ماں کے عالمی دن کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں مائیںاپنے لاپتہ بیٹوں کی واپسی کی منتظر رہیں

اتوار مئی 13:30

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) دنیاکے بیشتر ممالک میں اتوار کو مائوں کا عالمی دن منایا گیا لیکن مقبوضہ کشمیر میں ایسی ہزاروں مائیں گزشتہ 29 برس کے دوان بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاوں کے ہاتھوں جعلی مقابلوں میں یا حراست کے دوران لاپتہ ہونے والے اپنے بیٹوں کی گھر واپسی کی منتظر رہیں۔

(جاری ہے)

کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے مئی کے دوسرے اتوار کو مائوں کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی کئی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بھارت کی مسلسل ریاستی دہشت گردی کے باعث مقبوضہ کشمیر میں 1989سی11 مئی 2018 تک خواتین اوربچوں سمیت 95 ہزار سے زائد کشمیری شہیدہو چکے ہیں جس کے نتیجے میں 22ہزار 8سو 73خواتین بیوہ ہوئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی فوجیوں نے اس عرصے کے دوران 11ہزار 71کشمیری خواتین کی آبروریزی اور بے حرمتی کی۔55 سالہ حریت رہنما آسیہ اندرابی ، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سینٹرل جیل سرینگر میں غیر قانونی طور پر نظر بند ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارتی فورسز نی1989سے اب تک 8 ہزار سے زائد کشمیریوں کو حراست کے دوران لاپتہ کیا اور ان لاپتہ افراد میں سے اکثریت کی مائیں برسہا برس سے اپنے جگر گوشوں کی راہ تک رہی ہیں۔