سندھ ہائی کورٹ کے حکم امتناع کے نتیجے میں کراچی ایئرپورٹ کے جناح ٹرمینل کے عین سامنے چار ایکڑ زمین پر قبضے کا عمل رک گیا

ہفتہ مئی 22:59

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) سندھ ہائی کورٹ کے حکم امتناع کے نتیجے میں کراچی ایئرپورٹ کے جناح ٹرمینل کے عین سامنے چار ایکڑ زمین پر قبضے کا عمل رک گیا ہے ۔قبضہ کرنے والوں کا دعوی ہے کہ انہیں یہ زمین سندھ حکومت نے 100 روپے گز کے حساب سے الاٹ کی ، جبکہ زمین کی اصل قیمت ایک لاکھ روپے فی گز ہے۔معاملہ ہے کراچی ایئر پورٹ ، جناح ٹرمینل سے باہر نکلنے والی سڑک کے بالکل ساتھ اربوں مالیت کی چار ایکڑ زمین کا جس پر قبضہ کرنے والوں کا دعوی ہے کہ یہ زمین انہیں حکومت سندھ نے الاٹ کی ہے۔

گزشتہ دو روز سے مختار کار کراچی ایئر پورٹ کی زیر نگرانی اور پولیس کی حفاظت میں اس زمین پر قابضین کی جانب سے چہار دیواری کی تعمیر جاری تھی۔سول ایوی ایشن اتھارٹی نے قبضے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس پر گزشتہ روز تعمیرات روکنے کیلئے حکم امتناعی جاری کر دیا گیا تاہم حکم امتناع متعلقہ اداروں تک پہنچنے اور اس پر عمل درآمد ہونے سے پہلے ہی راتوں رات قابضین کی جانب سے متنازع زمین پر بنیادیں بھر دی گئیں اور آہنی گیٹ بھی نصب کر دیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

قابضین کا کہنا ہے کہ حکم امتناع ملنے کے بعد انھوں نے مزید تعمیرات روک دی ہیں تاہم قابضین کے ہرکارے اب بھی زیر قبضہ زمین پر موجود ہیں۔سی اے اے حکام کا کہنا ہے کہ کراچی ایئرپورٹ پر کمرشل زمین کی قیمت ایک لاکھ روپے گز ہے جبکہ سندھ حکومت نے یہ چار ایکڑ زمین صرف سو روپے گز کے حساب سے الاٹ کی ہے۔