سیاحوں کی شکایات کے بعد مری میں بھی ڈولفن فورس تعینات کر دی گئی

ڈولفن فورس کی مدد سے سیاحوں کو سیر وتفریح کی زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کی جائیں گی: مری پولیس کا عزم

muhammad ali محمد علی ہفتہ مئی 21:26

سیاحوں کی شکایات کے بعد مری میں بھی ڈولفن فورس تعینات کر دی گئی
مری (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) ملکہ کوہسار مری کی سیاحتی اہمیت کے پیش نظر حکومت پنجاب کی ہدایت پر ڈولفن فورس بھی تعینات کردی گئی ہے۔ مری میں سیاحوں کو سیر وتفریح کی زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کی جائیں گی، مری ایک پرامن سیاحتی مرکز ہے، ہوٹل گائیڈز کیلئے ضابطہ اخلاق مرتب کیا جارہا ہے جس کے وہ پابند ہونگے اور شناخت کیلئے رجسٹریشن کے کارڈ بھی گائیڈز اپنے لباس پر آویزاں کرینگے ،،مری میں اوبر اور کریم سروس شروع کی جائیگی اور کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالنے دی جائیگی ایسا کرنے والوں کیخلاف قانون حرکت میں آئیگا آجمورخہ 10 مئی کو مری میں تمام فورسز کا فلیگ مارچ کیاجائیگا۔

ان خیالات کا اظہارمری میں نوتعینات سب ڈویثرنل پولیس آفیسر مری اے ایس پی کامران حمید نے مری میڈیا سے خصوصی ملاقات کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ مری ایک پرامن سیاحتی مرکز ہے جو بین الاقوامی اہمیت کا حامل ہے یہاں سیاحوں کی آمدورفت کو ہتر بنانے اور انہیں تحفظ دینے کے ہرممکن اقدامات کئے جائے گے مری میں کارپارکنگ کے مسئلے کو بھی ترجیح بنیادوں پر حل کیا جائیگا ایس ڈی پی اومری کامران حمید نے کہا کہ سوشل میڈیا پر چلنے والے مہم کا بھرپورجواب دیا جائیگا مر ی کے تمام ذمہ داران اور معززین اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

(جاری ہے)

مری پولیس اور انتظامیہ بھی سوشل میڈیا کے اس اثر کو زائل کرنے میں اپنا کردار ادا کریگی اور مری کی اہمیت کو ہرصورت پیش نظر رکھتے ہوئے تمام ضروری اقدامات کئے جائینگے مری آنے والے سیاح مہمان ہمارے اقدامات سے ضرور مطمئن ہونگے اور انکی سیر وتفریح کو یقینی بنایا جائیگا اور وہ مری میں ایک خوشگوار تبدیلی کو محسوس کرینگے۔ واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ روز سے ایک مہم نے خاصی شہرت حاصل کی ہے۔

اس مہم کے سلسلے میں عوام سے مری کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ مہم چلانے والوں کا موقف ہے کہ مری کا رخ کرنے والوں کو مقامی لوگوں کی جانب سے برے سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ لہذا مری کا رخ کرنے کی بجائے اس کا بائیکاٹ کر دیا جائے۔ اب اس مہم کے آغاز کے بعد سیاحوں کی شکایات دور کرنے کیلئے اقدامات اٹھانا شروع کر دیے گئے ہیں۔