ایران میں ہر گھنٹے میں 50 اور سالانہ ساڑھے چار لاکھ گرفتاریاں

قانون تعزیرات میں اصلاحات کی ضرورت،سزائوں کو جرمانوں میں بدلاجاسکتاہے،چیئرمین سماجی سروسزکمیٹی

اتوار مئی 11:10

تہران(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) ایران پر مسلط ولایت فقیہ کے نظام کی طرف سے عوام کی بنیادی شہری آزادیوں کو کھلے عام پامال کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایران میں ایک گھنٹے میں اوسطا پچاس افراد اور سالانہ ساڑھے چار لاکھ افراد کو گرفتارکرکے جیلوں میں ڈالا جاتا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایران میں سماجی سروسز کمیٹی کے چیئرمین حسن موسوی تشلک نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ ایران میں ایک گھنٹے میں اوسطا 50 افراد کو گرفتار کیا جاتا ہے۔

سالانہ یہ تعداد چار لاکھ 30 ہزار تک جا پہنچتی ہے۔انہوں نے ملک میں قانون تعزیرات میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ شہریوں کو طویل المدت قید کی سزاؤں کو جرمانوں میں بدلا جاسکتا ہے۔

(جاری ہے)

ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ پولیس کے کریک ڈاؤن میں سالانہ 4 لاکھ 20 ہزار سے 4 لاکھ 30 ہزار شہریوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ تمام گرفتار شہریوں کو طویل المدت قید کی سزائیں سنائی جائیں۔

قید کی سزاؤں کو جرمانوں میں تبدیلی کیا جاسکتا ہے۔انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ بھی ایران میں شہریوں کی بلا جواز گرفتاریوں پر بار بار تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ بین الاقوامی تنظیموں کاکہنا ہے کہ ایرانی حکومت مختلف عدالتی اور قانونی حربوں کی آڑ میں لاکھوں شہریوں کو جیلوں ڈال کرانہیں انسانیت سوز مظالم کا نشانہ بناتی ہے۔ گذشتہ کچھ برسوں سے ایران میں چالیس لاکھ شہریوں کے خلاف نام نہاد کیسز بنائے گئے اور انہیں گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالا اور عدالتوں میں گھسیٹا گیا۔

متعلقہ عنوان :