نا بینا افراد مطالبات منوانے کیلئے دوبارہ سڑکوں پر نکل آئے،پریس کلب کے بعد میٹروک ٹریک پر دھرنا

وعدے پورے نہ ہونے سے دلبرداشتہ ہو کر کچھ ساتھی اپنے ساتھ پیٹرول کی بوتلیں بھی لائے ہیں ‘ گفتگو/میٹرو بس سروس جزوی معطل

ہفتہ مئی 23:36

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) نا بینا افراد اپنے مطالبات منوانے کیلئے ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر نکل آئے ، پریس کلب کے باہر دھرنا دینے کے بعد کلمہ چوک میٹروبس کے ٹریک پر دھرنا دیدیا ،پریس کلب کے باہر دھرنے کے باعث شملہ پہاڑی چوک کے اطراف میں شاہراہوں پر ٹریفک شدید دبائو کا شکار رہی ۔تفصیلات کے مطابق پنجاب کے مختلف شہروں سے آنے والے نا بینا افراد نے ہفتہ کی صبح پریس کلب کے باہر دھرنا دے کر ٹریفک کو روک دیا جس کی وجہ سے ڈیوس روڈ اور شملہ پہاڑی چوک کے اطراف میں ٹریفک شدید دبائو کا شکار رہی اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نا بینا افراد کے رہنمائوں کا کہنا تھاکہ ہم اپنے مطالبات منوانے کے لئے 2014سے سڑکوں پر ہیں لیکن ہمیں تشدد کے سوا کچھ نہیں ملا ۔

(جاری ہے)

محکمہ سوشل ویلفیئر ایک مطالبہ تسلیم کر تا ہے تو باقی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جاتا ہے ۔ ہمارا مطالبہ ہے کنٹریکٹ پر رکھے گئے تمام معذور افراد کو مستقل کیا جائے ،کوٹہ معذوری کے تناسب سے مختص کیا جائے اور ہمیں مزید نوکریاں دی جائیں۔

عہدیداروں نے انکشاف کیا کہ ہمارے شادی شدہ دوست اتنے دلبرداشتہ ہیں کہ وہ اپنے ساتھ پیٹرول کی بوتلیں بھی لائے ہیں لیکن ہم نے انہیں سمجھایا ہے۔ پریس کلب کے باہر دھرنا دینے کے بعد نا بینا افراد وہاں سے اٹھ کر کلمہ چوک پہنچ گئے اور میٹروٹریک پر دھرنا دیدیا جس سے میٹرو بس سروس جزوی طور پر معطل ہو گئی ۔