محب وطن اور ملک کی خادم نگراں حکومت لائی جائے ،بیرونی قوتوںکے آلہ کار عوام کو قبول نہیں، الطاف شکور

عافیہ کے وطن آنے سے پہلے کرنل جوزف کو امریکہ کے حوالے نہ کیا جائے ، نگراں حکومت کے لئے سیکوریٹی کلیئرنس دی جائے،صدر پاسبان پاکستان میگا سٹی کا آئینی درجہ دے کر کراچی کے زخموں پر فوری فوری مرہم رکھا جائے،مزار قائد تا تبت سینٹر ’’ میگا مارچ فار میگا سٹی ‘‘ نے میدان مار لیا ، عوام میں زبردست جوش و خروش ،پاسبان پاکستان کے صدر و دیگر کاخطاب

اتوار مئی 15:40

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) پاسبان پاکستان کے صدر الطاف شکور نے کہا ہے کہ محب وطن اور ملک کی خدمت میں مصروف عمل لوگوں پر مشتمل نگراں حکومت لائی جائے ۔ بیرونی قوتوں کے آلہ کارعوام کوہرگزقبول نہیں ورنہ شفاف انتخابات کا انعقاد بھی خطرے میں پڑ جائے گا ۔نگراں حکومت کا اعلان سیکوریٹی اداروں کی مکمل کلیئرنس کے بعدکیا جائے ۔

جب تک قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی وطن واپس نہیں آجاتیں اس وقت تک کرنل جوزف کو امریکہ کے حوالے نہ کیا جائے ۔۔کراچی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق میگا سٹی کا آئینی درجہ دے کر کراچی کے رستے ہوئے زخموں پر فوری مرہم رکھا جائے ۔ پاسبان کے مطالبے کی زبردست عوامی پذیرائی کے بعد اب دیگرسیاسی جماعتیں مجبور ہوئی ہیں کہ وہ بھی میگا سٹی کے مطالبے کو دہرا رہی ہیں ۔

(جاری ہے)

میگا سٹی بننے کے بعد صنعتوں کا جال بچھے گا ۔ عوام کوعزت و انصاف ملے گا ۔روزگار ملے گا ۔۔تعلیم وصحت اور ٹرانسپورٹ کا سستا اور معیاری نظام ملے گا ۔ پینے اور استعمال کا صاف پانی وافر ملے گا اور پولیس چیف کے عوامی انتخاب سمیت کراچی کے شہریوں کو انقلابی تبدیلیاں نظر آئیں گی ۔ہر ضلع میں یونیورسٹی اور بجلی گھر ہوں گے ۔میگا سٹی کراچی کے نوجوانوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے ۔

وہ پاسبان کے زیر اہتمام مزار قائدسے تبت سینٹر تک ’’پاسبان میگا مارچ فار میگا سٹی ‘‘کے ہزاروں جوشیلے شرکاء سے خطاب کررہے تھے ۔ گورنگی ،ملیر ،لانڈھی ،سرجانی ٹائون ،نیو کراچی ،نارتھ کراچی ،اورنگی ٹائون ،اور لیاری سمیت مختلف علاقوں سے ریلیاں مزار قائد پہنچیں ۔ پاسبان نے میدان مار لیا اور کراچی کے گرم سیاسی ماحول میں میگا سٹی کی تجویز کو عوام کی جانب سے زبردست پذیرائی مل گئی ۔

اس موقع پر پاسبان پاکستان کے جنرل سیکریٹری عثمان معظم ، سینئر نائب صدور رفیق احمد خاصخیلی ،اعظم منہاس ،نائب صدر طارق چاندی والا ،پاسبان کراچی کے صدر عبدالحاکم قائد ،جنرل سیکریٹری سردار ذوالفقار ،ارشد میر،اقبال ہاشمی ودیگر نے بھی خطاب کیا ۔ الطاف شکور نے کہا کہ ٹوٹی ہوئی سڑکیں ،بہتے ہوئے گٹر ،،بجلی کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ ،اوور بلنگ ،شناختی کارڈ کے لئے دھکے کھاتے عوام ،،پانی کی بوند بوند کو ترستے عوام ، بسوں کی چھتوں پراور پائیدانوں پر لٹکے عوام اور اسپتالوں میں دھکے کھاتے عوام کیا یہ صورت حال حکمرانوں کی نظر نہیں آتی ۔

کراچی کے شہر کو ویران اور کھنڈر بنانے میں گوٹھوں کے وڈیروں اور شہر کے لٹیروں کا ہاتھ ہے ۔ کراچی کے عوام کے ووٹوں اور نوٹوں سے گنگلے نمائندے ارب پتی اور کھرب پتی بن کرڈیفنس اور بحریہ پہنچ گئے لیکن عوام کو مسائل کے گرداب میں پھنسادیا ۔ لاشوں کے تحفے دیئے اور تقدیر بدلنے کے خواب چکنا چور کردیئے ۔ اب شہر کے مسائل کے حل کے لئے پاسبان نے انتہائی سوچ بچار اور اپنے سماجی تجربے کے نچوڑ کے بعد کراچی اور لاہور کو’’ میگا سٹی‘‘ کا آئینی درجہ دینے کی تجویز پیش کی ہے