جدید اور سٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنالوجیز اور کمیونیکیشن سسٹم کی وجہ سے دنیا تیزی سے گلوبل ویلج میں تبدیل ہو رہی ہے، اس ڈیجیٹل دور میں ذرائع ابلاغ سمیت زندگی کے ہر شعبہ میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، کانفرنس سے مندوبین کو پاکستان کی حقیقی تصویر اور دہشت گردی اور شدت پسندی پر قابو پانے میں پاکستان کی کامیابیوں کی داستان ملے گی

اتوار مئی 16:30

منیجنگ ڈائریکٹر ایسو سی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) مسعود احمد ملک کا ’’پاکستان : مواقع اور چیلنجز‘‘ کے عنوان سے دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس آف نیوز ایجنسیز سے خطاب اسلام آباد ۔ 13 مئی (اے پی پی) منیجنگ ڈائریکٹر ایسو سی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) مسعود احمد ملک نے کہا ہے کہ جدید اور سٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنالوجیز اور کمیونیکیشن سسٹم کی وجہ سے دنیا تیزی سے گلوبل ویلج میں تبدیل ہو رہی ہے، اس ڈیجیٹل دور میں ذرائع ابلاغ سمیت زندگی کے ہر شعبہ میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں‘ دنیا میں نیوز ایجنسیز کیلئے اس مسابقتی ماحول میں ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے ’’پاکستان : مواقع اور چیلنجز‘‘ کے عنوان سے دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس آف نیوز ایجنسیزکا انعقاد کیا ہے۔

(جاری ہے)

اے پی پی مستقبل میں کشمیری، چینی اور فارسی زبان میں سروسز، ڈیجیٹل نیوز ڈسپلے سکرینز ٹریننگ سروسز، میڈیا، ایجوکیشن فیسیلیٹیز اور خبروں کے تبادلے کے معاہدوں کو توسیع دے گی۔ وہ خبر رساں اداروں کے مابین اشتراک کار کے فروغ کیلئے ’’پاکستان کا میڈیا: مواقع اور چیلنجز‘‘ کے عنوان سے 2 روزہ ’’انٹرنیشنل کانفرنس آف نیوز ایجنسیز‘‘ (آئی سی این ای) سے خطاب کر رہے تھے۔

کانفرنس کا افتتاح وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کیا۔ قومی سلامتی کے مشیر لیٹفیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ قائم مقام سیکرٹری وزارت اطلاعات و نشریات شفقت جلیل‘ وزارت اطلاعات و نشریات اور اے پی پی کے حکام بھی موجود تھے۔ آئی سی این اے میں چین،، انڈونیشیا، آذربائیجان، ایران،، رومانیہ، اومان، بلغاریہ، ترکی،، مصر،، قزاخستان، لبنان، سوڈان، تیونس، سعودی عرب اور شام سمیت 18 ممالک سے 22 مندوبین شریک ہیں ۔

ایم ڈی اے پی پی مسعود احمد ملک نے پاکستان کے قومی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے زیر اہتمام دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس آف نیوز ایجنسیز میں شرکت کرنے والے غیر ملکی مندوبین کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اے پی پی کا ہیڈ کوارٹر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہے اور اس کے بیوروز راولپنڈی، لاہور،، کراچی،، پشاور،، کوئٹہ ،،ملتان ، فیصل آباد اور گلگت میں ہیں۔

اس سے نچلی سطح پر اے پی پی کے سٹیشنز لاڑکانہ، مظفرآباد، سرگودھا، ایبٹ آباد،، سیالکوٹ، بہاولپور اور سکھر میں کام کر رہے ہیں۔ سب سے نچلی سطح پر اے پی پی کے نمائندگان ملک کے کونے کونے میں موجود ہیں۔ بین الاقوامی کوریج کیلئے واشنگٹن،، لندن، نئی دہلی اور بیجنگ میں اس کے نمائندگان تعینات ہیں۔اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے صدر دفتر نیویارک ، برسلز اور جدہ میں اے پی پی کے نمائندے موجود ہیں جو قومی اور علاقائی امور پر پاکستان کے موقف کو اس کے حقیقی پس منظر میں اجاگر کرتے ہوئے ملک کے مثبت تشخص کو نمایاں کر رہے ہیں۔

عوام کو خبروں کی بلا تاخیر فراہمی اے پی پی کے چارٹر کا حصہ ہے اور اے پی پی اپنی پیشہ وارانہ آزادی کو اعلیٰ تجربہ کار اور محنتی صحافتی عملے کی مدد سے بروئے کار لا رہی ہے جو بہترین صحافتی روایات پر سختی سے کاربند ہے۔ اے پی پی نے حال ہی میں اپنی سرگرمیوں کو توسیع دینے کیلئے ڈیجیٹل سیٹلائٹ نیوز گیدرنگ ( ڈی ایس این جی) وہیکل، ارتھ سٹیشن اور ایڈیٹنگ کے جدید ترین آلات حاصل کئے ہیں جن کی مدد سے اہم ایونٹس کی براہ راست کوریج کی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ اے پی پی تجرباتی طور پر ویب ٹی وی بھی چلا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ کئی سالوں کے دوران سخت مقابلے، اخبار پڑھنے کے رجحان میں کمی اور سٹیزن جرنلٹس کے فعال ہونے، جہاں سمارٹ فون رکھنے والا ہر شخص کسی بھی واقعہ کی تصویر بنا کر اور اس کے بارے میں تحریر اور ویڈیو کو فیس بک ، ٹویٹر جیسے سوشل میڈیا پر شیئر کر سکتا ہے، کے باوجود اے پی پی نے قومی اور علاقائی اخبارات میں اپنا نمایاں مقام بنایا ہے۔

قومی ذرائع ابلاغ کو جاری کی جانے والی خبروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خبروں کی موقع پر کوریج، فیچرز اور تجزیاتی رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ اے پی پی بڑے مقامی اور غیر ملکی نیوز چینلز اور اخبارات کی مانیٹرنگ بھی کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اے پی پی میں مانیٹرنگ سیکشن بھی موجود ہے جو بیک وقت ایک درجن نیوز چینلز کو مانیٹر کرتا ہے۔

انہون نے کہا کہ اے پی پی نے 40 غیر ملکی نیوز ایجنسیوں کے ساتھ خبروں کے تبادلے کے معاہدے کر رکھے ہیں جن کے تحت علاقائی اور بین الاقوامی امور پر پاکستان کے موقف کو پیش کرنے کیلئے اہم خبروں کو روزانہ کی بنیاد پر جاری کیا جاتا ہے۔ اے پی پی کے بین الاقوامی نیوز ایجنسیز کے ساتھ مفاہمت کی 17 یادداشتیں بھی زیر غور ہیں۔ اے پی پی گلوبل اپنے فارن کارسپانڈنٹس ،اپنے خبروں کے تبادلے کے پروگرام اور تصاویر تحریری مواد اور ویڈیونیوز کے تبادلے پر نظر رکھتا ہے۔

اے پی پی کی ویب سائٹ نشر کی جانے والی خبروں کے آرکائیو کے طور پر کام کرتی ہے اور یہ اندرون ملک اور بیرون ملک ہزاروں قارئین وناطرین کی توجہ حاصل کرتی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ذرائع ابلاغ سے اے پی پی عربی سروس کا فیڈ بیک بھی مثبت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کنکٹویٹی کا اعتراف موجودہ دور کی اہم شناخت ہے۔ اس کانفرنس سے ان ٹیکنیکل اور پروفیشنل شعبوں کے تعین میں مدد ملے گی جو تعاون کو مضبوط کرنے اور خبروں کے تبادلے جیسے شعبوں کیلئے ضروری ہے اور جو خبروں کے بالواسطہ ذرائع کے حوالے سے ہمارے ایک دوسرے پر انحصار کرنے کی ضرورت کے تحت آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قدرتی طور پر ہم حقائق اور ان کی تشریح کیلئے ثانوی ذرائع پر انحصار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ڈیجیٹل کمیونیکشن کے اس دور میں خبر میں حقائق کے غیر جانبدارانہ بیان کیلئے تمام متعلقہ فریقین کا موقف بے حد اہمیت کا حامل ہے اور یہ وہ مقام ہے جس پر قومی خبر رساں ایجنسیوں کا کردار سامنے آتا ہے۔ عالمی تبدیلیوں کے تناظرمیں اے پی پی نے قومی خبر رساں اداروں کے ساتھ قریبی فعال تعلقات کے قیام کا اقدام کیا ہے جس سے ایک طرف تمام شرکاء خبر رساں اداروں کی خبریں اکٹھا کرنے کے دائرہ کار کو بڑھانے جبکہ دوسری طرف شرکاء ممالک کے نکتہ نظر کو وسعت ملے گی۔

مجھے یقین ہے کہ کانفرنس کے مختلف سیشنزکے دوران آپ جیسے تجربہ کار پیشہ ور ماہرین اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھرپور تبادلہ خیال اور مستقبل میں اس قسم کی کانفرنسوں کے انعقاد کا میکنزم یا اقدامات تجویز کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ خبر رساں اداروں سے وابستہ صحافی مختلف ممالک اور خطہ کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں فعال کردار ادا کر سکتے ہیں اور وہ یہ کام سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی نظاموں کے بارے میں معلومات دینے سے کرتے ہیں۔

ہمیں یقین ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان قریبی روابط اور دو طرفہ تعلقات میں بھی مدد کر سکتے ہیں اس کے علاوہ وہ سیاحت، اقتصادی اور سماجی ترقی کی نئی راہیں کھولنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ مختلف ممالک کے شرکاء کو پاکستان ، اس کے سماجی، اقتصادی ، سیاسی رہن سہن اور پاکستان کی دہشت گردی اور شدت پسندی کیخلاف جاری جنگ کے متعلق جاننے کا بھی موقع ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات بڑی حوصلہ افزاء ہے کہ پاکستان ان عناصر کو شکست دینے کے اپنے اغراض و مقاصد کے حصول میں کامیاب رہا ہے اور پا کستان میں امن بحال کر کے ایسا ماحول پیدا کر دیا گیا ہے جو کہ سرمایہ کاری کیلئے سازگار ہے۔ پاکستان کو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بھی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری ((سی پیک)) اور بین الاقوامی سطح پر جیو سٹرٹیجک تبدیلیوں کے جنوبی ایشیائی ممالک پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں لہٰذا آزاد اور خود مختار دنیا کیلئے ناگزیر ہے کہ وہ تمام علاقائی اور بین الاقوامی حالات و واقعات کو ان کے حقیقی تناظر میں دیکھیں اور اپنے لوگوں کو ان کے متعلق معلومات فراہم کریں۔

انہوں نے کہا کہ عالمگیریت اور ایک دوسرے پر انحصار کرنے والی اس دنیا میں نمایاںخبر رساں اداروں کی کانفرنس میں 22 ممالک کے میڈیا کے پیشہ سے وابستہ ماہرین شرکت کر رہے ہیں جس سے ان اداروں کے مابین مختلف شکلوں میں میڈیا تعاون کے عمل میں تیزی آئے گی اور ان کے درمیان خبروں، ویڈیو، فوٹوز اور آئیڈیاز کے تبادلوں کے ذریعے پائیدار اور دیرپا تعاون کی بنیاد بن جائے گی، اس سے انہیں مقابلہ اور مسابقت کے اس مشکل ترین ماحول میں فوری اور صحیح خبریں دینے کے چیلنج پر پورا اترنے میں مدد ملے گی جس میں بعض اوقات سوشل میڈیا کسی ذمہ داری کے بغیر ہی اکثر بازی لے جاتا ہے۔

تیز تر معلومات کے بہائو سے کانفرنس عوامی روابط اور ان ممالک کے مابین سیاحت کے فروغ میں معاون ہو گی ، کانفرنس میں جو مرکزی موضوعات اور بنیادی عنوانات دیئے گئے ہیں ان سے مندوبین کو پاکستان کی حقیقی تصویر اور دہشت گردی اور شدت پسندی پر قابو پانے میں پاکستان کی کامیابیوں کی داستان ملے گی۔