پاکستان میں اس وقت 100سے زائد ٹی وی چینلز ‘20سے زائد ریڈیو سٹیشنز ‘2ہزار سے زائد اخبارات اور جرائد عوام میں شعور اجاگر کرنے میں اہم کر دار ادا کررہے ہیں ‘ آئین کے مطابق اظہار رائے کی مکمل آزادی اور اطلاعات تک مکمل رسائی ہے ‘ پاکستانی میڈیا سائوتھ ایشیاء مین فعال میڈیا کے طور پر خدمات سرانجام دے رہا ہے ‘ پاکستان کی پریمیئر نیوز ایجنسی اے پی پی نے بین الاقوامی نیوز ایجنسز کانفرنس کے ذریعے مختلف ممالک کے میڈیا ہائوسز کے نمائندوں اور پاکستانی صحافیوں کو میڈیاکو درپیش چیلینجز حوالے سے تبادلہ خیال کا موقع فراہم کیا ہے

قائم مقام وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات شفقت جلیل کا خبر رساں اداروں کے مابین اشتراک کار کے فروغ کیلئے ’’پاکستان کا میڈیا: مواقع اور چیلنجز‘‘ کے عنوان سے 2 روزہ ’’انٹرنیشنل کانفرنس آف نیوز ایجنسیز‘‘ سے خطاب

اتوار مئی 16:30

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) قائم مقام وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات شفقت جلیل نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت 100سے زائد ٹی وی چینلز ‘20سے زائد ریڈیو سٹیشنز ‘2ہزار سے زائد اخبارات اور جرائد ہیں جو کہ عوام میں شعور اجاگر کرنے میں اہم کر دار ادا کررہے ہیں ‘پاکستان کے آئین کے مطابق اظہار رائے کی مکمل آزادی اور اطلاعات تک مکمل رسائی ہے ‘ پاکستانی میڈیا سائوتھ ایشیاء مین فعال میڈیا کے طور پر خدمات سرانجام دے رہا ہے ‘ پاکستان کی پریمیئر نیوز ایجنسی نے بین الاقوامی نیوز ایجنسز کانفرنس کے ذریعے مختلف ممالک کے میڈیا ہائوسز کے نمائندوں اور پاکستانی صحافیوں کو میڈیاکو درپیش چیلینجز حوالے سے تبادلہ خیال کا موقع فراہم کیا ہے۔

وہ خبر رساں اداروں کے مابین اشتراک کار کے فروغ کیلئے ’’پاکستان کا میڈیا: مواقع اور چیلنجز‘‘ کے عنوان سے 2 روزہ ’’انٹرنیشنل کانفرنس آف نیوز ایجنسیز‘‘ (آئی سی این ای)سے خطاب کر رہے تھے ۔

(جاری ہے)

کانفرنس کا افتتاح وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کیا ۔قومی سلامتی کے مشیر لیٹفیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی تھے ۔

ایم ڈی اے پی پی مسعود احمد ملک ‘وزارت اطلاعات و نشریات اور اے پی پی کے حکام بھی موجود تھے ۔آئی سی این اے میں چین،، انڈونیشیا، آذربائیجان، ایران،، رومانیہ، اومان، بلغاریہ، ترکی،، مصر،، قزاخستان، لبنان، سوڈان، تیونس، سعودی عرب اور شام سمیت 18 ممالک سے 22 مندوبین شریک ہیں ۔سیکرٹری اطلاعات شفقت جلیل نے کہا کہ موجودہ صدی کو بجا طور پرمیڈیا کا زمانہ کہا جاسکتا ہے کیونکہ میڈیا سے زیادہ کسی اور چیز نے ہماری زندگیوں کو متاثر نہیںکیا ۔

صرف ایک صدی میں انسان نے اخبار سے پاک دنیا سے موبائل کمیونیکشن تک کا سفر طے کیا ہے۔ میڈیا نے ہمارے معاشرے میں ہمیشہ نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ میڈیا ،ایک عرصے سے لوگوں اوران کی تفریح کو کنٹرول کرنے کے حربے کے طورپر ا ستعمال ہو رہا تھا۔ پرانے وقتوں میں جب اخبار اور ٹیلی ویژن نہیں تھے تو لوگ ادب کو معلومات کے حصول اور بادشاہ ، ملکہ اور جنگجوئوں کیی کہانیوں اور کتابوںکو تفریحی کے ذرائع کے طور پر استعمال کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ آج میڈیا ہماری زندگی، معاشرے، حکومت اور طرز حکمرانی کا لازمی حصہ بن چکاہے۔ آج ہر شخص روزانہ اوسطاً چار گھنٹے ٹی وی دیکھنے یا اخبار پڑھنے میں صرف کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ اخبار ، ٹیلی ویژن، ریڈیو اور میگزین اپنی افادیت کھو رہے ہیں اور سوشل میڈیا کی حکمرانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب سمارٹ فون رکھنے اور کسی بھی واقعہ کی تصویر بنا کر اس پر ایک فقرہ تحریر کرکے اسے سوشل میڈیا پر شیئر کر نے والا ہر شخص صحافی کہلاسکتا ہے۔

اس صورتحال نے صحافیوں اور میڈیا پرسنز کی ذمہ داریوں میںکئی گنا اضافہ کرد یا ہے اور اسے سنھبالنا پیچیدہ تر کردیا ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ریگولیٹری باڈیز کی ذمہ داریاں بے پناہ بڑھ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روایتی میڈیا، ریڈیو، ٹیلی ویژن ، میگزین اور اخبارات کو سوشل میڈیا سے حقیقی معنوں میں خطرہ لاحق ہے۔ وقت کم اور مقابلہ سخت اور سب سے پہلے خبر دینے کی دوڑ، میڈیا کی اخلاقی اقدار کو تہس نہس کررہی ہے۔

اس مسئلے سے صرف ترقی پذیر ممالک ہی دوچار نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک بھی اس کی گرفت میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ماحول میںملک کی سب سے بڑی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان ( اے پی پی ) نے ملک اور بیرون ملک سے خبر رساں اداروں کے نمائندوں، میڈیا منیجرز اور سنیئر صحافیوں کو موجودہ دور میں نیوز ایجنیسوں کے کردار پر سیر حاصل گفتگو کا موقع فراہم کرنے کا بیڑہ اٹھایاہے۔

جس کا موضوع ’’ پاکستانی میڈیا : مواقع اور چیلنجز‘‘ ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اے پی پی اس دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس آف نیوز ایجنسز کا انعقاد پاکستان کی 70 ویں سالگرہ کے حوالے سے کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ یہ کانفرنس خبروں کے تبادلے میں تعاون کو مضبوط بنانے اور تیکنیکی وضروری اقدامات کی نشاندہی میں معاون ثابت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل کمیونیکشن کے اس دور میں خبر میں موجود حقائق کو غیر جانبدار بنانے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کا نقطہ نظر بے پناہ اہمیت اختیار کر گیا ہے جس میں لا محالہ طور پر قومی خبر رساں اداروں کا کردار اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے مختلف ممالک کے نمایاں خبر رساں اداروں کی یہ کانفرنس ان کے مابین مختلف شکلوں میں میڈیا تعاون کے عمل میں تیزی لانے اور ان کے درمیان خبروں، ویڈیو، فوٹوز اور آئیڈیاز کے تبادلوں کے ذریعے پائیدار اور دیرپا تعاون کی بنیاد بنانے میں معاون ثابت ہوگی اس کے علاوہ کانفرنس سے انہیں مقابلہ اور مسابقت کے اس مشکل ترین ماحول میں فوری اور صحیح خبریں دینے کے چیلنج پر پورا اترنے میں مدد ملے گی ۔