کمشنر سکھر ڈویژن کا جاری نکاسی آب اور سڑکوں کی تعمیر کی اسکیموں کا دور ہ

ہفتہ مئی 23:45

سکھر۔ 12مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) کمشنر سکھر ڈویژن ڈاکٹر محمد عثمان چاچڑ نے قریشی گوٹھ اور گلشن اقبال کے علاقوں شر چوک تا کھوسا چوک تک جاری نکاسی آب اور سڑکوں کی تعمیر کی اسکیموں کا دورہ کیا ۔ دورے کے دوران ڈی سی سکھر، میونسپل کارپوریشن سکھر، ہائی وے ، پبلک ہیلتھ اور دیگر محکموں کے انجینئرو افسران موجود تھے ۔ کمشنر سکھر نے سندھ اسمال انڈسٹریزتا گلشن اقبال تک 16 کلو میٹر طویل روڈ کی بحالی کی اسکیم کاکام مکمل نہ ہونے اور گندے پانی کی گزرگاہوں سمیت مین ہولز میں ڈی سلٹنگ نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ افسران سے باز پرس کرتے ہوئے فوری طور پر صفائی اور ڈی سلٹنگ کی ہدایت کی ۔

کمشنر سکھر نے میونسپل کارپوریشن کے افسران کو ہدایت دی کہ غیر قانونی پانی کے کنکشن ختم کرکے ان کو ریگولر کیا جائے اور خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید ہدایت دی کہ شہر بھر میں تعمیراتی میٹریل سڑکوں پر رکھنے کی پیشگی اجازت حاصل کرنے کے سلسلے میں شہریوں کو پابند بنایا جائے اور ان میں شہری شعور کی بیداری کے بارے میں آگاہی دی جائے ۔

کمشنر سکھر نے کہا کہ غلط ڈزائن اور بغیر منصوبہ بندی کے کام کے نتیجے میں قومی دولت کا ضیاع اور اسکیموں کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے جس کے باعث اسکیمیں التواء کا شکار ہورہی ہیں ۔ کمشنر سکھر نے پبلک ہیلتھ، میونسپل اور روڈز محکموں کے افسران پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنا نے اور پانی کی سپلائی لائن، نکاسی آب کے نالوں سمیت مین ہولز میں ڈی سلٹنگ کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ تمام کام منصوبہ بندی کے تحت کیا جائے تاکہ پینے کے پانی کی لائنوں میں گندے پانی کا رسائو نہ ہو اور شہریوں کو تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے تمام انجینئروں کا ہدایت دی کہ تمام اسکیموں کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے کے حوالے سے محکماتی باہمی رابطوں کو بہتر بنائیں اور ڈپلیکیٹ اسکیموں کی شکایات فوری ختم کی جائیں ۔