کرم ایجنسی میں پاک افغان سرحد پر بوڑکی قبائل کا ہنگامی جرگہ ،ْ افغان سرحد آمد و رفت کیلئے کھولنے کا مطالبہ

اتوار مئی 15:30

پاراچنار(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) کرم ایجنسی میں پاک افغان سرحد پر بوڑکی قبائل کا ہنگامی جرگہ منعقد ہوا جس میں بوڑکی کے مقام پر افغان سرحد آمد و رفت کے لئے کھولنے اور تجارت کو فروغ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ کرم ایجنسی کے سرحدی علاقے بوڑکی میں پاک افغان سرحد پر قبائل کی جانب سے منعقدہ ہنگامی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے ملک حاجی نوروز علی، حاجی کمال حسین، ملک اسلام، حضرت گل اور دیگر عمائدین نے کہا کہ انگریز دور سے بوڑکی سرحد تجارت اور آمد و رفت کے لئے استعمال ہورہی تھی اور این ایل سی کی جانب سے افغان سرحد پر جب سیٹ اپ بنانے کے لیے منصوبہ بندی کی جارہی تھی تو بوڑکی قبائل نے دو سو ایکڑ اراضی مفت دینے کی بھی پیشکش کی تھی مگر اس کے باوجود خرلاچی میں این ایل سی نے متنازعہ اراضی خرید لی اور ستم بالائے ستم یہ کہ بوڑکی میں افغان سرحد بھی بند کردیا گیا جس سے بوڑکی قبائل کے سینکڑوں لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں اور فاقہ کشی پر مجبور ہیں اس لیے حکومت بوڑکی سرحد آمد و رفت اور تجارت کے لئے کھول دیں تاکہ بوڑکی قبائل میں پائے جانے والی بے چینی کو ختم کیا جا سکے۔

(جاری ہے)

جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی سردار ملک نوروز علی نے کہا کہ ایف بی آر سے منظور شدہ اور چار سو سال سے استعمال ہونے والی شاہراہ کی بندش قبائل کے ساتھ ظلم اور ناانصافی ہے اگر شاہراہ کو نہ کھولا گیا تو احتجاج پر مجبور ہونگے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے ملک اسلام اور حاجی کمال حسین نے کہا کہ این ایل سی ذاتی مفادات کے لیے قبائل کو مسائل میں الجھا رہی ہے بوڑکی کے قبائل کو بھی نظر میں رکھا جائے اور متعلقہ حکام اپنی زمہ داریاں پوری کریں بوڑکی سرحد پر کام کرنے والے مزدور کمیٹی کے رہنماؤں آصف علی اور علی محمد خان نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ سے بارڈر کی بندش کے باعث وہ بے روزگار ہوگئے ہیں اور فاقہ کشی پر مجبور ہیں کرم ایجنسی سے سینیٹ کے ممبر حاجی سجاد طوری نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بوڑکی خرلاچی پر افغان سرحد کے حوالے سے تمام مسائل کے بہتر طریقے سے حل کیلئے اقدامات اٹھائے تاکہ قبائل کے مابین افہام و تفہیم کی صورت حال اور بھائی چارے کی فضا قائم رہے۔

متعلقہ عنوان :