ملک میں دہشت گردی کیلئے غیر ملکی کرنسی استعمال کیے جانے کا انکشاف، اسٹیٹ بینک نے ایف آئی اے سے مدد مانگ لی

ہفتہ مئی 22:59

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) اسٹیٹ بینک نے ملک میں دہشت گردی کیلئے غیرملکی کرنسی استعمال کیے جانے کا انکشاف کیا ہے اور ایف آئی اے سے مدد مانگ لی ہے۔اسٹیٹ بینک نے کہاہے ملک میں بڑے پیمانے پر غیرملکی کرنسی کی نقل و حمل دہشت گردی کیلئے استعمال ہورہی ہے جبکہ غیرملکی کرنسی کی اسمگلنگ اور ہنڈی کا کام بھی جاری ہے، اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے ایف آئی اے کا تعاون درکار ہے۔

اسٹیٹ بینک نے اپنے خط میں اینٹی منی لانڈرنگ کیلئے پاکستان کی کوششوں سے ایف اے ٹی ایف کو آگاہ کرنے کا بھی ذکر کیا ہے۔اسٹیٹ بینک کے ایکسچینج پالیسی ڈپارٹمنٹ نے ڈی جی ایف آئی اے کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ ملک کے اندر بڑے پیمانے پر غیر ملکی کرنسی کی نقل وحمل، اسے سرحد پار لے جانے کا راستہ فراہم کررہی ہے۔

(جاری ہے)

بڑی تعداد میں کرنسی کی آزادانہ ترسیل کے کئی مقاصد ہوسکتے ہیں، یہ حوالے، منی لاڈرنگ اور دہشت گردوں کو نقد ادائیگی کا سبب ہوسکتی ہے۔

مرکزی بینک نے ڈی جی ایف آئی اے کو لکھا ہے کہ مالی نظام کو محفوظ بنانے کے لئے فعال نکتہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں بینکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کے لئے کنٹرول متعارف کرائے گئے ہیں جسے مزید تقویت دینے کے لئے آپ کا تعاون درکار ہے۔اسٹیٹ بینک نے ایف آئی اے سے درخواست کی کہ وہ قومی مفاد میں غیر متعلقہ افراد اور اداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائیاں کرے، ایسا کیا جانا اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ اینٹی منی لانڈرنگ پر پاکستان کی کوششوں سے ایشیا پیسفک گروپ اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کو بھی آگاہ رکھا جارہا ہے۔

متعلقہ عنوان :