پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات (آج) اسلام آباد ہونگے

فوجی ،ْ انٹیلی جنس اداروں کے درمیان تعاون ،ْسیاسی ،ْتجارتی تعلقات بڑھانے اور مہاجرین سے متعلق معاملات زیر بحث آئیں گے امن اور یکجہتی کیلئے پاکستان کا افغانستان کا مشترکہ پلان کا چوتھا دور ہوگا ،ْگزشتہ تین اجلاسوں فیصلوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا جائیگا

اتوار مئی 15:30

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات (آج)پیر کو اسلام آباد ہونگے جس میں فوجی ،ْ انٹیلی جنس اداروں کے درمیان تعاون ،ْسیاسی ،ْتجارتی تعلقات بڑھانے اور مہاجرین سے متعلق معاملات زیر بحث آئیں گے ،ْامن اور یکجہتی کیلئے پاکستان کا افغانستان کا مشترکہ پلان (اے پی اے پی پی ایس ) کا چوتھا دور ہوگاجس میں گزشتہ تین اجلاسوں فیصلوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا جائیگا ۔

افغان اور سر کاری ذرائع نے ’’این این آئی ‘‘کو بتایا کہ افغان وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی اور پاکستانی وفد کی سربراہی خارجہ سیکرٹری تہمینہ جنجوعہ کریں گی ۔ایک سر کاری ذرائع کے مطابق مذاکرات میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان چھ اپریل کو ہونے والی ملاقات میں فیصلوں اور پیشرفت کا بھی جائزہ لیا جائیگا ۔

(جاری ہے)

دونوں رہنمائوں کی ملاقات میں (اے پی اے پی پی ایس ) کے سات بنیادی نکات پر اتفاق ہوا تھا جس کے تحت دونوں ممالک اپنی سر زمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کر نے کی اجازت نہیں دینگے ۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں دونوں ممالک میں رابطہ کار افسران کی تعیناتی پر بھی مزید گفتگو کی جائیگی جس کے بارے میں دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ ماہ مفاہمت ہوئی تھی ۔

ذرائع کے مطابق یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ دونوں ممالک کے فوجی افسران اپنے اپنے ممالک کے سفارتخانوں میں تعینات کیئے جائینگے جو مشکوک افراد سے متعلق معلومات ملنے کے بعد وہ ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرینگے ۔ذرائع کے مطابق (اے پی اے پی پی ایس )کے تحت مشترکہ ورکنگ گروپس بنانے پر مزید غو رکیا جائیگا کیونکہ افغانستان کی جانب سے کچھ اختلافات کی وجہ سے ابھی تک گروپس کی تشکیل نہیں ہوسکی ۔

’’این این آئی ‘‘ کو معلوم ہوا ہے کہ افغانستان کی جانب سے مجوزہ گروپس بنانے کیلئے متن میں چند الفاظ پر افغانستان کی حکومت نے اعتراضات اٹھائے تھے جس میں سرحد کیلئے افغان کا اصرار ہے کہ ان کو ڈیورنڈ لائن لکھا جائے تاہم پاکستان نے تجویز پیش کی تھی کہ تکنیکی معاملات کی وجہ سے باضابطہ مذاکرات کا سلسلہ نہیں رکنا چاہیے ۔