بین الاقوامی شہرت یافتہ قومی ہاکی ٹیم کے گول کیپر اولمپیئن منصور احمد طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے

ہفتہ مئی 22:59

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) بین الاقوامی شہرت یافتہ قومی ہاکی ٹیم کے گول کیپر اولمپیئن منصور احمد طویل علالت کے بعد کراچی کے مقامی ہسپتال میں انتقال کرگئے۔ 49 سالہ گول کیپر کا دل صرف 20 فیصد کام کررہا تھا، ان کے دل میں 7 اسٹنٹس ڈالے جا چکے تھے جبکہ گردوں اور پھیپڑوں نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ منصور احمد نے 338 انٹرنیشنل ہاکی میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

تفصیلات کے مطابق قومی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اولمپیئن منصور احمد کراچی میں انتقال کرگئے۔ وہ عارضہ قلب میں مبتلا تھے اور مقامی اسپتال میں زیر علاج تھے۔ 49 سالہ عالمی شہرت یافتہ گول کیپر کا دل صرف 20 فیصد کام کر رہا تھا جبکہ گردوں اور پھیپڑوں نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا تھا، یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹروں نے انہیں ہارٹ ٹرانسپلانٹ کا مشورہ دے رکھا تھا۔

(جاری ہے)

ہفتے کی صبح منصور احمد کی حالت بگڑ گئی جس کے بعد انہیں وارڈ سے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں منتقل کر دیا گیا اور ہارٹ لنگز مشین لگا دی گئی تاہم ان کی حالت سنبھل نہیں سکی اور وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔ منصور احمد 7 جنوری 1968 ء کو کراچی میں پیدا ہوئے، پی اے ایف انٹرکالج سرگودھا کے بعد ڈی جے سائنس کالج کراچی میں زیر تعلیم رہے، انہوں نے مجموعی طو رپر 338 میچز کھیلے، ان کو 3 مرتبہ اولمپک کھیلنے کا بھی اعزاز حاصل ہوا، انہوں نے 1990 ء اولمپک کی سلور میڈلسٹ ٹیم کے لئے نمایاں کارکردگی دکھائی، مسلسل 3 مرتبہ عالمی کپ کھیلنے کا اعزاز پانے والے منصور احمد 1994 ء کی عالمی کپ کی فاتح پاکستان ٹیم کا حصہ رہے، انہوں نے 10 مرتبہ چیمپئنز ٹرافی کھیلی جبکہ 1994 ء کی چیمپئنز ٹرافی میں گولڈ میڈل پانے والی پاکستانی ٹیم کا حصہ تھے، انہوں نے 3 مرتبہ ایشین گیمز کھیلا، 1990 ء بیجنگ ایشین گیمز کی گولڈ میڈلسٹ ٹیم کے رکن تھے، انہوں نے مجموعی طور پر انٹرنیشنل ہاکی ٹورنامنٹس میں 12 گولڈ اور اتنے ہی سلور جبکہ 8 برانز میڈلز حاصل کئے، 1998 ء میں حکومت پاکستان نے گراں قدر خدمات کے اعتراف میں اولمپئن منصور احمد کو صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا،1996 ء میں آل ایشین اسٹارز ہاکی ٹیم کے رکن بھی رہے، 1994 ء میں ان کو ورلڈ الیون میں شامل کیا گیا، اس برس ایف آئی ایچ نے منصور احمد کو دنیا کا بہترین گول کیپر قرار دیا، وہ چار مرتبہ انٹرنیشنل ایونٹس میں بہترین گول کیپر قرار پائے، بعد ازاں انٹرنیشنل ہاکی سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ 2000 ء میں پاکستان جونیئر ہاکی ٹیم کے کوچ مقرر ہوئے، بعد ازاں 2010 ء میں پی ایچ ایف کے ڈائریکٹر اکیڈمک بھی رہے۔

ان کے پاس ہائی پرفارمنس کوچنگ ڈپلومہ بھی ہے، منصور احمد کو 2014 ء میں بنگلہ دیش کی قومی ہاکی ٹیم کا اسپیشلسٹ گول کیپنگ کوچ بنایا گیا، منصور احمد سماجی سرگرمیوں میں سرگرم رہے، حکومت پاکستان نے تمباکو نوشی سے پرہیز کی مہم میں ان کو ایمبسیڈر مقرر کیا، منصور احمد کو 2015 ء میں امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں ہونے والے اسپیشل اولمپکس میں بطور مہمان مدعو کیا گیا۔ وہ فیفا کے اسپیکر بھی رہے جبکہ منصور احمد کو 2022 ء میں قطر کے شہر دوحا میں ہونے والے عالمی کپ فٹ بال ٹورنامنٹ کے لئے اسپیکر کا بھی اعزاز دیا گیا۔