12 مئی کے فسادیوں کو اب کراچی پر مسلط نہیں ہونے دیں گے ،ْ پی ٹی آئی ایک اورایم کیوایم ہے، پچھلے دنوں ہمیں اس کا ثبوت بھی مل گیاہے ،ْبلاول بھٹوزرداری

کراچی والے عمران خان کی صورت میں نیا بانی ایم کیوایم برداشت نہیں کریں گے ،ْ میں کراچی والوں کو مفاد پرستوں اور فسادیوں کے چنگل میں نہیں پھنسنے دوں گا ، چیئرمین پیپلزپارٹی شہداء 12 مئی کو انصاف کی فراہمی تک پیپلز پارٹی جدوجہد جاری رکھے گی ،ْ 12 مئی کے واقعہ میں سیاسی جماعت کا عسکری ونگ اوراس وقت کا مشیر داخلہ ملوث تھا ،ْجناح گرائونڈ میں جلسہ سے خطاب

ہفتہ مئی 23:44

12 مئی کے فسادیوں کو اب کراچی پر مسلط نہیں ہونے دیں گے ،ْ پی ٹی آئی ایک ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مستقل قومی مصیبت کو ٹنکی بھر لیڈرز کی پارٹی قرار دیتے ہوئے خبر دار کیا ہے کہ 12 مئی کے فسادیوں کو اب کراچی پر مسلط نہیں ہونے دیں گے ۔ پی ٹی آئی ایک اورایم کیوایم ہے، پچھلے دنوں ہمیں اس کا ثبوت بھی مل گیاہے، کراچی والے عمران خان کی صورت میں نیا بانی ایم کیوایم برداشت نہیں کریں گے۔

میں کراچی والوں کو مفاد پرستوں اور فسادیوں کے چنگل میں نہیں پھنسنے دوں گا ۔ شہداء 12 مئی کو انصاف کی فراہمی تک پیپلز پارٹی جدوجہد جاری رکھے گی ۔ 12 مئی کے واقعہ میں سیاسی جماعت کا عسکری ونگ اوراس وقت کا مشیر داخلہ ملوث تھا ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا مینڈیٹ ہتھیانے کے لیے کبھی جاگ پنجابی جاگ اور کبھی جاگ مہا جر کا نعرہ لگایا جاتا ہے ۔

(جاری ہے)

ٹنکی بھر لیڈرز نے کراچی والوں کے لیے کوٹہ سسٹم اور پیپلز پارٹی دشمن قرار دیا ۔ انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ کوٹہ سسٹم لیاقت علی خان کے دور میں شروع ہوا ۔ ایم کیو ایم لندن ، بہادر آباد ، پی آئی بی ، ایم کیو ایم پی ایس پی اور ایم کیو ایم بنی گالا کراچی کا مستقبل نہیں بدل سکتے ۔ میری کراچی کے عوام سے اپیل ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں ۔

میں کراچی کا بیٹا ہوں ، کراچی کے مسائل سے واقف ہوں ۔ میں اس شہر کی تقدیر بدل کر دکھاؤں گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سانحہ 12مئی کے شہدائکو خراج عقید ت پیش کرنے کے لئے ہفتہ کو مزار قائد سے متصل گراؤنڈ باغ جناح میں منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ ، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف ، شیری رحمن ، سابق وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ ، پیپلز پارٹی ارکان قومی و صوبائی اسمبلی ، سینیٹرز ، مرکزی و صوبائی عہدیدار بھی موجود تھے ۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کراچی میں دو دن کے مختصر نوٹس پر کراچی میں تاریخی جلسے پر جیالے مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ ہمیں کوئی فسادی اپنے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے سے نہیں روک سکتا ۔ پی ٹی آئی ایک اور ایم کیو ایم ہے اور پچھلے دنوں اس کا ثبوت بھی ہمیں مل گیا ۔ کراچی میں عمران خان کی صورت میں ایک نئے الطاف حسین کو برداشت نہیں کریں گے ۔

پی ٹی آئی نے کراچی کے امن کو خراب کرنے کے لیے قانون کو ہاتھ میں لیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ہم نے گلشن اقبال میں جلسے کا اعلان کیا کیونکہ سب سے زیادہ شہادتیں ڈسٹرکٹ ایسٹ میں ہوئی تھیں ۔ ہم نے جلسہ کرنے کے لیے سارے قانونی تقاضے پورے کیے ۔ پی ٹی آئی نے ہمارے بعد جلسہ کرنے کا اعلان کیا جبکہ 12 مئی 2007 سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری مہم چل رہی تھی ۔ پی ٹی آئی نے حکیم سعید گراؤنڈ میں ہمارے کیمپ پر حملہ کیا ۔ ان کے گارڈ نے ہمارے کارکنان پر فائرنگ کی ۔ میں نے نہ صرف اپنی پارٹی کو جلسہ گاہ تبدیل کرنے کے لیے کہا بلکہ یہ کہا کہ پورا کراچی ہمارا ہے اور ہم اپنے شہر میں کہیں بھی شہر میں جلسہ کر سکتے ہیں اور ہم نے پی ٹی آئی کو حکیم سعید گراؤنڈ میں جلسے کی دعوت دی ۔

انہوں نے کہا کہ 12 مئی 2007 کو مشرف کے حواریوں نے ہمارے کارکنان کو چن چن کر شہید کیا ۔ کراچی کے عوام ہمارے ساتھ ہیں اور ہمارے ساتھ رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ لالو کھیت کے قریب میرے ایک جلسے سے ایم کیو ایم کے سارے دھڑے متحد ہو جائیں گے تو میں بہت پہلے یہ جلسہ کر لیتا ۔ پیپلز پارٹی ہی وہ وواحد جماعت ہے ، جو کراچی میں کہیں بھی اور کسی بھی جگہ مختصر نوٹس پر جلسہ کر سکتی ہے ۔

میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ میں اپنے شہر کو چھوٹے چھوٹے سیاسی گروپوں کو مخاطب کرکے کیا کہوں ۔ یہ بے چارے ٹنکی گراؤنڈ کی چھوٹی جگہ بھی نہ بھر سکے ۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ چلو بھر پانی میں ڈوب مرو ۔ میں نے تو صرف ٹنکی گراؤنڈ میں جلسہ کیا تھ ا۔ انہوں نے کہا کہ 12 مئی کو ایک آمر نے مکا لہرایا اور فسادیوں کی بندوق اٹھی تو کراچی میں ہر گھر سے لاشیں اٹھ رہی تھیں ۔

میں اس وقت سیاست میں نہیں آیا تھا ۔ لیکن اس سانحہ کا احساس مجھ پر ایسا ہی ہے ، جیسے یہ سانحہ مجھ پر بیتا ہو ۔ میری عمر پر نہ جائیں میں تین نسلوں کی سیاست کا امین ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے جیالے 12 مئی کو چیف جسٹس کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ کی طرف جا رہے تھے اور چاروں طرف سے پیپلز پارٹی کے لوگوں کو گھیر کر گولیاں برسائی گئیں اور دہشت گردوں نے نہتے کارکنان پر دھاوا بولا ۔

پیپلز پارٹی کی قیادت کوشش کرتی رہی کہ تڑپتے لوگوں کو اٹھا کر اسپتال پہنچایا جائے مگر انہوں نے لاشیں اٹھانے والوں پر بھی گولیاں برسائیں ۔ 12 مئی کی تبتی گرمی میں بھی دو گھنٹے تک لاشیں سڑکوں پر پڑی رہیں اور ظالموں کو ترس تک نہ آیا ۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ فیصل کے مختلف مقامات پر اور ملیر سے آنے والے جلوسوں پر گولیاں برسائی گئیں ۔

12 مئی کو کراچی میں آگ و خون کا دریا بہایا گیا اور کراچی میں 58 لوگ شہید ہوئے ۔ جس میں اے این پی کے لوگ بھی شامل تھے ۔ کس ایک سیاسی جماعت کا عسکری ونگ اور اس وقت کا مشیر داخلہ سندھ خون ریزی میں شامل تھا ۔ انہوں نے کہا کہ 12 مئی کو جن لوگوں نے چیف جسٹس کے لیے قربانیاں دیں مگر انہوں نے شہیدوں کے گھروں پر آنا بھی گوارا نہ کیا ۔ بلاول بھٹو نے مطالبہ کیا کہ 12 مئی کے شہداء کو انصاف دو ۔

بی بی شہید ، ذوالفقار علی بھٹو کو انصاف دو ۔ ہم شہداء کے خون رائیگا نہیں جانے دیں گے ۔ اگر لوگوں کو انصاف نہیں دے سکتے تو انہیں دیوار سے بھی نہ لگاؤ ۔ ریاست کو سب کے ساتھ برابر سلوک کرنا چاہئے ۔ مجھے نہیں معلوم کون گناہ گار ہے اور کون بے گناہ ۔ کراچی والوں پچھلے دنوں تحریک انصاف کا رویہ دیکھ کر ہمیں یہ ثبوت مل گیا ہے کہ ظالم بھیس بدل کر آ رہے ہیں ۔

اگر آج ان کو نہیں سمجھو گے تو کب انہیں پہچانو گے ۔ کراچی والو تمہیں بتایا گیا کہ پیپلز پارٹی دشمن ہے اور کوٹہ سسٹم دشمن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کوٹہ سسٹم پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے دور اور اس کے بعد 16 جنوری 1971 ء میں میرے نانا کے دور میں دوسرا نوٹیفکیشن جاری ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی والوں ایم کیو ایم والے لسانیت کے نام پر آپ کو گمراہ کرکے تنہا رکھنا چاہتے ہیں ۔

آپ بہت کچھ کھو چکے ہو اور اب آپ کے پاس کھونے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا مینڈیٹ دبانے کے لیے کبھی جاگ پنجابی جا گ کا نعرہ لگایا گیا اور کبھی جاگ مہاجر جاگ کا نعرہ لگایا گیا اور کبھی آگ ، دھماکوں ، اور لاشوں کے ذریعہ ہمارے مینڈیٹ کو ہتھیانے کی کوشش کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام ایم کیو ایم سے سوال کرتے ہیں کہ کراچی کے ہزاروں یتیم بچے کہاں جائیں ۔

کون ان کے مستقبل کی فکر کرے گا اور کون ان کے دکھوں کا مداوا کرے گا ۔ نہوں نے کہا کہ اگر ایم کیو ایم کو کراچی کی صفائی کا احساس ہے تو وہ سالڈ ویسٹ منیجمنٹ کو صفائی کی اجازت کیوں نہیں دیتے ۔ پانی کے لیے کے فور کا منصوبہ کیوں نہیں بنایا ۔ میئر کراچی کے پاس اربوں روپے کا فنڈ ہے ، جو پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے انہیں کراچی کی ترقی کے لیے دیا ۔

مگر میئر کراچی ٹنکی گراؤنڈ جلسے میں کہہ رہا تھا کہ بلاول بھٹو کو کراچی کے مسائل پر بات کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی کی ہر گلی ، ہر محلہ اور ہر مسئلہ میرا ہے کیونکہ کراچی میرا شہر ہے اور میں اس شہر کو اکیلا نہیں چھوڑوں گا ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے کراچی کی ترقی کے لیے ان کو جو اربوں روپے کے فنڈ دیئے اس کی ایک ایک پائی کا حساب لیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے خود کہا کہ کے ایم سی گھوسٹ ملازمین سے بھری ہوئی ہے ۔ اور کے ایم سی میں اربوں روپے کے فنڈز خرد برد کیے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ رابطہ کمیٹی میں دس ممبر سرکاری ملازمین ہیں ۔ وزیر اعلی صاحب اس کی تو انکوائری ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اربوں روپے ہونے کے باوجود جو اختیارات کا رونا روتا ہے اس کا محاسبہ ہونا چاہئے ۔

انہوںنے کہا کہ کراچی کے ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی ہونی چاہئے ، جو کراچی میں نفرت کی سیاست کا نشانہ بنے ، انہیں اعلی تعلیم کا موقع ملے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم والے کراچی میں کسی بھی ترقیاتی کام کو برداشت نہیں کرتے ۔ وہ کسی کو کام کرنے دیتے ہیں نہ خود کرتے ہیں ۔ ہم نے چینی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا لیکن مستقل قومی مصیبت نے اس میں بھی رکاوٹیں ڈالیں تاکہ وہ کمپنی بھی بھاگ جائے ۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ٹنکی گراؤنڈ جلسے کے بعد ایک نیا لفظ نکالا ہے ، ٹنکی بھر لیڈر ۔ یہ ٹنکی بھر لیڈر کراچی والوں کے لیے کچھ کرنے کی بجائے صرف اپنی سیاست چمکاتے ہیں ۔ یہ کہتے ہیں کہ لاڑکانہ سے کراچی کی سیاست نہیں کرنے دیں گے ۔ میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ بلاول ہاؤس بھی کراچی میں ہے میں بھی کراچی میں ہوں میرے نانا بھی کراچی میں رہتے تھے ۔

میری ماں بھی کراچی میں تھی ۔ میں کراچی میں پیدا ہوا اور میری ابتدائی تعلیم بھی کراچی کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ آپ کو دو ضلعوںتک محدود کرنا چاہتے ہیں ۔ میں کہتا ہوں کہ کراچی بھی آپ کا ہے اور لاڑکانہ بھی آپ کا ہے ۔ کراچی بھی آپ کا ہے ، کشمور ، لاہور اورر اسلام آباد بھی آپ کا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے مستقبل کا فیصلہ کراچی کے لوگوں کو کرنا ہے ۔

کراچی والوں آپ کو یہ طے کرنا ہے کہ آپ کو کراچی کا مستقبل وہ چایئے ، جو چالیس سالوں سے ہے یا آپ نے کراچی کی شناخت بدلنی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کراچی کا مستقبل ایم کیو ایم لندن ، ایم کیو ایم بہادر آباد ، ایم کیو ایم پی آئی بی ، ایم کیو ایم پی ایس پی اور ایم کیو ایم بنی گالا نہیں بدل سکتے ۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کی خدمت کی ہے۔

ایم کیو ایم کی جانب سے سندھ میں جو آئی سولیشن پیدا کی گئی ، اسے ختم کریں گے ۔ ایم کیو ایم نے چائنا کٹنگ کے نام پر شہریوں سے کھیلوں کے میدان اور پارک بھی چھین لیے ۔ نہوں نے کہا کہ روزگار ایک بڑا مسئلہ ہے ۔ ہم بے روزگاری کے خاتمے کے لیے خصوصی انتظامات کریں گے ۔ چھوٹے تاجروں کی بحالی کے لیے پیکج دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی مشکلات عوامی مسائل کا مجھے احساس ہے ۔

صرف کراچی پیاسہ نہیں ، سانگھڑ ، لاڑکانہ بدین ، تھر اور دوسرے شہر بھی پانی کی بوندھ بوندھ ترس کر گئے ہیں ۔ کراچی سے کشمور تک لوگ پانی کے لیے مارے پھر رہے ہیں ۔ پانی کی تقسیم پر مامور وفاقی حکومت سندھ کا پانی چھین رہی ہیاور پانی کی منصفانہ تقسیم نہیں ہو رہی ۔ انہوں نے کہا کہ جب ہمارے حصے کا پانی ختم ہو گیا تو میں پانی پیدا تو نہٰں کر سکتا لیکن سندھ حکومت نے آر او پلانٹس لگائے اور لوگوں کو صاف پانی مہیا کیا ۔

،کے فور منصوبے پر وفاقی حکومت نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی ۔ اگر وفاق اپنی ذمہ داری پوری کرتا تو کے فور منصوبہ مکمل ہو چکا ہوتا ۔ ہم آئندہ حکومت میں لوگوں کو پانی فراہم کریں گے ۔ ن لیگ کی وفاقی حکومت نے خود کو اسلام آباد تک محدود کر رکھا ہے ،۔ کوئٹہ ، ملتان ، گھوٹکی ،سب وفاقی حکومت کے شہر ہیں اور یہاں پر بھی وفاقی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ یہ میں بھی جانتا ہوں اور آپ بھی جانتے ہیں کہ موسمی پرندے اور اقتدار کے بھوکے مسائل حل نہیں کر سکتے ۔ عمران خان نے پہلے بھی لوگوں کو ورغلایا تھااور اب بھی ورغلانے کی کوشش کر ہا ہے ۔ وہ پہلے نئے خیبر پختونخوا کا منجن بیجچتا رہا اور اب ایک پاکستان کی بات کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کس منہ سے ایک پاکستان کی بات کر رہا ہے ۔

اس نے تو خیبر پختونخوا کو دو حسوں میں تقسیم کر دیا ہے ۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ کراچی والوں تم دیکھ رہے ہو کہ کس طرح مفاد پرست کس طرح دھوکہ دے کر اپنا مفاد نکالتے ہیں ۔ کراچی والوں اب کسی کے دھوکے میں نہ آنا ۔ اب یہ مستقبل کا فیصلہ کرنے کا وقت ہے ۔ بہت سوچ سمجھ کر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ۔ انہوں نے کہاکہ اپنے مستقبل کے لیے فسادیوں سے جان چھڑانی ہو گی اور اپنے مستقبل کے فیصلے اپنے ہاتھ سے لینا ہوں گے ۔

انہوں نے کہاکہ اب کراچی والوں کے پاس منزل بھی ہے ، رہنما بھی ہے اور بہترین موقع بھی ہے اور کراچی والے اس موقع کا فائدہ اٹھائیں اور میرا ساتھ دیں انہوں نے کہاکہ کراچی کی ہر گلی میں میرا امن اور ترقی کا پیغام پہنچائیں ۔ انہوں نے کہاکہ میرے ملیر سے آئے ہوئے وفا داروں ، لیاری کے جیالوں، کیماڑی کے بیٹوں اور گلشن اقبال ، عزیز آباد ، لیاقت آٓباد ، ناظم آباد ، سرجانی ، نیو کراچی ، کورنگی ، لانڈھی ، ، اورنگی ، سہراب گوٹھ اور شہر کے تمام علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں کو بتانا چاہتا ہوںکہ پیپلز پارٹی تمہاری ہے ، میں تمہارا ہوں ، کراچی کا مستقبل تمہارا ہے ۔ تم میرا ساتھ دو ۔