پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی سے ہرگز دریغ نہیں کیا جائے گا،

مقررین ملک دشمن طاقتوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا جائے گا وطن دشمن عناصرجان لیں کہ پاکستانی عوام وطن عزیز کی وحدت اور سلامتی کو یقینی بنانے کی خاطر متحد اور افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پشتون تحفظ موومنٹ دشمن کی ایک نئی چال ہے جسے پوری قوم اپنے اتحاد واتفاق سے ناکام بنا دے گی، ’’پاکستان پائندہ باد کانفرنس‘‘ سے خطاب

ہفتہ مئی 21:37

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی سے ہرگز دریغ نہیں کیا جائے گا اور ملک دشمن طاقتوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا جائے گا۔ وطن دشمن عناصرجان لیں کہ پاکستانی عوام وطن عزیز کی وحدت اور سلامتی کو یقینی بنانے کی خاطر متحد اور افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

آج 1946-47ء والے جذبے کو ازسرنو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ دشمنوں کی سازشوں کے باوجود پاکستان کا مستقبل انتہائی روشن اورتابناک ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ دشمن کی ایک نئی چال ہے جسے پوری قوم اپنے اتحاد واتفاق سے ناکام بنا دے گی۔ ان خیالات کااظہار مقررین نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان ، شاہراہ قائداعظمؒ لاہور میں نظریہٴ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام منعقدہ ’’پاکستان پائندہ باد کانفرنس‘‘ کے دوران کیا۔

(جاری ہے)

اس کانفرنس کا اہتمام تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا گیاتھا۔ کانفرنس کی صدارت تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن اور وائس چیئرمین نظریہٴ پاکستان ٹرسٹ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کی جبکہ اس موقع پر خانوادہٴ حضرت سلطان باہوؒصاحبزادہ سلطان احمد علی، کنوینر تحریک حرمت رسولؐ امیر حمزہ، صدر نظریہٴ پاکستان فورم برطانیہ ملک غلام ربانی اعوان، چیئرمین پاکستان شیعہ پولیٹیکل پارٹی سید نوبہار شاہ، سرپرست اعلیٰ نظریہٴ پاکستان فورم آزاد کشمیر مولانا محمد شفیع جوش، کالم نگار ودانشور محمد آصف بھلی ایڈووکیٹ، فاروق خان آزاد، نواب برکات محمود، اسد اللہ خان، اساتذہٴ کرام‘ طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات بڑی تعداد میں موجود تھے۔

پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک ،نعت رسول مقبولؐ اور قومی ترانہ سے ہوا۔قاری خالد محمود نے تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی جبکہ الحاج اختر حسین قریشی نے بارگاہ رسالت مآبؐ میں ہدیہٴ عقیدت پیش کیا۔پروگرام کی نظامت کے فرائض سیکرٹری نظریہٴ پاکستان ٹرسٹ شاہد رشید نے انجام دیے۔ تحریک پاکستان کے مخلص کارکن‘سابق صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان و چیئرمین نظریہٴ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ نے کانفرنس کے شرکاء کے نام اپنے خصوصی پیغام میں کہا پاکستان پائندہ باد کانفرنسوں کے انعقاد کا مقصد یہ ہے کہ نامساعد حالات میں پاکستانی قوم کے دل و دماغ میں امید اور حوصلے کی شمع روشن کی جائے اور اسے باور کرایا جائے کہ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی حالات اور دشمنوں کی مسلسل سازشوں کے باوجود پاکستان کا مستقبل بڑا محفوظ اور تابناک ہے۔

پاکستان جب سے جوہری طاقت بنا ہے‘ اس کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہو گیا ہے۔ ہمارے ازلی دشمن بھارت کے لیے اب پاکستان پر روایتی جنگ مسلط کرنا ممکن نہیں رہا۔ اس لیے وہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کیلئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ ایک طرف عوام کے ذہنوں میں قیامِ پاکستان کی غایتِ وجود یعنی دو قومی نظریے کی حقانیت کے بارے ابہام پیدا کرنے کی جسارت کی جارہی ہے تو دوسری طرف انہیں پاکستان کے روشن مستقبل کے حوالے سے بے یقینی کا شکار بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

علاوہ ازیں ایسی تحریکوں اور عناصر کی سرپرستی کی جارہی ہے جو پاکستان کے اسلامی نظریاتی تشخص پر سرے سے ایمان ہی نہیں رکھتے۔ اس خطرناک صورتحال کے تدارک کے خاطر ان نظریاتی اجتماعات کے ذریعے عوام کو حوصلہ دلایا جارہا ہے اور انہیں بتایا جارہا ہے کہ 14اگست 1947ء کو صفر سے سفر کا آغاز کرنے والا یہ ملک اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج عالمِ اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں جوہری طاقت بن چکا ہے۔

بہت سے دیگر شعبوں میں بھی قابلِ ر شک ترقی کرچکا ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ یہ نظریاتی اجتماع پاکستانی قوم کے اس عزم کو تقویت دے گا کہ حالات چاہے کیسے ہی کیوں نہ ہوں‘ دشمن چاہے کتنے ہی مذموم حربے کیوں نہ استعمال کرتا رہے‘ ہم اس مملکتِ خداداد کو ایک پرامن اور خوش حال ملک اور دینِ اسلام کا قلعہ بنانے کے سفر کو ہر قیمت پر جاری رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو ۔

پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ پاکستان پائندہ باد کانفرنسوں کے انعقاد کا سلسلہ قوم میں احساس تفاخر پید اکرنے کے لیے شروع کیا گیاتھا۔ تحریک پاکستان ایک عوامی تحریک تھی جس میں برصغیر کے ہر کونے میں رہنے والے مسلمان نے حصہ لیا ۔آگے بڑھنے کیلئے قوموں کو جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب ہمارے پاس موجود ہیں۔ ہمارا ملک وسائل سے بھرا پڑا ہے۔

ہمارا ویژن زبردست ہے، اسلام ہماری بہترین رہنمائی کرتا ہے، ہماری تہذیب اور روایات شاندار ہیں۔ جب بھی بحران آتا ہے یہ قوم اکٹھی ہو جاتی ہے۔ ہمیں ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا ہے جو جدید‘اسلامی ‘ فلاحی ‘ جمہوری ہو ۔ مشکلات اور بحرانوں کے باوجود پاکستان قائم و دائم ہے اور یہ ہمیشہ پائندہ و تابندہ رہے گا۔ صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا بھارت نے پاکستان کے وجود کو آج تک دل سے تسلیم نہیں کیا اور وہ مسلسل پاکستان کی سلامتی کیخلاف سازشوں میں مصروف رہتا ہے۔

ان دنوں چند عالمی طاقتوں کی پشت پناہی سے بھارت پاکستان میں پشتون تحفظ موومنٹ کو ہوا دے رہا ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ کا موقف پختون قوم کا موقف نہیں ہے ۔ جس طرح چند گمراہ لوگوں نے پوری بلوچ قوم کو یرغمال بنانے کی کوشش کی اسی طرح چند گمراہ پختون عناصر پوری پختون قوم کے نام نہاد ٹھیکیدار بن رہے ہیں ۔ پختون بھائیوں نے انہیں مسترد کر دیا ہے ۔

ایک ایک پختون بھی اسی طرح محب وطن ہے جیسے پاکستان کا کسی دوسرے حصے میں رہنے والا عام پاکستانی محب وطن ہے۔آج بدقسمتی سے ہماری صفوں میں دشمن کے ایجنٹ گھس آئے ہیں۔ ہمیں اپنے اتحاد و یکجہتی سے گمراہ اور بے بنیاد پراپیگنڈہ کرنیوالے ملک دشمن عناصر کو شکست دینا ہے۔ تحریک پاکستان میں خواص کے علاوہ عام آدمیوں نے بھرپور حصہ لیا اور اب یہی عوام پاکستان کی حفاظت کی خاطر تن من دھن قربان کر دیں گے۔

امیر حمزہ نے کہا کہ پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے نہایت اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ دنیا کی تمام بڑی طاقتیں پاکستان کی اہمیت سے واقف ہیں ، آج پاکستان اس قابل ہو گیا ہے کہ امریکہ کے جواب میں پاکستان نے بھی امریکی سفارت کاروں پر پابندیاں لگا دی ہیں۔ پاکستان ایک نظریہ کی بنیاد پر قائم ہوا اور یہ ایک نظریاتی ملک ہے اسی طرح پاکستان کی فوج بھی نظریاتی فوج ہے۔

فوج نے ملک میں قیام امن کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں۔۔پاکستان میں امن ہمارے دشمنوں کو قبول نہیں ہے اور وہ اسے سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان سراسر رحمت ہے۔ صدر نظریہٴ پاکستان فورم برطانیہ ملک غلام ربانی اعوان نے کہا کہ ملک دشمن بیرونی قوتوں کے ہتھکنڈوں کو ناکام بنانے کی خاطر پاکستانی قوم کی صفوں میں اتحاد اور یکجہتی ناگزیر ہے۔ پاکستان کی وحدت اور سالمیت سے محبت کرنے والی قوتوں کو یکجان اور یک زبان ہو کر دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنانا ہو گا۔

مایوسی کی اس فضا میں پاکستان پائندہ باد کانفرنس تازہ ہوا کا ایک جھونکا ہے۔ مولانا محمد شفیع جوش نے کہا واصف علی واصف نے کہا تھا کہ پاکستان ایک نور ہے اور نور کو کبھی زوال نہیں ہے۔ پاکستان ایک بہت بڑا ملک ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی نعمتوں سے نوازا ہے۔ یہ ملک اسلام کی بنیاد پر قائم ہوا اور تاقیامت قائم و دائم رہے گا۔سید نوبہار شاہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ہر طرح کے وسائل سے نواز رکھا ہے۔

مناسب پلاننگ سے ہم دنیا کی ترقی یافتہ اقوام میں شامل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کو پائندہ تر بنانے کے لیے ہمیں ہر قسم کی عصبیت سے نکلنا ہو گا۔محمد آصف بھلی ایڈووکیٹ نے کہا کہ پاکستان ایک جمہوری اور عوامی تحریک کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا۔۔پاکستان نے نظریہ کی کوکھ سے جنم لیا ہے ، نظریہٴ پاکستان ہماری شناخت ہے۔ پاکستان اور نظریہٴ پاکستان لازم وملزوم ہیں۔

سقوط ڈھاکہ کے بعد نظریہٴ پاکستان کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ آج کی اس کانفرنس کا یہی پیغام ہے کہ ہم نظریہٴ پاکستان کو کبھی فراموش نہ کریں ۔شاہد رشید نے کہا کہ چند برس قبل رہبر پاکستان اور آبروئے صحافت ڈاکٹر مجید نظامیؒ کی تجویز پر قوم کے اندر احساس تفاخر پیدا کرنے کیلئے ان کانفرنسوں کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔ آج اس سلسلے کی 18ویں کانفرنس ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں افواج پاکستاکی بے مثال قربانیوں کے بعد وطن عزیز بالخصوص اس کے قبائلی علاقوں میں امن و امان قائم ہو ا مگر اب وہاں کچھ بیرونی قوتوں کے پروردہ عناصر تحریک شروع کر کے امن و امان کے مسائل پیدا کرنے کے درپے ہیں۔ پوری قوم متحد ہو کر وطن دشمن عناصر کے عزائم خاک میں ملا دے۔ پروگرام کے آخر میں صاحبزادہ سلطان احمد علی نے ملکی تعمیروترقی اور استحکام اور شہدائے پاکستان کے بلندئ درجات کیلئے دعا کی۔پروگرام کااختتام پاکستان ،قائداعظمؒ،علامہ محمد اقبالؒ مادر ملت ؒ زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے ہوا۔