اکستان اسٹاک ایکس چینج میں گزشتہ ہفتہ بھی شدیدمندی چھائی رہی اور کے ایس ای 100انڈیکس 44ہزار کی نفسیاتی حد سے بھی گرگیا

سرمایہ کارو کے 2کھرب7ارب 12کروڑ76لاکھ روپے سے زائد ڈوب گئے،جبکہ سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت گھٹ کر 89کھرب73ارب روپے ہوگئی

اتوار مئی 15:40

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں گزشتہ ہفتہ بھی شدیدمندی چھائی رہی ،سرمایہ کاروں کی جانب سے نئی سرمایہ کاری کے بجائے سرمایہ نکالنے کو ترجیع دینے کے باعث ہفتہ بھر مندی کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں کے ایس ای100انڈیکس میں مجموعی طور پر912پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی اور اس نمایاں کمی سے انڈیکس 44ہزار کی نفسیاتی حد سے بھی گرتے ہوئے 43594.79پوائنٹس کی سطح پر آگیا جب کہ مندی کی وجہ سے مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت 2کھرب7ارب 12کروڑ76لاکھ روپے کی کمی سے 89کھرب73ارب9 کروڑ54لاکھ22ہزار269روپے ہو گئی ۔

واضح رہے کہ وفاقی بجٹ اعلان کے بعد پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مسلسل مندی د دیکھی جارہی ہے جس کے نتیجے میں 5مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران بھی کے ایس ای100انڈیکس 1005.87پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی اورمارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت میں 2کھرب11ارب28کروڑ53لاکھ روپے کی کمی ہوئی تھی جب کہ 11مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران بھی مندی کا سلسلہ برقرار رہا جس کے نتیجے میں گزشتہ دوہفتوں کے دوران کے ایس ای100انڈیکس میںمجموعی طور پر1918پوائنٹس کی کمی واقع ہوچکی ہے جب کہ بیشتر حصص کی قیمتوں میں کمی آنے کے باعث مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت میں بھی 4کھرب18ارب روپے سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

(جاری ہے)

اور معاشی ماہرین ملک میں سیاسی مستقبل کی غیر واضح تصویر اور معاشی چیلنجز ،ایمنسٹی اسکیم اور بجٹ پر عمل درآمد کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت کے پیش نظرآئندہ ہفتہ بھی منفی اثرات غالب رہنے کے خدشات ظاہر کررہے ہیں۔اسٹاک مارکیٹ کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق 7تا11مئی پر مشتمل کاروباری ہفتے کے پہلے روز اور مندی کے تسلسل میں پانچویں روز مندی کا رجحان برقرار رہا جس کے نتیجے میںکے ایس ای 100 انڈیکس 44400کی نفسیاتی حد سے گرتے ہوئی158.39پوائنٹس کمی سی44378.52پوائنٹس کی سطح پر آگیاجب کہ60.21فیصد حصص کی قیمتوں میںکمی ریکارڈ کی گئی جس سے سرمایہ کاروں کو 33ارب86 کروڑ روپے سے زائدکا نقصان اٹھانا پڑااورحصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم صرف 13کروڑ5 لاکھ8 ہزارشیئرز تک محدود رہا ۔

اسی طرح مسلسل چھٹے روزمنگل کوبھی مندی کا تسلسل جاری رہا اورکے ایس ای 100 انڈیکس مزید311.56پوائنٹس کمی سی44066.96پوائنٹس کی سطح پر آگیاجب کہ حصص کی فروخت کے دباؤ کے باعث71.15فیصد حصص کی قیمتوں میںکمی ریکارڈ کی گئی جس سے سرمایہ کاروں کو50ارب24 کروڑ روپے سے زائدکا نقصان اٹھانا پڑاالبتہ حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم پیر کی نسبت17.62فیصدزائد رہا بدھ کو بھی پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں مندی کے بادل چھائے رہے اورکے ایس ای 100 انڈیکس مزید271.96پوائنٹس کمی سی43795.00پوائنٹس کی سطح پر آگیاجب کہ حصص کی فروخت کے دباؤ کے باعث70.63فیصد حصص کی قیمتوں میںکمی ریکارڈ کی گئی جس سے سرمایہ کاروں کو 66 ارب77 کروڑروپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑاالبتہ حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم منگل کی نسبت 24.97فیصدزائدرہا ۔

جمعرات کو مندی کا 7روز سے جاری تسلسل ٹوٹ گیا اور اتار چڑھاؤ کے بعد معمولی تیزی غالب آگئی جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس 60.78پوائنٹس کی ریکوری سی43855.78پوائنٹس کی سطح پر آگیاجب کہ 53.84فیصد حصص کی قیمتوں میںاضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت میں7ارب97کروڑ17لاکھ روپے کی ریکوری ہوئی لیکن ایک روزہ معمولی ریکوری کے اگلے ہی روزجمعہ کوپھر مندی چھاگئی اورکے ایس ای 100 انڈیکس260.99پوائنٹس کمی سی43594.79پوائنٹس کی سطح پر آگیاجب کہ حصص کی فروخت کے دباؤ کے باعث68.73فیصد حصص کی قیمتوں میںکمی ریکارڈ کی گئی جس سے سرمایہ کاروں کو 48ارب27کروڑ روپے سے زائدکا نقصان اٹھانا پڑا۔

اسٹاک تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بینکنگ اور سیمنٹ سیکٹر میں سب سے زیادہ منفی اثرات اثرات دیکھنے میں آیا جب کہ دیگر شعبوں میں بھی عمومی طور پر سرمایہ کاروں کی خریداری میں عدم دلچسپی کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ میں بدترین مندی دیکھی جارہی ہے ۔کل ( پیر ) ایم ایس سی آئی انڈیکس میں پاکستانی اسٹاک کی پوزیشن کا بھی فیصلہ متوقع ہے جس کے زیر اثر ریکوری یا مزید مندی بڑھنے کا بھی امکان ہے ۔

متعلقہ عنوان :