عام انتخابات سے قبل فاٹا کو صوبے میں ضم کر کے صوبائی اسمبلی میں اسے نمائندگی دی جائے، میاں افتخارحسین

ہفتہ مئی 22:50

نوشہرہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل فاٹا کو صوبے میں ضم کر کے صوبائی اسمبلی میں اسے نہ صرف نمائندگی دی جائے بلکہ آئینی ترمیم کے ذریعے صوبائی کابینہ میں انہیں حصہ دیا جائے‘ این ایف سی ایوارڈ میں فاٹا کا حصہ ہونا چاہئے اور صوبے و مرکز کی طرف سے خصوصی پیکج کے ساتھ اسے صوبے میں ضم کیا جائے خواتین کی نمائندگی بھی فاٹا کو ملنی چاہئے۔

انہوں نے سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ ایف سی آر کے خاتمے کی جانب یہ اہم قدم ہے ، اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی کوشش کی گئی تو اے این پی میدان میں ہو گی۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونین کونسل ڈاگ بیسود پبی میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

میاں افتخار حسین نے کہا کہ چینی سفیر کے ساتھ بارہا ملاقاتوں میں انہوں نے مغربی اکنامک کوریڈور تعمیر کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، ہم ملک میں چین کی سرمایہ کاری کے حق میں ہیں تاہم سی پیک میں خیبرپختونخوا کا حق بھی چاہتے ہیں ، مغربی اکنامک کوریڈور کو اس کی اصل شکل میں تعمیر کیا جائے اور قبائل میں ایکسپریس وے تعمیر کر کے تمام قبائلی علاقوںکو اس سے منسلک کیا جائے۔

انہوں نے وفاقی حکومت سے مغربی اکنامک کوریڈور کو اس کی اصل روح کے مطابق تعمیرکرنے اورخیبر پختونخوا اور فاٹا کے قدرتی ذرائع سے استفادہ کر کے ملک کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے بچانے کابھی مطالبہ کیا۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کے علاوہ کوئی دوسرا نظام نہیں چل سکتا ، انتخابات کا مقررہ وقت پر آزادانہ اور منصفانہ طریقے سے انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔

میاں افتخار حسین نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کے مسئلے کو دوبارہ چھیڑا گیا تو اے این پی بھرپور مزاحمت کرے گی اور اے این پی کا ہر کارکن میدان میں نکلے گا۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی بدانتظامی کی وجہ سے صوبہ خیبر پختونخوا تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے ، پشاور میں جو گرین بیلٹ موجود تھی اس کا ریکارڈ بی آر ٹی کی نذر کر دیا گیا ہے جبکہ بلین سونامی ٹری میں ایک پودے میں18روپے کی کرپشن کی گئی جو اربوں میں بنتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سی50فیصد خوردو پودے بھی بلین ٹری میں شمار کئے گئے اور جو پودے مرجھا گئے ان کے بارے میں سرکاری مؤقف اپنا یا گیا کہ وہ بے موسمی پودے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ پودوں کی اقسام اور موسمی اثرات سے نا بلد ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی جانب سے بجٹ پیش نہ کرنے کا اعلان محض ڈرامہ ہے بجٹ پیش کرنے کے بعد وہ بجٹ پاس نہیں کراسکتے تھے کیونکہ ان کے پاس ممبران کی تعداد پوری نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ جس حکومت سے دور حکومت کے تمام بجٹ لیپس ہو جائیں اور آخری بجٹ پیش کرنے سے قاصر ہو وہ تاریخ کی ناکام ترین حکومت ہوتی ہے ۔ میاں افتخار حسین نے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں سے کہا کہ الیکشن کی تیاریاں شروع کریں اے این پی الیکشن میں بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔