اسرائیل نے فلسطینیوں کے مظاہروں کے بعد غزہ کی سرحدی گذرگاہ بند کردی

مصر نے غزہ کی پٹی کے ساتھ واقع رفح کے مقام پر سرحدی گذرگاہ کو چار روز کے لیے کھولنے کا اعلان کر دیا

اتوار مئی 12:40

مقبوضہ غزہ /قاہرہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) اسرائیل نے فلسطینیوں کے مظاہروں کے بعد غزہ کی سرحدی گذرگاہ بند کردی،ادھر اسرائیلی اور فلسطینی حکام نے غزہ اور اسرائیل کے درمیان اشیاء کی نقل وحمل کے لیے استعمال ہونے والی ایک سرحدی گذرگاہ کی بندش کی تصدیق کردی ہے جبکہ اسرائیلی حکام نے کہاہے کہ اس گذرگاہ کو جمعہ کو فلسطینیوں کے مظاہروں کے دوران نقصان پہنچا تھا۔

دریں اثناء مصر نے غزہ کی پٹی کے ساتھ واقع رفح کے مقام پر سرحدی گذرگاہ کو چار روز کے لیے کھول دیا ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ کے جنوب میں واقع کیرم شالوم گذرگاہ کی فلسطینی طرف کو مظاہروں کے دوران میں شدید نقصان پہنچا تھا لیکن وہاں سے چند سو میٹر کے فاصلے پر واقع گذرگاہ کی اسرائیلی طرف کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔

(جاری ہے)

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ بارڈر کراسنگ مرمت تک بند رہے گی اور ا س کے بعد اس کا جائزہ لینے کے بعد کھولنے کا فیصلہ کیا جائے گا،اس میں مزید کہا گیا کہ کراسنگ پر واقع ایندھن کے ٹرمینل زیادہ نقصان پہنچا ہے اور وہ مکمل طور پر ناقابل ا ستعمال ہوگیا ہے۔اسرائیلی فوج نے حماس کی سرپرستی میں احتجاج کرنے والے فلسطینی مظاہرین کو بارڈر کراسنگ کو پہنچنے والے نقصان کا مورد الزام ٹھہرایا لیکن اس کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ۔دوسری جانب بارڈر کراسنگ پر اسرائیل سے رابطے کے ذمے دار فلسطینی ادارے نے بھی اس کی بندش کی تصدیق کی ہے۔دریں اثناء مصر نے غزہ کی پٹی کے ساتھ واقع رفح کے مقام پر سرحدی گذرگاہ کو چار روز کے لیے کھول دیا ۔