پاکستان مسلم لیگ ن ایک جعلی خبر پر تیسری مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم پر منی لانڈرنگ کے الزام پر چیئرمین نیب کے خلاف آئین اور قانون کے مطابق کارروائی چاہتی ہے ،اتفاق رائے سے جلد از جلد نگران سٹ اپ کا اعلان ہونا چاہیے ،ہر وہ قانون جس پر آمر کی مہر ہے اسے پارلیمنٹ کی طاقت سے اٹھا کر باہر کیا جائے ،سیاسی اور انتقامی کارروائی بند ہونی چاہیے ،جمہوریت کے ادروار میں احتساب کے نام پر 70سال کا احتساب ہوتا ہے لیکن آمروں سے کبھی پوچھا نہیں گیا ، 10,12سال مارشل لاء کے ادروار والوں سے بھی جوابدہی ہونی چاہیے ،آمریت کے ادوار میں ایک بھی بڑا منصوبہ بتائیں جس پر ان کی تختی لگی ہو،آئین اور قانون کے مطابق ریاستی اداروں کو اپنا اپنا کام کرتے ہوئے ملک کو آگے لیکر جانا ہوگا ،تیسری مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم محمد نواز شریف،پاکستان مسلم لیگ ن اور ایک صوبے کو سیاسی اور انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور دوسری جانب لاڈلوں کو دہشت گردی کے کیسز میںبری اورکرپشن کرنے والوں کے نیب عدالت سے اصل دستاویزات گم ہوجاتی ہیں،

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کی وزارت اطلاعات ونشریات کی صحافیوں سے گفتگو

اتوار مئی 01:20

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ایک جعلی خبر پر تیسری مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم پر منی لانڈرنگ کے الزام پر پاکستان مسلم لیگ ن چیئرمین نیب کے خلاف آئین اور قانون کے مطابق کارروائی چاہتی ہے سیاسی اور انتقامی کارروائی بند ہونی چاہیے ،،جمہوریت کے ادروار میں احتساب کے نام پر 70سال کا احتساب ہوتا ہے لیکن آمروں سے کبھی پوچھا نہیں گیا ، 10,12سال مارشل لاء کے ادروار والوں سے بھی جوابدہی ہونی چاہیے ،آمریت کے ادوار میں ایک بھی بڑا منصوبہ بتائیں جس پر ان کی تختی لگی ہو،آئین اور قانون کے مطابق ریاستی اداروں کو اپنا اپنا کام کرتے ہوئے ملک کو آگے لیکر جانا ہوگا ،تیسری مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم محمد نواز شریف،،،پاکستان مسلم لیگ اور ایک صوبے کو سیاسی اور انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور دوسری جانب لاڈوں کو دہشت گردی کے کیسز میںبری اورکرپشن کرنے والوں کے نیب عدالت سے اصل دستاویزات گم ہوجاتیں ہیں،اتفاق رائے سے جلد از جلد نگران سٹ اپ کا اعلان ہونا چاہیے ،ہر وہ قانون جس پر آمر کی مہر ہے اسے پارلیمنٹ کی طاقت سے اٹھا کر باہر کیا جائے ۔

(جاری ہے)

وہ ہفتہ کو صحافیوں سے گفتگو کر رہی تھیں،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایک جھوٹی خبر پر چیئرمین نیب نے تیسری مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم محمد نواز شریف پر الزام لگایا ،اس معاملے پر 2006میں بھی تردید ہوچکی ہے ، نیب کے قانون کے مطابق کسی بھی شکایت کی تصدیق کی جاتی ہے لیکن کسی کو ڈی فیم یا شیم کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

انہوں نے کہا کہ 70سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ جمہوری حکومت اپنی 10سالہ مدت مکمل کرنے جارہی ہے ،31مئی تک ہماری حکومت کی مدت ہے ،مدت مکمل ہونے سے قبل ترقیاتی منصوبوں اور بھرتیوں پر پابندی پری پول ریگنگ ہے ، بہت سے منصوبوں کے ٹینڈرز جاری اور بھرتیوں کا عمل بھی حتمی مرحلے میں تھا کہ پابندی عائد کر دی گئی۔انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے ویڑن کے تحت صوبائی حکومت نے ملکر دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑی،کسی بھی مارشل لائ دور یا کسی حکومت میں اس طرح دہشت گردی کے خلاف موثر اور نتیجہ خیز جنگ نہیں لڑی گئی،2013سے قبل دہشت گردی کے واقعات اور آج 2018میں دہشت گردی کے واقعات میں بہت زیادہ اور واضح فرق ہے۔

انہوں نے کہا کہ محمد نواز شریف ان کیسز میں جتنی مرتبہ عدالت میں پیش ہوئے ہیں اس طرح کی مثال ماضی میں بھی نہیں ملتی ،نیب عدالتوں میں اور بھی بڑے بڑے کیسز جاری ہیں لیکن اس طرح روز روز پیشی نہیں ہوتی ، نیب صرف ایک شخص ،ایک پارٹی اور صوبے کو ہدف بنائے ہوئے ہیں ،باقی صوبے بھی ہیں ،کے پی کے احتساب کمیشن کو تالے لگے ہوئے ہیں، کے پی کے میںخیبر بنک کرپشن سکینڈل ،،سونامی ٹری کرپشن اور حال ہی میں محکمہ ٹرانسپورٹ کے سی ای او کا کرپشن کی بنیاد پر استعفی سب کے سامنے ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کے پی کے حکومت کام کرتی تو ہمیں خوشی ہوتی کیونکہ پاکستان ہم سب کے لئے اہم ہے ،جتنی ترقی پنجاب میں ہوئی کاش اتنی ترقی کے پی کے میں بھی ہوتی لیکن عمران خان نے گذشتہ ساڑھے چار سالوں کے دوران صرف دھرنوں ،لاک ڈائون ،گالم گلوچ اور الزامات کی سیاست کی ،،پنجاب میں عوامی خدمت کے منصوبوں کی مخالفت کرنے والے اسی لئے اپنی کارکردگی کا موازنہ نہیں کرنے دیتے۔

انہوں نے کہا کہ میرے لئے دکھ کی بات تھی کہ مجھے بطور وزیر اطلاعات پیمرا کمیٹی سے نے نکالا گیا ،،وزیراعظم نے چیئرمین پیمرا کی تقرری کے لئے کمیٹی بنائی تھی اگر سپریم کورٹ نے کوئی تبدیلی کرنی تھی تو وہ وزیراعظم کولکھ کر بھیج دیتے ،،وزیراعظم کا یہ استحقا ق تھا کہ وہ کمیٹی میں تبدیلی کریں ،بطور وزیراطلاعات اور حکومتی ترجمان کے بیان دینا میرا فرض اور حق ہے ،کہا گیا کہ استعفی دیدیں ،آخر کب تک منتخب ورزائ اعظم اور وزراء کبھی بے بسی اور کبھی ڈر سے استعفی دیتے رہیں گے ،ہم نے ملک کو آئین اور قانون کے مطابق ملک کو آگے لیکر چلنا ہے۔

وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ گذشتہ ساڑھے چار سالوں کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن نے وفاقی اور صوبے میں اربوں کے منصوبوں کا اعلان کیا اور ان کی تکمیل کی لیکن اس وقت نیب کہاں تھی اب جب کہ حکومت کی کچھ مدت رہ گئی ہے تو اداروں نے ڈی فیم کرنا شروع کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں ہی پاکستان ایٹمی قوت بنا ،،پاکستان کی پہلی موٹر وے ، پینے کے صاف پانی ،دہشت گردی کے خاتمے ، ساڑھے چار سالوں کے دوران 11ہزار میگا واٹ سسٹم میں شامل کی گئی اتنی بجلی 66سالوں میں بھی پیدا نہیں گئی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے دوبارہ 90کی دہائی کی سیاست متعارف کر ادی ہے ،ہمیں آگے جانا ہے ،،پارلیمنٹ میں سیاستدانوں کو مل بیٹھ کر کچھ اصولوں طے کرنا ہونگے کہ ہمیں جہموریت ،مذہب ،،تعلیم ،صحت کے معاملے پر سیاست نہیں کرنی۔انہوں نے کہا کہ جب بھی جمہوریت پر شب خون مارا گیا تو جمہوریت اس سے زیادہ طاقت کے ساتھ سامنے آئی ہے۔