چیف جسٹس نے سانحہ 12 مئی کی فائل طلب کرلی

سانحہ 12 مئی کو المناک واقعہ ہوا، 11 برس گزرنے کے باوجود ملزمان کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا گیا،چیف جسٹس کے ریمارکس

ہفتہ مئی 22:14

چیف جسٹس   نے  سانحہ 12 مئی کی فائل طلب کرلی
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے سانحہ 12 مئی سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل ( آئی جی ) سندھ اور دیگر حکام کو اس مقدمے کی فائل پیش کرنے کا حکم دے دیا۔۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں مختلف کیسز کی سماعت سے قبل سانحہ 12 مئی کا معاملہ زیر غور آیا۔اس دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سانحہ 12 مئی کو المناک واقعہ ہوا، 11 برس گزرنے کے باوجود ملزمان کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس واقعہ پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے، سانحہ 12 مئی کے شہدائ کے لیے فاتحہ خوانی کرنی چاہیے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے فیصل صدیقی سے استفسار کیا کہ کیا 12 مئی کے واقعے کی تحقیقات نہیں ہوئیں اس پر فیصل صدیقی نے بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ میں معاملہ زیر سماعت ہے۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہا آپ کیس کا نمبر دیں ہم جائزہ لیں گے، بعد ازاں چیف جسٹس نے سانحہ 12 مئی کے مقدمے میں ہونے والی پیش رفت اور ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے رپورٹ طلب کرلی۔

اس سے قبل چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سپریم کورٹ کراچی رجسٹری آمد کے موقع پر مختلف متاثرین نے احتجاج کیا اور چیف جسٹس کی گاڑی روکنے کی کوشش کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے باہر ، لاپتہ افراد کے اہل خانہ، دادو کا متاثرہ خاندان ، ٹیچنگ اسٹاف اور مختلف متاثرہ افراد کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔

مظاہرین نے ہاتھوں پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے، جس پر ’جسٹس فار قابل‘ ’ لگام دو لگام دو محمود اختر نقوی کو لگام دو ، چیف جسٹس ہی واحد امید ہیں‘ کے نعرے درج تھے۔۔احتجاج کے دوران چیف جسٹس کی گاڑی جب سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے قریب پہنچی تو سندھ کے ضلع دادو کے علاقے میہڑ کے متاثرہ خاندان کی ایک خاتون نے جسٹس ثاقب نثار کی گاڑی کے سامنے آنے کی کوشش کی، جسے خاتون پولیس اہلکار نے ناکام بنا دیا۔

متاثرہ خاتون نے الزام لگایا کہ رکن صوبائی اسمبلی نے ان کے گھر میں داخل ہو کر ان کا ریپ کیا اور ان کے خاندان کے 3 افراد کو قتل کردیا جبکہ اس معاملے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا لیکن سندھ ہائیکورٹ نے اپیل خارج کردی۔ سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے اپیل خارج کرنے پر متاثرہ خاندان کے افراد نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے باہر احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کئی اہم مقدمات کی سماعت ہو ئی جہاں متعلقہ محکموں کے حکام بھی پیش ہوئے ۔