سپریم کورٹ کا قرض معاف کروانیوالوں کے خلاف کاروائی کا فیصلہ ،8222 افرادکونوٹس جاری ،8جون کوطلب

2 افراد کے خلاف ضابطہ قرضے معاف کرائے ہیں‘ کمیشن نے تمام افراد کے خلاف انکوائری کی سفارش کی ہے،84ارب روپے کے قرض معاف کروائے گئے،قرض معاف کرنے والوں کے خلاف کاروائی ہو گی چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے ریمارکس

اتوار مئی 18:20

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے تمام قرض معاف کروانے والے 222 افرادکوطلب کرنے کا نوٹس جاری کر دیا،،چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ 222 افراد کے خلاف ضابطہ قرضے معاف کرائے ہیں‘ کمیشن نے تمام افراد کے خلاف انکوائری کی سفارش کی ہے‘ ۔ اتوار کو سپریم کورٹ میں قرضے معاف کرانے سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔

(جاری ہے)

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ گورنر اسٹیٹ بنک نے کمیشن رپورٹ کی سمری جمع کرادی ہے چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ گورنر سٹیٹ بنک خود کہاں ہیں 222 افراد نے خلاف ضابطہ قرضے معاف کرائے تمام 222 افراد کو نوٹس جاری کرینگے ۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ84ارب روپے کے قرض معاف کروائے گئے، قرض معاف کرنے والوں کے خلاف کاروائی ہو گی ۔ کمیشن نے 222 افرادکیخلاف کارروائی کی سفارش کی تھی۔۔عدالت نے قرض معاف کرانیوالے 222 افرادکونوٹس جاری کر دیے اور آٹھ جون تک جواب طلب کرلیا۔