شمالی کوریا اورامریکا کے درمیان مفاہمت سے کشمیریوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے

صدر آزاد کشمیر سردار مسعودخان کا واشنگٹن میں پاکستانی امریکن کانگریس کی تقریب سے خطاب پاکستانی نژاد امریکی دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اور دوستی کے فروغ میں اہم کردار ادا کررہے ہیں، اعزاز چوہدری

اتوار مئی 16:30

واشنگٹن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) صدر آزاد کشمیر سردار مسعودخان نے امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان تصادم سے بچنے کے لئے ہونے والی پیش رفت پر کا حوالہ دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کو یقینی کے لئے مسئلہ کشمیر کا بھی سیاسی حل نکل آئے گا۔یہ بات صدر آزاد کشمیر نے کیپٹل ہل میں پاکستانی امریکی کانگریس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اس تقریب کا اہتمام پاکستانی امریکی کانگریس (پی اے سی) نے پاکستانی امریکی کانگریس کے 27ویں سالانہ دوستی کے دن کو منانے کے لئے کیا۔جس میں امریکا میں پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری اورکئی امریکی ارکان نے بھی خطاب کیا۔مہمان خصوصی صدرآزاد کشمیر نے امریکا اور پاکستان سے بھی اپنے دورانی اختلافات کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ اہداف کے حصول لئے مل کر کام کرنے کی راہ تلاش کرنے کے لئے وہ 70 سال سے زیادہ تعاون کی تاریخ کا استعمال کریں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا ماضی میں ایک دوسرے کے اہم اتحادی رہے ہیں اورانہیں اپنے تعلقات کودوبارہ پٹڑی پر ڈالنیکے لئے کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سرد جنگ کے دوران دونوں ممالک کی شراکت،80 ء کے دہائی میں افغان جنگ اور دہشتگردی کے خلاف جنگ نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا بھرپور ورثہ چھوڑا ہے جسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

جزیرہ نما کوریا میں پیدا ہونے والی حالیہ مثبت پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا ہے کہ کشمیروں کی شمالی کوریا اور جنوبی کوریا اور امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان مفاہمت سے حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔سردار مسعود نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری اپنے حق خود ارادیت کے حصول تک آزادی کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل قریب میں مسئلہ کشمیر کا سفارتی حل نکل آئے گا۔اس موقع پر پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی نژاد امریکی دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اور دوستی کے فروغ میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔