24گھنٹے مریضوں کو سی ٹی سکین کی سہولتیں فراہم کررہی ہیں ۔

دنیا کے مختلف ممالک کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے ہم نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے جدید نظام کو آگے بڑھایا ہے اوراسی نظام کے تحت بجلی کے کارخانے بھی لگائے گئے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ توانائی بحران نے ملک کی معیشت کو جکڑکر رکھاہوا تھا۔۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی شبانہ روز کی محنت رنگ لائی ہے اورملک سے توانائی بحران ختم ہونے کو ہے۔

انہوںنے کہاکہ توانائی بحران کے خاتمے کیلئے دوست ممالک کے تعاون پر بے حد مشکور ہیں ۔۔چین نے سی پیک کے تحت توانائی منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ہم غیر مشروط تعاون پر دوست ممالک کے شکرگزار ہیں اوران کے اس تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پالیسیوں کا ماخذ علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کے افکار ہیں۔

پاکستان کو معتدل، اجتماعیت اور ترقی پسند ملک بنانے کے وژن پر عمل پیرا ہیں۔ پاکستان میں آئین کے تحت تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہم ماضی کی طرف دیکھنے کی بجائے بہتر مستقبل کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ریکارڈ گواہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ عالمی برادری میں ذمہ دار ملک ہونے کے تقاضوں کو نبھایا ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی کنونشنز پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کو ترجیح دی۔

انہوںنے کہاکہ دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کی مسلح افواج نے شاندار خدمات سرانجام دیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی قائداعظمؒ کے متعین کردہ امن کے راستے پر استوار ہے۔ انہوںنے کہاکہ خطے میں پڑوسی ممالک کیساتھ پرامن تعلقات ہماری ترجیحات میں سرفہرست ہے۔میں سمجھتا ہوںکہ افغانستان میں امن عمل کی بحالی اشد ضروری ہے۔

انہوںنے کہاکہ پاکستان میں امن و استحکام افغانستان میں امن سے براہ راست منسلک ہے۔ہم ہمسایہ ممالک کیساتھ معاشی علاقائی تعاون کی حمایت کرتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ سی پیک خطے میں باہمی معاشی تعاون کی بہترین مثال ہے۔ ضرورت کے وقت پاکستان کی مدد کرنے پر چین کے شکرگزار ہیں۔ انہوںنے کہاکہ چین کے صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ وژن کے تحت دونوں ممالک اقتصادی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہیں۔

انہوںنے کہاکہ سی پیک کے تحت انرجی، مواصلات، پائپ لائنز، بندرگاہوں کی تعمیر اور دیگر شعبوں میں معاشی تعاون سے نئے افق وا ہو رہے ہیں۔جنوبی ایشیا میں اچھے مستقبل کے خواب کو پورا کرنے کیلئے اسلحے کی دوڑ کو گڈبائی کہنا ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ جنوبی ایشیا کی کثیر آبادی اسلحے کی دوڑ کی وجہ سے عدم استحکام اور معاشی مسائل کا شکار ہے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ پاک بھارت تعلقات کو امریکہ اور کینیڈا کے تعلقات کی مانند سہل اور رواں دیکھنا چاہتے تھے۔

انہوںنے کہاکہ دو خودمختار ہمسائے مساوات اور برابری کی بنیاد پر امن و استحکام سے زندگی بسر کریں۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے سفارتکاروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی امن،ترقی اورمعاشی تعاون پر مبنی ہوگی تاکہ خطے کے ممالک دستیاب وسائل سے ملکر فائدہ اٹھائے۔انہوںنے کہا کہ ہم نے اس ضمن میں بہت وقت ضائع کیا ہے اب اس کی تلافی کا وقت آگیا ہے ۔

انہوںنے کہاکہ بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے تو اس کے جواب میں ہم نے اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کیلئے ایٹمی دھماکے کیے۔ہمارا یہ اقدام جارحانہ نہیں بلکہ دفاعی ایکشن تھا۔انہوںنے کہا کہ پاکستان تمام ممالک سے بہترین تعلقات کا خواہاں ہیں اوریہی ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی جز ہے ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان کے امریکہ ،،برطانیہ اوردیگر یورپی ممالک سے اچھے تعلقات ہیں اورچین نے سی پیک کے تحت پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے ۔

ایک سفارتکار کے سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ پنجاب حکومت نے 15لاکھ نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا ہے ، انہوںنے کہا کہ پاکستان کی زرعی معیشت ہے اور65 فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے جس کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے ۔ہم نے دیہی علاقوں میں انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا ہے اورگزشتہ پانچ سال میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری سے کھیتوں سے منڈیوں تک شاندار سڑکیں بنائی ہیںجس سے دیہی طرز زندگی بدلہ ہے اور دیہی معیشت میں بہتری آئی ہے ۔

اسی طرح دیہاتی علاقوں میں تعلیم اورصحت کی بھی بہترین سہولتیں فراہم کی ہیں۔ موبائل ہسپتال دوردواز اور پسماندہ علاقوں میں عوام کو علاج و تشخیص کی معیاری سہولتیں ان کی دہلیز پرفراہم کررہے ہیں ۔ چھوٹے کاشتکاروں کو اربوں روپے کے بلاسود قرضے دیئے گئے ہیں ۔خود روزگار سکیم کے تحت نوجوانوں کو بلاسود قرضے دیئے گئے ہیں ۔صاف دیہات پروگرام کے تحت دیہاتوں کو صاف کیاگیا ہے ۔

لینڈ ریکارڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کے تحت دیہی زمینوں کاریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کیاگیا ہے جس سے کاشتکاروں کو بے پناہ فائدہ ہوا ہے ۔چینی سفیر کے سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ چین پاکستان کا مخلص دوست ہے اوراس نے سی پیک کے تحت ترقیاتی منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے ،اسی طرح ڈیفڈ ہمارا پارٹنر ہے اوراس کیساتھ ہماری پارٹنر شپ سود مند ثابت ہوئی ہے ۔

سکل ڈویلپمنٹ ،،تعلیم اورصحت کے دیگر شعبوں میں ہمارا اشتراک کامیاب رہا ہے ۔ایک اورسوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ سعودی عرب ،متحدہ امارات ،قطراوردیگر ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی مقیم ہیں اوریہ بھی ایک قسم کا سی پیک ہی ہے ۔تاجکستان کے سفیر کے سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ کاسا اورتاپی شاندار پراجیکٹ ہیں اوران منصوبوں سے دونوں ممالک کے مابین باہمی رابطوں کو فروغ ملاہے اوریہ تعاون بھی سی پیک کی ہی قسم ہے ۔

انہوںنے کہاکہ پاکستان ترقی پذیر ملک ہے اورہمیں اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے ماضی کی کوتاہوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہے اورتاریخ کا دھارا موڑنا ہے ۔ایک اورسوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ صنعتی ترقی کے عمل کو تیزکرنے کیلئے مزید اقدامات کرنا ہوںگے۔ درآمدات اوربرآمدات کے مابین موجود خلا کو ختم کرنے کیلئے برآمدات پر مبنی صنعتوں کو فروغ دینا ہوگا۔

زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے ،،عالمی بینک زرعی شعبے کی ترقی میں ہمیں بھر پور معاونت کررہا ہے ۔ 5.8فیصد سالانہ ترقی کی شرح کو 7یا 8فیصدتک لے جانا ہوگا۔۔افغانستان کے سفیر کے سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ پاکستان اورافغانستان برادر اسلامی ملک ہیں،ہمارا کلچر ،تہذیب اورثقافت یکساں ہیں۔ افغانستان کیساتھ ہمارا باڈرہزاروں کلو میٹر پر محیط ہے اورہم دہائیوں سے 40لاکھ افغان مہاجروں کی میزبانی کررہے ہیں۔

افغانستان کاامن ہمیں بے حد عزیز ہے،ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں امن پاکستان میں امن جبکہ پاکستان میں امن افغانستان کے امن کے مترادف ہے۔۔پاکستان کی ترقی افغانستان کی ترقی اورافغانستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے ۔ہم ہمسائے ہیں جو ہمارے لئے اچھا ،وہی افغانستان کیلئے اچھا ہے ۔باہمی تعاون کے بغیر خطہ آگے نہیں بڑھ سکتا،امن خطے کی ترقی کا ضامن ہیں اورہمیں ملکر خطے کے امن کو مضبوط بنانا ہے۔

آسٹریاکی سفیرکے سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم نے ثقافتی ورثے کے تحفظ اوربحالی کیلئے بے مثال اقدامات کیے ہیں ۔گریٹر اقبال پارک اوردیگر منصوبے اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔قدیم ثقافت کو محفوظ بنانے کیلئے ہمارے اقدامات شاندار ہیں۔ایک اورسوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان اوربھارت جوہری طاقتیں ہیںاوردونوں ممالک کو اپنے وسائل غربت،جہالت اوربے روزگار ی کے خاتمے کیلئے صرف کرنے چاہئیں۔

ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کے بجائے ان سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔ وسائل، بے روزگاری کے خاتمے اورعوام کو تعلیم و صحت کی سہولتوں کی فراہمی پر صرف ہونے چاہیے۔انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے کشمیر میں خون کی ہولی کھیلی جارہی ہیں اورکشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں ۔وقت کا تقاضا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کیا جائے اورکشمیر کے مسئلے کو حل کیا جائے اورپاکستان اور بھارت کو اپنے تمام تنازعات مل بیٹھ کر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے چاہئیں اوراس سلسلے میں عالمی برادری کو بھی معاونت کرنی چاہیے۔

ایک اورسوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی بڑا چیلنج ہیں اسے کنٹرول کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔۔بنگلہ دیش اورملایشیاء ان مسائل پر قابو پایہ ہے ۔ہماری اولین ترجیح بھی یہی مسئلہ ہونی چاہیے اسی طرح پانی کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے ،بدلتے ہوئے موسمی حالات اورپانی کی کمی کے مسائل سے نمٹنے کیلئے بروقت اقدامات کرنا ہوںگے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے خواتین کی ترقی اورانہیں بااختیار بنانے کیلئے بے مثال اقدامات کیے ہیں ،خواتین کیخلاف تشدد کے خاتمے کا پہلا مرکز ملتان میں آپریشنل ہیں اوریہاں ایک ہی چھت تلے تشدد کا شکار خواتین کی دادرسی کیلئے تمام سہولتیں مہیا کی گئی ہیں ،اسی طرح بلاسود قرضے کی فراہمی کے پروگرام ،تعلیمی فنڈز اوردیگر فلاحی پروگراموں میں بھی خواتین کو شامل کیاگیا ہے ۔۔چین ،،سعودی عرب،،،متحدہ عرب امارات،،،برطانیہ ،،کینیڈا،،،بھارت،، فرانس،، جرمنی،، انڈونیشیا،،ایران ،،اٹلی،،جاپان، کوریااورملایشیاء سمیت 60سے زائد ممالک کے سفارتکاروں نے پنجاب کانفرنس میں شرکت کی۔