نرسنگ اسٹاف کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، پاکستان میں طبی سہولیات کی بہتر فراہمی کے لئے مزید 60 ہزار نرسنگ اسٹاف کی فوری ضرورت ہے، وسیم اختر

بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے نرسنگ اسٹاف کی تعداد کو بڑھانا ہوگا، بلدیہ عظمیٰ کراچی نے نرسنگ اسٹاف کے مسائل حل کرنے کیلئے متعدد اقدامات کئے ، میئرکراچی

ہفتہ مئی 21:43

نرسنگ اسٹاف کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، پاکستان میں طبی سہولیات ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ نرسنگ اسٹاف کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، پاکستان میں طبی سہولیات کی بہتر فراہمی کے لئے مزید 60 ہزار نرسنگ اسٹاف کی فوری ضرورت ہے اس وقت پاکستان میں 1069 افراد کیلئے ایک نرسنگ اسٹاف موجود ہے ، پاکستان میں نرسنگ اسٹاف کی تعداد کم و بیش 95 ہزار 328 ہے جو اپنی بہترین خدمات سے مریضوں میں زندگی کی امید ،روشنی اور علاج میں معاونت فراہم کر رہے ہیں،بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے نرسنگ اسٹاف کی تعداد کو بڑھانا ہوگا، بلدیہ عظمیٰ کراچی نے نرسنگ اسٹاف کے مسائل حل کرنے کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں اور اس حوالے سے حکومت سندھ کو مختلف اوقات میں خطوط بھی لکھے گئے ہیں تاکہ مختلف طبی اداروں میں تعینات نرسنگ اسٹاف کی پروموشن اور الائونسز کی ادائیگی جیسے مسائل حل ہوسکیں، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے مختلف محکمے جب ہمیں ملے تو سب ہی کی حالت بہت خراب تھی، بالخصوص صحت کا شعبہ بہت زیادہ زبوں حالی کا شکار تھا جبکہ اسپتال غیرفعال تھے، ہم نے کوشش کی ہے کہ جہاں تک ممکن ہوسکے دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے اسپتالوں کو فعال کریں، میرے دفتر کے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں، مسائل کو آپس میں مل کر حل کریں گے، مل بیٹھ کر کام کرنے سے یقینا خاطر خواہ نتائج سامنے آئیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلدیہ عظمیٰ کراچی اور پاکستان نرسز فورم کے تعاون سے نرسنگ کے عالمی دن کے موقع پر مقامی ہوٹل میں مشترکہ طور سے منعقد کی گئی تقریب تقسیم ایوارڈز سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا، تقریب میں پاکستان کی تاریخ میںپہلی بار بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے نرسنگ اسٹاف کے شعبہ سے وابستہ افراد کو میٹروپولیٹن نرسنگ ایوارڈ دیئے گئے،تقریب میں میونسپل کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن، چیئرپرسن معالجات کمیٹی ناہید فاطمہ، سینئر ڈائریکٹر میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز ڈاکٹر بیربل، سینیٹر عبدالحسیب خان، پاکستان نرسز فورم کے چیئرمین سلیم مائیکل، ندیم شیخ ایڈوکیٹ، سول اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر توفیق احمد، نزہت شیریں، ڈائریکٹر نرسنگ حبیب اللہ، صدیقہ نظامی ، خیرالنساء اور دیگر نے بھی خطاب کیا، تقریب میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اسپتالوں سمیت دیگر سرکاری و نجی اسپتالوں میں کام کرنے والی نرسنگ اسٹاف کو میٹروپولیٹن نرسنگ ایوارڈز دیئے گئے ، قبل ازیں میئر کراچی وسیم اختر کی تقریب میں آمد کے موقع پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا ، میئر کراچی وسیم اختر نے اس موقع پر کیک بھی کاٹا جبکہ نرسنگ اسٹاف نے مریضوں کی خدمت کے حوالے سے چراغ جلا کر ایک خوبصورت ٹیبلو پیش کیا جس میں بتایا گیا کہ کس طرح موت کی طرف جاتے ہوئے مریضوں کو واپس زندگی کی طرف لایا جاسکتا ہے، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ نرسنگ اسٹاف کو ہمارے معاشرے میں وہ اہمیت نہیں دی گئی جو دی جانی چاہئے کیونکہ نرسنگ اسٹاف کا شعبہ بہت ہی عمدہ اور خدمت خلق سے متعلق ہے جو دنیا و آخرت دونوں جگہ کام آئے گا انہوں نے کہا کہ بعض ایسے مریض جن کے نزدیک بڑھاپے اور بیماری میں ان کی اولاد بھی نہیں آتی یہ نرسنگ اسٹاف ہی ہوتی ہیں جو ان کی خدمت کرتی ہیں اور بلکتے مریضوں کو واپس زندگی کی طرف لے آتی ہیں، انہوں نے کہا کہ آج کی تقریب میں جن نرسنگ اسٹاف کو میٹروپولیٹن ایوارڈز سے نوازا جا رہا ہے ان کا تعلق کے ایم سی کے 13 اسپتالوں اور مختلف ڈی ایم سیزکے تحت قائم طبی اداروں کے علاوہ کراچی کے دیگر اسپتالوںسے ہے جن میں جناح اسپتال، سول اسپتال، NICVD ، آغا خان اسپتال، لیاقت نیشنل اسپتال، 7 ڈے اسپتال، ہولی فیملی، انڈس اسپتال، ٹبہ اسپتال اور دیگر اسپتال شامل ہیں جن کی نامزدگی میڈیکل اینڈ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کی مخصوص کمیٹی نے کی ہے،انہوں نے کہا کہ موجودہ میٹروپولیٹن نرسنگ ایوارڈز کے لئے اگرچہ کے ایم سی ، ڈی ایم سیز اور کراچی کے مخصوص اسپتالوں کا انتخاب کیا گیا ہے تاہم ہمارا ارادہ ہے کہ ہم آئندہ سال کراچی کے تمام اسپتالوںکے نرسنگ اسٹاف کو ان کی خدمات کے اعتراف میں میٹروپولیٹن نرسنگ ایوارڈ کے لئے نامزد کریں گے۔

(جاری ہے)

اس سلسلے میں پاکستان نرسنگ فورم اور ان کی ٹیم کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے جنہو ںنے اس پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کے ایم سی کی مدد کی اور ہمیں امید ہے کہ آئندہ بھی پاکستان نرسنگ فورم اسی جذبے کے تحت بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا، قبل ازیں میونسپل کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے کہا کہ نرسنگ اسٹاف کا شعبہ اس طبقے سے تعلق رکھتا ہے جو نہایت مشکل حالات میں بھی دوسرے کی خدمت کرنے کے عمل کو نہیں روکتے، میں نے اپنی زندگی میں نرسنگ اسٹاف کے چہرے پر کبھی بھی تھکن نہیں دیکھی، میں نے مریضوں کی تیمارداری کرتے ہوئے نرسنگ اسٹاف میں ہمیشہ دوسروں کی خدمت کرنے کا جذبہ دیکھا ہے انہوں نے کہا کہ یہ نرسنگ اسٹاف کی تربیت کا حصہ ہے کہ وہ انتہائی محنت کرنے کے باوجود بھی اپنے لباس کو ہمیشہ صاف رکھتی ہیں اور ان کے سفید لباس پر ایک داغ بھی نہیں ملتا، انہوں نے کہا کہ نرسنگ اسٹاف میں برداشت کا مادہ بہت ہوتا ہے وہ مریض کی کسی بات پر اپنے غصے کا اظہار نہیں کرتیں، ردعمل نہ دے کر برداشت کرنا میں نے نرسنگ اسٹاف میں دیکھا ہے، سینیٹر عبدالحسیب خان نے کہا کہ پاکستان میں بننے والے بجٹ میں صحت اور تعلیم پر سب سے کم رقم خرچ کی جاتی ہے اور یہ رقم اتنی کم ہوتی ہے کہ بیان کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے جبکہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لئے صحت اور تعلیم کے شعبے سب سے زیادہ اہم ہیں جن پر سب سے زیادہ توجہ دی جانی چاہئے مگر یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے ان دونوں شعبہ ہی کو نظر انداز کردیا ہے، تقریب کے اختتام پر میئر کراچی وسیم اختر نے مختلف اسپتالوں سے تعلق رکھنے والے میل اور فیملی نرسنگ اسٹاف میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے میٹروپولیٹن نرسنگ ایوارڈز دیئے جبکہ پاکستان نرسز فورم کے چیئرمین سلیم مائیکل نے مہمانوں کی آمد کا شکریہ ادا کیا۔

واضح رہے کہ انسانیت کے لئے نرسنگ اسٹاف کے شعبہ کی بے مثال خدمات کے اعتراف کے طور پر ہر سال 12 مئی کو دنیا بھر میں نرسنگ اسٹاف کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد صحت کے شعبہ میں نرسنگ اسٹاف کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے، 12مئی1820 جدید نرسنگ اسٹاف کی بانی فلورنس نائیٹ اینجل (Florence Nightingale) کا یوم پیدائش بھی ہے، فلورنس نائیٹ اینجل نے دکھی انسانیت کی خدمت کی لازوال مثال پیش کرتے ہوئے دنیا کو بہترین پیغام دیا اور نرسنگ اسٹاف کے شعبہ میں قابل تقلید مثال قائم کی جس کے بعددنیا بھر میں ان کا نام نرسنگ اسٹاف کے پیشے کی شناخت بن گیا۔