سپریم کورٹ نے قرضے معاف کروانے والے 222 افراد کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا

ارب روپے کے قرضے معاف کروائے گئے، قرضے معاف کرنے والے ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہوگی ،ْچیف جسٹس کے ریمارکس

اتوار مئی 15:40

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے قرضے معاف کروانے والے 222 افراد کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔ اتوار کو سپریم کورٹ میں قرضے معاف کروانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ گورنر اسٹیٹ بینک نے کمیشن رپورٹ کی سمری جمع کروادی ہے۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ گورنر سٹیٹ بینک خود کہاں ہیں ،ْ222 افراد نے خلاف ضابطہ قرضے معاف کروائے، تمام افراد کو نوٹسز جاری کرینگے، کمیشن نے 222 افراد کے خلاف کارروائی کی سفارش کی تھی۔

عدالت نے قرضے معاف کروانے والے 222 افراد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا اور 8 جون تک جواب طلب کرلیا۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ 84 ارب روپے کے قرضے معاف کروائے گئے، قرضے معاف کرنے والے ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہوگی۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ قرضہ معافی کیس کی 26 اپریل کو ہونے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ یہ معاملہ ہمارے پاس 2007 سے زیر التوا ہے، ہمیں رپورٹ چاہیے اور اس کی سفارشات بھی، جنہوں نے سیاسی بنیادوں پر قرض معاف کرائے ان سے وصول کریں گے۔

بیرسٹرظفر اللہ نے عدالت کو بتایا کہ محمد خان جونیجو،، یوسف رضا گیلانی اور بے نظیر بھٹو،، نواز شریف اور چوہدری برادران نے بھی قرض لے کر معاف کرائے ہیں۔اس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ جنہوں نے غیرقانونی قرض معاف کرائے ان سے وصول کریں گے، اگر رقم نہیں تو اثاثے فروخت کرکے رقم وصول کریں گے