آسٹریا میں مہاجرین مخالف نئی پالیسی کا فیصلہ،عالمی ادارے کی تنقید

میں مہاجرین اور سیاسی پناہ سے متعلق قوانین میں ترمیم اورمقامی آباد ی کو تحفظ دیا جائیگا،آسٹرین حکومت

اتوار مئی 12:40

ویانا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) آسٹریا میں دائیں بازو کی حکومت ملک میں مہاجرین سے متعلق اپنی پالیسیاں سخت بنا رہی ہے۔ اس کا موقف ہے کہ اس طرح آسٹریا کی مقامی آبادی کے مفادات کا بہتر تحفظ ممکن ہو گا تاہم آسٹریا کی حکومت کی جانب سے مہاجرین سے متعلق نئی پالیسی کے مسودے پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق آسٹریا میں دائیں بازو کی حکومت ملک میں مہاجرین سے متعلق اپنی پالیسیاں سخت بنا رہی ہے۔ اس کا موقف ہے کہ اس طرح آسٹریا کی مقامی آبادی کے مفادات کا بہتر تحفظ ممکن ہو گا، تاہم اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے ویانا حکومت کی مہاجرین سے متعلق اس نئی پالیسی کے مسودے پر تنقید کی ہے۔

(جاری ہے)

اس نئی پالیسی کے مطابق ملک میں مہاجرین اور سیاسی پناہ سے متعلق قوانین میں ترمیم کی جائے گی۔

ادھراقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے اس ترمیمی مسودے پر ایک قانونی تجزیہ پیش کیا ہے۔ عالمی ادارے کی جانب سے اس تجزیے میں ویانا حکومت سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ملک میں سیاسی پناہ سے متعلق موجودہ پالیسیوں کو جاری رکھے۔ اس عالمی ادارے نے تازہ ترمیمی مسودے پر ’تشویش‘ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے مہاجرین کے پاس موجود ’نقد رقم اور الیکٹرانک مصنوعات کی ضبطی‘ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق کسی تارک وطن کے لیے آسٹریا کی شہریت حاصل کرنے کی مدت اس پالیسی کے نتیجے میں بہت بڑھ جائے گی۔

متعلقہ عنوان :