شیخ وومن اسپتال کے گائنی یونٹ ٹو میںماؤں کے عالمی دن کے حوالے سے تقریب کا انعقاد

ہفتہ مئی 21:11

لاڑکانہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) شیخ وومن اسپتال کے گائنی یونٹ ٹو میںماؤں کے عالمی دن کے حوالے سے تقریب کا انعقاد کیا گیا جہاں ماؤں کو خراج پیش کرنے کے لیے کیک کاٹا گیا جبکہ مختلف ٹیبلوز پیش کرکے ماؤں کی صحت کے مسائل کے ساتھ ساتھ ان کی اہمیت اور پیار کو بھی اجاگر کیا گیا۔ تقریب میں گائنی یونٹ ٹو کے انچارج اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ مگسی، پروفیسر ڈاکٹر رفیعہ بلوچ، ڈاکٹر فوزیہ کاشف، ڈاکٹر افشان بھٹی، ڈاکٹر حمیدہ شیخ اور دیگر نے شرکت کی۔

اس موقع پر انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جدید دؤر میں بھی ماؤں کو مطلوب صحت اور مقام نہ مل سکا ہے جس کے باعث ان کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شیخ زید وومن اسپتال کے تینوں گائنی یونٹس میں گذشتہ سال 18 ہزار ماؤں کی جھولیوں کو آباد کیا گیا اور اس قسم کے سروسز فراہم کرنے پر ہمیں فخر ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ گائنی یونٹ تھری میں گذشتہ سال 6 ہزار ماؤں کی زچگی اور سیزر کروائے گئے جن میں سے 60 مائیں دم توڑگئیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ لیڈی ڈاکٹر بلاجواز سیزر کرتے ہیں لیکن وہ ہمیں سمجھ نہیں پاتے کیونکہ اس وقت ماں کی حالت تشویش ناک ہوتی ہے اس خطرناک صورتحال کی وجہ سے ہم ایسے فیصلے کرتے ہیں تاکہ ماں کی زندگی کو بچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عام انسان کے 260 ہڈیوں کو توڑا جائے لیکن وہ تکلیف کم ہے اگر کوئی ماں اپنے بچے کو جنم دیتی ہے تو وہ تکلیف اس سے بھی بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حاملہ خواتین کو اکثر 7 ماہ کے بعد معائنے کے لیے لایا جاتا ہے اور زچگی کے بعد ماں اور بچے کی صحت خراب ہوتی ہے۔ اس صورتحال میں ورثا کو چاہیے کہ حاملہ خاتون کا ہر مہینے معائنہ کروائیں تاکہ اس سے ماں اور بچے کی صحت بہتر ہوسکے۔

متعلقہ عنوان :