نوجوان کو کچلنے والے سفارتکار کرنل جوزف کو امریکا لے جانے کی کوشش ناکام

ایف آئی اے نے کرنل جوزف کی امیگریشن کلیئرنس کیلیے وزارت خارجہ سے خصوصی اجازت نامہ مانگا ، دفتر خارجہ کے حکام نے اجازت دینے سے انکار کردیا،میڈیا رپورٹس امریکی فضائیہ کا طیارہ سفارت خانے کے دوسرا عملہ اور سامان لے کر روانہ ہوگیا

ہفتہ مئی 21:54

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) دفترخارجہ حکام نے مبینہ طور پر نشے کی حالت میں گاڑی سے نوجوان کو کچل کر ہلاک کرنے والے امریکی سفارت کار کرنل جوزف کو ملک چھوڑنے سے روک دیا،امریکی فضائیہ کا طیارہ سفارت خانے کے دوسرا عملہ اور سامان لے کر روانہ ہوگیا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فضائیہ کا خصوصی سی 130 طیارہ امریکی سفارت خانے میں تعینات ملٹری اتاشی کرنل جوزف کو لے جانے کے لیے نور خان ایئر بیس راولپنڈی پر کئی گھنٹے تک موجود رہا۔

تاہم پاکستانی حکام نے کرنل جوزف کو طیارے میں سوار ہونے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ امریکی طیارہ کئی گھنٹے تک انتظار کے بعد باالآخر کرنل جوزف کو لیے بغیر واپس روانہ ہوگیا۔کرنل جوزف کی روانگی کو روکنے کے لیے اسے بلیک لسٹ میں شامل کیا گیا تھا جس کی وجہ سے وہ بیرون ملک سفر نہیں کرسکتا تھا۔

(جاری ہے)

ایف آئی اے نے کرنل جوزف کی امیگریشن کلیئرنس کے لیے وزارت خارجہ سے خصوصی اجازت نامہ مانگا تاہم دفتر خارجہ کے حکام نے امریکی ملٹری اتاشی کو پاکستان چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

جس کے بعد امریکی فضائیہ کا طیارہ سفارت خانے کے دوسرا عملہ اور سامان لے کر روانہ ہوگیا اور کرنل جوزف کو اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے واپس بھجوادیا گیا۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کرنل جوزف نے اسلام آباد میں گاڑی سے موٹر سائیکل پر سوار دو نوجوانوں کو کچل دیا تھا، جس کے نتیجے میں ایک نوجوان جاں بحق ہوگیا تھا۔ نوجوان کے باپ نے انصاف کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، عدالت عالیہ نے وزارت داخلہ کو کرنل جوزف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے سے متعلق فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔