امریکا میں مقیم کشمیری تارکین وطن مقبوضہ کشمیر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میںاہم کردار ادا کررہے ہیں

سلامتی کونسل مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا نوٹس لے صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کا نیو یارک میں پاکستان امریکن سوسائٹی آف نیویارک کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب

اتوار مئی 15:10

نیویارک ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ امریکا میں بسنے والے تارکین وطن مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں پر بھارت کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کے خاتمے اور جموں وکشمیر کے لوگوں کو حق خودارادیت دیئے جانے کے سلسلے میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ تارکین وطن زندگی کے تما م شعبوں میں پاکستان اور امریکاکے تعلقات بہتر بنانے میں کام جاری رکھیں گے کیونکہ یہ تعلقات دونوں ملکوں کے مفاد میں تھے اور علاقائی سلامتی اور امن و استحکام کے لئے اہم تھے ۔

صدر آزادجموںو کشمیر نے ان خیالات کا اظہار نیو یارک میں پاکستان امریکن سوسائٹی آف نیویارک (پی اے ایس این وائی( کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں نے یہ عہد کر رکھا ہے کہ جب تک انہیں آزادی مل نہیں جاتی وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔امریکا میں مقیم پاکستانی امریکن کمیونٹی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے صدر مسعود خان نے کہا ہے کہ امریکا میں پاکستانی کمیونٹی کی تعداد 7لاکھ سے ایک ملین کے درمیان ہے اور ایک رپورٹ کے مطابق یہ تعداد بڑھ رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی امریکن کمیونٹی نہ صرف اچھا کام کر رہی ہے بلکہ ان کی آمدنی امریکا کے درمیانی طبقے کی آمدنی کے مقابلے میں بہتر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی امریکن نے اب امریکی سیاست میں فعال حصہ لینا شروع کر دیا ہے ۔اقتصادی طور پر بھی ان کی حالت بہت اچھی ہے کیونکہ وہ اچھے طریقہ سے کام کر رہے ہیں اور انہوں نے اس ملک میں سماجی طور پر اپنے آپ کو ضم کر دیا ہے اور اس حیثیت نے انہیں یہ پلیٹ فارم مہیا کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے بارے میں شعور بیدار کرتے ہوئے سرکاری اورغیر سرکاری نمائندوں اور عالمی برادری کو جموں وکشمیر میں انسانیت کے خلاف جاری غیر معمولی مظالم کے خاتمے اور کشمیر یوں کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دِلائے جانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ کر سکیں ۔

صدرمسعود خان نے کہا ہے کہ کشمیر دوطرفہ مسئلہ نہیں ہے جیسا کہ بھارت کا یہ پروپیگنڈہ ہے بلکہ یہ سہہ فریقی مسئلہ ہے جو پاکستان ، بھارت اور جموں وکشمیر کے لوگوں کے درمیان ایک تنازعہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک بین الاقوامی تنازعہ ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو استصواب رائے کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیتے ہوئے اس مسئلے کو حل کیا جاسکتاہے۔

صدر آزادجموں و کشمیر نے بین الاقوامی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری پر امن اورامن پسند لوگ ہیں جبکہ ان پر ظلم و تشدد کے تما م حربے استعمال کئے جا رہے ہیں اور وہ عالمی دنیا سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں بھارت کی جانب سے سپانسر ریاستی دہشت گردی سے بچایا جائے جو قابض بھارتی افوج کی جانب سے بڑے پیمانے پر قتل عام ، ظلم و تشدد ، پیلٹ گنوں کے ذریعے بینائی سے معذور اور غیر قانونی گرفتاریوں کی صورت میںکی جا رہی ہے۔

صدر نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں بھی جموں و کشمیر کے لوگوں نے پاکستان کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا ۔انہوں نے کہا کہ یہ تمام آزادی پسند لوگوں اور بالخصوص پاکستان کے لوگوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے ساتھ اپنی سیاسی اور سفارتی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں بھارتی مظالم سے بچانے اور انہیں حق خوارادیت دئیے جانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مضبوط بنانے کی کوشش کریں کیونکہ ایک مضبوط پاکستان ہی مسئلہ کشمیر کے مستقل حل کی ضمانت ہے ۔صدر مسعود خان نے پاکستانی امریکنز کو سیاحت کے لئے آزادکشمیر کا دورہ کرنے کی بھی دعوت دی تاکہ وہ آزادکشمیر میں ہونے والی تعمیر و ترقی اور گڈ گورننس کا ازخود مشاہدہ کر سکیں ۔اس سے قبل صدر آزادجموں و کشمیر نے فوکس ٹیلی ویژن کو مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال اور اس کے حل کے سلسلے میں ایک انٹرویو بھی دیاہے۔