پاکستان میں گوشت کی دستیابی 8کلو فی کس سالانہ ہے، ماہرین لائیو سٹاک

اتوار مئی 14:20

فیصل آباد۔13 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) ماہرین لائیو سٹاک و ڈیر ی ڈویلپمنٹ نے بتایاہے کہ وطن عزیز میں گوشت کی فی کس دستیابی دوسرے ممالک کے افراد کی نسبت بہت کم ہے اوراگرچہ حکومت لائیو سٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ سیکٹر کی ترقی کیلئے اقدامات کر رہی ہے تاہم اس ضمن میں مزید بہتر انداز میں کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ فی کس آمدنی کے لحاظ سے گوشت کی وافر مقدار میں ارزاں نرخوں پر فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور پاکستان کے غریب عوام بھی گوشت کے استعمال کی مقدار میں اضافہ سے مستفید ہو سکیں۔

ایک ملاقات کے دوران انہوں نے بتا یا کہ پاکستان میں اس وقت فی کس سالانہ کے حساب سے عام افراد کو 8کلو گرام گوشت میسر ہے جبکہ آسٹریلوی سالانہ 140کلو ،امریکی 90، برطانوی 85 اور جرمن 72 کلو گوشت فی کس استعمال کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوںنے بتایا کہ گوشت کی مذکورہ مقدار میں 40 فیصد بڑا ، 33 فیصد چھوٹا اور 4 فیصد مرغی کا گوشت شامل ہے۔انہوںنے بتا یاکہ پاکستان میں عام طور پر بڑا گوشت ان جانوروں سے حاصل کیا جاتا ہے جو ناکارہ ہونے کے علاوہ کافی بوڑھے ہو چکے ہوتے ہیں اس طرح ان کے گوشت میں غذ ائیت بھی کم ہوتی ہے۔

انہوں نے بتا یا کہ پاکستان کی آب و ہوا کے مطابق روزانہ فی کس لحمیات کی فراہمی تقریباً 50گرام ہو نی چاہیے جس میں 25گرام کے قریب حیوانی لحمیات کا ہونا بھی ضروری ہے ۔ انہوںنے بتا یا کہ وطن عزیز میں ہماری قوم لحمیات کی مقررہ مقدار سے محروم ہے جبکہ آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کے باعث لحمیاتی قلت کم کرنے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوںنے توقع ظاہر کی کہ حکومت مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عمدہ اوصاف کے حامل گوشت کی بھر پور پیداوار حاصل کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔