تین ماہ کے بجٹ سے رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں کوئی بہتری کے امکان نہیں دکھ رہے ہیں ،عمران عارف

ہفتہ مئی 21:11

تین ماہ کے بجٹ سے رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں کوئی بہتری کے امکان نہیں ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) اے اینڈ آئی گروپ آف کمپنیز کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر عمران عارف اور ڈائریکٹر محمد عدنان نے جاری کردہ بیان مٰن کہا کہ سالانہ بجٹ 2018-19معاشی ترقی کے بجائے سیاسی ترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے پیش کیا گیا ہے تاہم اس سے عام عوام کو کوئی ریلیف ملنے کا امکان نہیں ۔

(جاری ہے)

ان کا مزید کہنا تھا کہ شہر بھر میں جای رہائشی و کمرشل پروجیکٹ میٹریل مہنگا ہونے کے باعث مہنگے داموں فروخت کرنا بلڈر کی مجبوری ہوتی ہے تاہم سندھ حکومت کی جانب سے گرائونڈ پلس فلور پر پابندی عائد کر کے عوام کو سستے گھروں سے محروم کردیا گیا ہے انہوں نے مزید کہا کہ شہر کراچی کی تعمیر و ترقی میں بلڈروں نے اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ موجودہ حالات میں شہر مین سرمایہ کاری کرنا انتہائی مشکل مرحلہ تھا جس سے سرمایہ کار مایوسی کا شکار تھے پر شہر کے امن کو بحال کرنے کے لیے پولیس و رینجرز نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے جس کے باعث حالات سے مایوس سرمایہ کار واپس لوٹ کر شہر کی ترقی میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے میں اپنی دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں انہوںنے مزید بتایا کہ اے اینڈ آئی گروپ آف کمپنیز عوام کے رہائشی مسائل کے کاتمے کے لیے آئندہ سال شہر میں مزید پروجیکٹ کا افتتاح کرنا ہے جبکہ اس وقت شہر کے مختلف علاقوں میں اے اینڈ آئی گروپ کے پروجیکٹ جاری ہے ۔